تازہ ترین
جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,این سی آر میں نمو بھارت ٹرین پروجیکٹ کو منظوری ملنے کا امکاناحتجاج کے درمیان پولیس کی سخت کارروائی،20پر ایف آئی درجنریندر مودی نے ہٹلر کو بھی چھوڑ دیاہے پیچھے:کجریوال
Bihar

چندونہ کالج کے نام کے بورڈ سے اردو ہٹائے جانے پر ہنگامہ، طلبہ اور مقامی لوگوں میں شدید غصہ

(پی این این)
سیتامڑھی:چندونہ کالج کے مرکزی دروازے پر نصب نام کی تختی (سائن بورڈ) کو لے کر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے برسوں پرانی روایت کو بدلتے ہوئے سائن بورڈ سے اردو زبان کو ہٹا دیا گیا ہے، جس کے بعد طلبہ، مقامی باشندوں اور دانشور طبقے میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، کالج کے مرکزی دروازے پر ہمیشہ سے کالج کا نام ہندی اور اردو، دونوں زبانوں میں درج رہتا تھا۔ تاہم حال ہی میں دروازے کی تزئین و آرائش یا نئے سائن بورڈ کی تنصیب کے دوران اردو کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ نئے بورڈ پر ہندی کے ساتھ میتھلی زبان میں کالج کا نام تحریر کیا گیا ہے، جبکہ اردو کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس تبدیلی پر مقامی لوگوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میتھلی ہماری تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹا دینا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں زبانوں کو مساوی احترام ملنا چاہیے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے، اس لیے کسی سرکاری یا منظور شدہ تعلیمی ادارے کے سائن بورڈ سے اردو کو ہٹانا ریاست کی لسانی پالیسی اور آئینی جذبے کے خلاف ہے۔ طلبہ نے کہا، “ہم میتھلی زبان کا مکمل احترام کرتے ہیں، لیکن اردو کو ہٹانا سراسر غلط فیصلہ ہے۔ اردو ہماری شناخت ہے اور بہار کی دوسری سرکاری زبان بھی، اس لیے اسے پہلے کی طرح سائن بورڈ پر دوبارہ درج کیا جائے۔”اس معاملے پر کالج انتظامیہ کے خلاف طلبہ اور مقامی شہریوں میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی دروازے پر فوری طور پر اردو میں بھی کالج کا نام دوبارہ تحریر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس سلسلے میں کالج انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر لکھے جانے تک ان کی جانب سے کوئی بیان یا وضاحت سامنے نہیں آئی تھی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔