add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہماری ترجیح:ریکھا – sachkiawaz.com
Connect with us

دلی این سی آر

دہلی کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہماری ترجیح:ریکھا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے مغربی دہلی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن اینڈ سیکنڈری ٹرانسپورٹیشن منصوبے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر محترمہ گپتا نے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد صرف کچرا اٹھانا نہیں، بلکہ ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی، شفاف اور عوام پر مرکوز ٹھوس کچرے کے بندوبست کے لیئے نظام تیار کرنا ہے۔ یہ نیا نظام گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کو زیادہ موثر، وقت کا پابند اور جواب دہ بنائے گا نیز صاف ستھری، صحت مند اور خوبصورت دہلی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن کے پاس بر وقت وسائل اور جدید سامان کی کمی تھی۔ کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں کی کمی، خستہ حال ڈھلاؤ (ڈمپنگ پوائنٹس) اور محدود مشینری کی وجہ سے صفائی کا نظام متاثر ہوتا تھا۔ اب ان کمیوں کو دور کرتے ہوئے جدید کمپیکٹر سے لیس ٹرانسفر اسٹیشن تیار کیے جا رہے ہیں، جو نہ صرف تکنیکی طور پر اہل ہیں بلکہ دیکھنے میں بھی جاذبِ نظر ہیں۔ یہ نظام صرف مغربی دہلی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ مرحلہ وار طریقے سے پوری دہلی میں نافذ کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صاف ستھری، سبز اور ترقی یافتہ دہلی کی تعمیر صرف سرکاری کوششوں سے نہیں، بلکہ عوامی شراکت داری سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے شہریوں سے گھر گھر کچرا جمع کرنے کے نظام میں تعاون کرنے، گیلے اور سوکھے کچرے کو الگ الگ کرنے کو یقینی بنانے نیز اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور عوامی شراکت کے باہمی ربط سے دہلی ملک کے سب سے صاف ستھرے اور منظم دار الحکومت کے طور پر قائم ہوگی۔
دہلی کے شہری ترقیات کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ مغربی دہلی میں ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن اینڈ سیکنڈری ٹرانسپورٹیشن منصوبہ صفائی کے نظام کو جدید بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ گھر گھر سے وقت کا پابند کچرا جمع کرنے، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور شکایت کے ازالے کے بہتر نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت دار الحکومت میں صاف ستھرا، شفاف اور عوام پر مرکوز ٹھوس کچرے کے بندوبست کے لیئے نظام تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ جدید گاڑیوں، اسمارٹ مانیٹرنگ اور بہتر بنیادی ڈھانچے کے ذریعہ مغربی دہلی کے لاکھوں شہریوں کو صفائی کی بہتر سہولیات کا فائدہ ملے گا۔دہلی کے وزیرِ ماحولیات سردار منجندر سنگھ سرسا نے اس موقع پر کہا کہ دہلی حکومت نے یہ یقینی بنایا ہے کہ اب گھروں سے کچرا صرف ایک بار نہیں، بلکہ صبح اور شام، دن میں دو بار اٹھایا جائے گا۔ جدید کچرا جمع کرنے والی گاڑیوں اور کارپوریشن کے جدید نظام کے ذریعہ دار الحکومت کو صاف ستھرا اور منظم بنانے کی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے لیے وہ میونسپل کارپوریشن کے تمام حکام، ملازمین اور ان کی پوری ٹیم کو دل سے مبارکباد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کبھی جن سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر اور گندگی عام منظر ہوا کرتا تھا، آج وہاں جدید کچرے کی دیکھ بھال کا نظام اور بہتر شہری سہولیات دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اچھی حکمرانی، دور اندیش قيادت اور عوامی اعتماد کی علامت ہے۔ دہلی کے سب سے بڑے چیلنجوں میں شامل کچرے کے پہاڑوں کو ختم کرنے کا کام بھی غیرمعمولی رفتار سے چل رہا ہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

نوئیڈا میں میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی سڑک

Published

on

(پی این این)
نوئیڈا: نوئیڈا میں میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی سڑکنوئیڈا میں بننے والی ایلیویٹیڈ سڑک کا کچھ حصہ میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گا۔ آئی آئی ٹی روڑکی نے اس مجوزہ ایلیویٹیڈ روڈ کے لیے ڈی پی آر تیار کر کے اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔
اس پر تقریباً 300 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے۔مہامایا فلائی اوور کو نوئیڈا کے یمنا پل سے جوڑنے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر لمبی ایلیویٹڈ سڑک کچھ حصوں میں تقریباً 20 میٹر اونچی ہوگی۔ میجنٹا میٹرو لائن کا ٹریک اس علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ اونچائی اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ ایلیویٹڈ روڈ میٹرو لائن کے اوپر سے گزرے گی۔آئی آئی ٹی نے اس پروجیکٹ کے لیے ڈی پی آر اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔ چیلا ایلیویٹڈ روڈ دہلی کے میور وہار فلائی اوور سے نوئیڈا کے مہامایا فلائی اوور تک بنائی جا رہی ہے۔ یہ ایلیویٹڈ سڑک دہلی کے چللا ریگولیٹر سے بنائی جا رہی ہے اور یہ میور وہار فلائی اوور سے جڑے گی۔ نوئیڈا میں یہ ایلیویٹڈ روڈ مہامایا فلائی اوور کے قریب اترے گی۔ یہاں سے سیکٹر 94 یمونا پشتہ کو جوڑنے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر لمبی ایلیویٹڈ سڑک تعمیر کی جائے گی۔ یہ ایلیویٹڈ سڑک میٹرو کی میجنٹا لائن کے اوپر سے گزرے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں اب تک دو ایلیویٹیڈ سڑکیں بنائی گئی ہیں۔آئی آئی ٹی روڑکی نے اس مجوزہ ایلیویٹیڈ روڈ کے لیے ڈی پی آر تیار کر کے اتھارٹی کو پیش کر دیا ہے۔ تخمینہ لاگت تقریباً 300 کروڑ روپے ہے۔ رقم تبدیلی کے تابع ہے۔ آئی آئی ٹی ٹیم نے اتھارٹی کے حکام کو بتایا کہ میٹرو روٹ کی ہائی ٹینشن لائن 17 میٹر ہے۔ اس کے لیے تین میٹر کی اونچائی سے گزرنے کے لیے ایک اونچی سڑک کی ضرورت ہوگی۔ یہ ایلیویٹڈ روڈ زیر تعمیر چلہ ایلیویٹڈ روڈ سے جڑے گی اور مہامایا فلائی اوور اور دلت پریرنا ستھال کے درمیان سڑک کو پار کرے گی۔محکمہ آبپاشی نے جمنا پشتہ پر مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ اسے مکمل ہونے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے۔ اتھارٹی پہلے ہی پہلی قسط جاری کر چکی ہے۔
یمنا پشتہ جو سیکٹر 94 سے سیکٹر 135 تک جاتی ہے کئی جگہوں سے ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بارش کے موسم میں سفر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیہاتوں، سیکٹروں اور سوسائٹیوں میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اس علاقے سے گزرتی ہے۔ اب مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ پشتہ کا یہ حصہ تقریباً 11 کلومیٹر طویل ہے۔ سڑک کی مرمت اور ری سرفیسنگ کا کام تقریباً 35 کروڑ روپے کی لاگت سے کیا جائے گا۔ اتھارٹی نے جون میں محکمہ آبپاشی کو پہلی قسط کے طور پر ₹ 11 کروڑ ادا کیے تھے۔ اتھارٹی نے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے محکمہ آبپاشی سے تین بار ملاقات بھی کی۔ حکام نے بتایا کہ یہ چار لین والی پستہ سڑک 2014 میں بنائی گئی تھی۔ تب سے اب تک اس کی مرمت نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں پوری سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی ہوائی اڈے کا تیسرا رن وے 20 ستمبر سے ہوگا شروع

Published

on

نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈائل) نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے (11 آر/29 ایل) کو 20 ستمبر سے پھر آپریشن میں لایا جائے گا۔ڈائل نے بتایا کہ رن وے کے جامع بحالی پروگرام اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ملنے کے بعد اسے دوبارہ آپریشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بحالی کا یہ پروجیکٹ فروری 2026 میں شروع ہوا تھا، جس میں آپریشنل حفاظت، کارکردگی، صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے جامع کام کیے گئے۔
پروجیکٹ کے تحت رن وے کی سطح کی تجدید، رن وے 29 ایل کے مستقل تھریشولڈ میں تبدیلی، نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے (آر ای ٹی زیڈ 1) کی تعمیر، ہوائی اڈے کے گراؤنڈ لائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، رن وے کی سطح کو مضبوط بنانے کے کام اور متعلقہ سول و الیکٹریکل بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ ڈائل کے مطابق، ان اصلاحات سے رن وے کی فعال صلاحیت کو بڑھانے، طیاروں کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے، رن وے پر طیاروں کے رہنے کا وقت کم کرنے اور مختلف موسمی حالات میں آپریشنل اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کے دوران ڈائل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی)، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تمام مقررہ حفاظتی، آپریشنل اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 20 ستمبر سے رن وے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملی ہے۔ ڈائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پردیپ پانیکر نے کہا کہ رن وے 11 آر/29 ایل کو دوبارہ چالو کیا جانا دہلی ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے تیار ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جانا حفاظت، آپریشنل عمدگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید رن وے کے ساتھ نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے نیز بہتر نیویگیشن اور لائٹنگ کا نظام دہلی ہوائی اڈے کی صلاحیت اور استحکام کو مزید بڑھائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ڈائل نے کہا کہ دوبارہ چالو ہونے والے رن وے دہلی ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی اور مستقبل میں بڑھنے والے ایئر ٹریفک کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرے گا نیز عالمی ہوا بازی کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کے مطابق آپریشنز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ یہ رن وے 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ 17 سالوں سے مسلسل آپریشن میں تھا، جس کے دوران اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی گئی اور 2017 میں اس کی معمولی بحالی بھی کی گئی تھی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

خواتین کمیشن کا 100 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ا سپا سنٹر پر چھاپہ

Published

on

گروگرام :گروگرام میں جائز کاروبار کی آڑ میں چلنے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی میں گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے سیکٹر 90 کے سفائر 90 مال میں ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا۔ رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہنے والی چھ گھنٹے کی سخت چیکنگ مہم کے دوران 18 اسپائر سنٹروں کے اندر چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تقریباً 30 خواتین اور 20 مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر آٹھ سپا سنٹرز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیوں کے پختہ ثبوت ملے۔پولیس کو سیفائر 90 مال میں واقع سپا سنٹرز میں غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں اور اس خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی از خود کی گئی تھی۔ 100 سے زیادہ پولیس افسران کی ایک ٹیم نے بیک وقت مال کو گھیر لیا اور چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ آپریشن کے دوران 18 سپا سنٹرز میں سے 8 سے اہم الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ڈیٹا، مجرمانہ دستاویزات اور دیگر جسمانی ثبوت قبضے میں لیے گئے۔ اس ثبوت کو استعمال کرتے ہوئے، پولیس اب اسپا سینٹرز کے حقیقی مالکان، آپریٹرز، منیجرز اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کے کردار کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
چھاپے کے دوران سپا سنٹرز سے تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد پائے گئے۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اوشا پریہ درشنی کی موجودگی میں ان خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن حالات میں کام کر رہی تھیں اور کیا انہیں کسی گینگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے افراد کے کردار، ان کی موجودگی کی وجوہات اور ان کی شہادتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس پورے آپریشن کی ابتدائی تفتیش اور ضبطی کا عمل ابھیلکش جوشی، اے سی پی ہیڈکوارٹر-1، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر اسپیشل پولیس آفیسر کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ گروگرام پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منظم جرم یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو تجارتی جگہوں کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس شہر میں ایسے دیگر مقامات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network