uttar pradesh
ریاست میں آئین کے ساتھ کیاجارہا ہے کھلواڑ،اکھلیش یادونے بھرتی امتحانات میں پیپر لیک اور ریزرویشن گھوٹالے کایوگی سرکار پر لگایاالزام
(پی این این)
پریاگ راج:سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اتوار کو پریاگ راج میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ریاستی حکومت پر بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے اور ریزرویشن میں گھوٹالے کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی مدت کار کے دس سال مکمل ہونے والے ہیں، لیکن نوجوانوں، طلبہ اور پسماندہ، دلت اور اقلیتی (پی ڈی اے) طبقے کو انصاف نہیں ملا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین کے تحت حاصل حقوق اور عزت و احترام کے ساتھ منظم انداز میں کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی پارٹی کی جانب سے جاری کردہ “پی ڈی اے ریزرویشن گھوٹالہ آڈٹ” میں 22 بھرتی امتحانات میں ریزرویشن سے متعلق بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن حکومت نے اب تک کسی بھی الزام کا جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایودھیا سے متعلق جاری “سماجوادی آڈٹ-2: رام نگری میں گورکھ دھندا” کتابچہ میں بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کا حکومت جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں بھرتی کے عمل کا سلسلہ اشتہار، امتحان، پرچہ لیک، عدالت، لاٹھی چارج اور آخرکار بھرتی منسوخ ہونے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ داروغہ بھرتی، نل کوپ چالک بھرتی، ٹی ای ٹی، ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ بورڈ امتحانات، سپاہی بھرتی، آر او-اے آر او، نیٹ-پی جی اور لیکھ پال بھرتی سمیت کئی امتحانات پرچہ لیک کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داروغہ بھرتی چھ سال تک التوا کا شکار رہی۔
انہوں نے کہا کہ اگر سماج وادی پارٹی کی حکومت بنی تو امیدواروں کو عمر کی حد میں رعایت دی جائے گی، جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہر بھرتی کے لیے سالانہ بھرتی کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ امیدواروں کو ان کے قریب ترین امتحانی مراکز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ خواتین اور معذور امیدواروں کو اپنے آبائی ضلع میں امتحان دینے کی سہولت دی جائے گی۔
uttar pradesh
سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم
سنبھل:آل انڈیا اقلیتی کانگریس کے زیراہتمام ترین کیمپس میں ایک اہم ضلعی سطحی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس 27 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر دلت اور اقلیتی کانگریس کی طرف سے منعقد ہونے والے زبردست احتجاج کی تیاری اور کارکنوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی اتر پردیش اقلیتی کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری ناصر چودھری تھے۔
پروگرام کی صدارت ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف پردھان نے کی اور نظامت عارف خان تنویر نے کی۔مہمان خصوصی جناب ناصر چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں آئین، جمہوریت، سماجی انصاف اور دلتوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کے اتحاد، بھائی چارے اور آئینی اقدار کے تحفظ کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج عوامی مفاد، سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کے عزم کی علامت ہوگا۔ انہوں نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے سنبھل ضلع کے تمام کانگریس اراکین اور اقلیتی کانگریس کارکنوں سے بڑی تعداد میں دہلی پہنچنے کی اپیل کی۔اپنے صدارتی خطاب میں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جناب محمد عارف ترکی نے کہا کہ کانگریس پارٹی سماج کے ہر طبقے کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرنے کا کام کر رہی ہے۔
کانگریس نے ہمیشہ دلتوں، اقلیتوں، کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور سماج کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے اور لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیمی طاقت کانگریس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے تمام عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مضبوط کریں اور 27 جولائی کو جنتر منتر کے احتجاج میں بڑی تعداد میں پہنچ کر کامیاب بنائیں۔
کانفرنس میں تنظیم کی مضبوطی، آئندہ سیاسی پروگرام، عوامی رابطہ مہم اور دلت اور اقلیتی برادریوں سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام کارکنوں نے متحد ہو کر کانگریس پارٹی کے نظریہ کو عوام تک پہنچانے اور سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا۔اس موقع پر ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف ترکئی، مشیر خان ترین ،عارف خان تنویر، ضلع صدر اقلیتی، ضلع نائب صدر سنیل یادو، ضلع نائب صدر اشرف انصاری، سابق سٹی صدر توقیر احمد، ضلع نائب صدر ڈی کے۔ والمیکی، سلیم سیفی، سٹی صدر چندوسی سنجیو ساہو، پروشوتم پال، یوتھ کانگریس کے ضلع نائب صدر امت کمار، ریاستی نائب صدر آر ٹی آئی ڈپارٹمنٹ اٹھاول، راشد سیفی، محمد ارشاد، نعمان حیدر، تحصیل سیفی، راحت جان، تابن خان، سرفراز سیفی، نعیم انصاری، نعیم انصاری، عرفان خان اور دیگر موجود تھے۔
کسان مورچہ کے ضلع صدر عقیل احمد، حاجی مرغوب عالم، سٹی صدر شیوکشور گوتم، قاسم خان، ڈاکٹر مرغوب کے علاوہ کانگریسی عہدیداران، اقلیتی کانگریس کارکنان اور سینئر کانگریسی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
uttar pradesh
انصاف اور حقوق کے لیے اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت کو مضبوط کریں
دیوبند: مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کی شام سہارنپور منعقدہ مجلس کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات2027 کے لیے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں کارکنان اور حامی موجود تھے، جبکہ پارٹی نے بی جے پی کو روکنے کے لیے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بھی واضح اشارے دیے۔اپنے خطاب میں اسد الدین اویسی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کیا جاتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان تعلیم یافتہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ضرور ہے، لیکن یہاں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جبکہ مسلمانوں میں گریجویٹ افراد کی تعداد صرف تقریباً ساڑھے تین سے ۵ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے کے بجائے انہیں قانونی طور پر باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان اداروں کے بند ہونے کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً تین ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ اعظم خان اور ان کے بیٹے انتخابات نہیں لڑ سکتے، لیکن حکومت کو وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اویسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی بھی قوم کو انصاف اسی وقت ملتا ہے جب اس کا اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف نمائندوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسے نمائندوں کا ہونا ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا بھی ذکر کرتے ہوئے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی آبادی ملک میں تقریباً 19 فیصد ہے، لیکن شرح تعلیم انتہائی کم ہے، خصوصاً مسلم خواتین کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں اور اسی لیے تعلیمی اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے۔اپنے خطاب میں اویسی نے تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، آئینی حقوق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اتر پردیش میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاسی قیادت تیار کرنا چاہتی ہے، تاکہ محروم طبقات کی آواز مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو پہچانیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو بے خوف ہو کر ان کے حقوق کی بات کر سکیں۔ اسد الدین اویسی نے اپنے انداز میں تقریر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کو بھی نشانے پر لیا، ساتھ ہی انہوں نے مقامی سیاستدانوں پر بھی سخت تنقید کی۔ جلسے کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے مغربی اتر پردیش کے صدر مہتاب چوہان نے بھی خطاب کیا۔ اسد الدین اویسی کے انتخاب جلسے میں زبردست بھیڑ رہی اور بے قابو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی کا سہارا لینا۔ یہاں کارکنان کی بھاری تعداد موجود تھی اور بھیڑ بے قابو ہو گئی اور حامی اپنے لیڈر کو دیکھنے کے لیے بے قابو ہو گئے، حالانکہ بعد میں پروگرام بحسن خوبی اختتام کو پہنچا۔
uttar pradesh
لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) اسمبلی الیکشن میں اتارے گی امیدوار
دیوبند:اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے مدنظر لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) نے اپنی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اترپردیش کے پارٹی انچارج اور ایم پی ارون بھارتی کے ساتھ ملاقات کرکے الیکشن کی پالیسی سے متعلق کافی غور وفکر کیا ۔
اس میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد جمعہ کے روز دیوبند واپس آنے پر لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے بتایا کہ قومی صدر چراغ پاسوان نے پارٹی کے سبھی عہدیداران سے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی تشہیر کرنے اور عوامی بہبود کی پالیسیوں کو لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔پوجا گرگ نے بتایا کہ منعقدہ میٹنگ میں آنے والی اسمبلی الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی کی بہتر کارکردگی کے لئے سبھی 403؍ سیٹوں پر سیاسی بساط بچھانے کی تیاری کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران قومی صدر نے واضح کیا کہ لوک جن شکتی پارٹی اترپردیش میں پوری قوت کے ساتھ الیکشن لڑے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہے اپنے دم پر تنہا الیکشن لڑے یا کسی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن کے میدان میں اترے دونوں صورتوں میں ان کا مقصد اترپردیش میں اپنی پہچان بنانا اور تنظیم کو مضبوط کرنا ہے ۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
