تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
Bihar

ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش

(پی این این)
پٹنہ:نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کو بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات میں تین نشستوں پر شکست اور پٹنہ گریجویٹ حلقے میں اندرونی طور پر دھوکہ ملنے کا زخم ابھی بھرا نہیں ہے۔ پارٹی کے اندر اس معاملے کو لے کر کشمکش جاری ہے۔ تاہم، پارٹی قیادت سبھی کو منانے اور مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایک وزیر پر جن سوراج کے امیدوار کی مدد کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔
جے ڈی یو نے کل اپنی چاروں نشستوں، جن پر پارٹی کو کامیابی یا شکست ملی، کا جائزہ لیا۔ قانون ساز کونسل کے انتخابی نتائج سے سامنے آنے والے زخموں پر مرہم رکھنے کی یہ کوشش ہر نشست کے لحاظ سے الگ الگ جائزہ لینے کی صورت میں سامنے آئی۔ چار میں سے تین نشستوں پر پارٹی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی قیادت نے ہر نشست کے متعلقہ امیدوار سے الگ الگ بات چیت کی۔ یہ ایسی میٹنگ تھی جس میں ایک نشست سے متعلق بات دوسری نشست سے وابستہ افراد تک نہیں پہنچنے دی گئی۔
جائزہ میٹنگ میں ریاستی حکومت کے ایک وزیر کو لے کر بھی سوالات اٹھے۔ اس وزیر پر الزام ہے کہ انہوں نے پٹنہ گریجویٹ نشست پر اپنی ہی پارٹی کے مجاز امیدوار کے خلاف میدان میں اترنے والے جن سوراج کے امیدوار کی نہ صرف مدد کی بلکہ مالی تعاون بھی فراہم کیا۔ جے ڈی یو کے اندرونی حلقوں میں اس معاملے کو لے کر کافی چرچا ہے۔
دوسری جانب پارٹی باضابطہ طور پر مرکزی وزیر راجیو رنجن عرف للن سنگھ کے خلاف اٹھائے گئے سوالات کو مسترد کر رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جائزہ میٹنگ میں نیرج کمار نے نہ تو للن سنگھ کے خلاف کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی کوئی شکایت کی ہے۔
قانون ساز کونسل کے انتخابات میں جے ڈی یو کے حصے میں چار نشستیں آئی تھیں، جبکہ اس کے اتحادی بی جے پی نے بھی چار نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ انتخابی نتائج سے واضح ہوا کہ جے ڈی یو کے امیدواروں کو سارن اور ترہت میں بی جے پی کے باغی امیدواروں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نتائج آنے کے چند ہی گھنٹوں بعد، دونوں آزاد امیدوار، راہل راج اور ونشی دھر برجواسی، جنہوں نے ابھی بی جے پی کی رکنیت بھی حاصل نہیں کی تھی، حمایت دینے کے لیے بی جے پی دفتر پہنچ گئے۔
اس معاملے پر جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے بھی ناراضگی ظاہر کی۔ جے ڈی یو کے دونوں شکست خوردہ امیدواروں نے کھل کر اپنی بات رکھی۔ خاص طور پر ترہت گریجویٹ حلقے سے تقریباً 20 ہزار ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہارنے والے ابھیشیک جھا نے انتخابی نتائج کے بعد ایک طویل ٹوئٹ کیا۔

متعلقہ خبریں