تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
Bihar

چندونہ کالج کے نام کے بورڈ سے اردو ہٹائے جانے پر ہنگامہ، طلبہ اور مقامی لوگوں میں شدید غصہ

(پی این این)
سیتامڑھی:چندونہ کالج کے مرکزی دروازے پر نصب نام کی تختی (سائن بورڈ) کو لے کر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے برسوں پرانی روایت کو بدلتے ہوئے سائن بورڈ سے اردو زبان کو ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد طلبہ، مقامی باشندوں اور دانشور طبقے میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، کالج کے مرکزی دروازے پر ہمیشہ سے کالج کا نام ہندی اور اردو، دونوں زبانوں میں درج رہتا تھا۔ تاہم حال ہی میں دروازے کی تزئین و آرائش یا نئے سائن بورڈ کی تنصیب کے دوران اردو کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ نئے بورڈ پر ہندی کے ساتھ میتھلی زبان میں کالج کا نام تحریر کیا گیا ہے، جبکہ اردو کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس تبدیلی پر مقامی لوگوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میتھلی ہماری تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹا دینا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں زبانوں کو مساوی احترام ملنا چاہیے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے، اس لیے کسی سرکاری یا منظور شدہ تعلیمی ادارے کے سائن بورڈ سے اردو کو ہٹانا ریاست کی لسانی پالیسی اور آئینی جذبے کے خلاف ہے۔ طلبہ نے کہا، “ہم میتھلی زبان کا مکمل احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹانا سراسر غلط فیصلہ ہے۔ اردو ہماری شناخت ہے اور بہار کی دوسری سرکاری زبان بھی، اس لیے اسے پہلے کی طرح سائن بورڈ پر دوبارہ درج کیا جائے۔”اس معاملے پر کالج انتظامیہ کے خلاف طلبہ اور مقامی شہریوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی دروازے پر فوری طور پر اردو میں بھی کالج کا نام دوبارہ تحریر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سلسلے میں کالج انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر لکھے جانے تک ان کی جانب سے کوئی بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔