Connect with us

uttar pradesh

یوپی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ میںحاصل کی ہے بڑی کامیابی ، ریاست میں ایکسپریس وے، ہائی وے اور سڑکوں کا بچھا ہےجال ،لگی ہیں نئی صنعتیں اور شہرکاری کا بڑھا ہےدائرہ:یوگی

Published

on

(پی این این)
گورکھپور:اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کی صبح گورکھپور سے ایک ہی دن میں 35 کروڑ پودے لگانے کے ریکارڈ ہدف والی ریاست گیر شجرکاری مہم’مہایگیہ 2026‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت گورکھپور لنک ایکسپریس وے پر بھگوان پور ٹول پلازہ کے قریب’تریوینی‘ (نیم، پیپل اور برگد) کا پودا لگایا اور اس موقع پر ایک سیلفی بھی لی۔ اس کے بعد گورکھناتھ مندر واپس لوٹتے ہوئے انہوں نے تال رنگ روڈ کے کنارے’مولشری‘ کا پودا بھی لگایا۔
شجرکاری مہم کے سلسلے میں گیڈا سیکٹر 28 میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا”گزشتہ نو سالوں میں جہاں اتر پردیش میں مادی اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے، وہی جنگلات کے رقبے (گرین کور) میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کے بعد سے ریاست میں ایکسپریس وے، ہائی وے اور سڑکوں کا جال بچھا ہے، نئی صنعتیں لگی ہیں اور شہرکاری کا دائرہ بڑھا ہے۔ لیکن اس مادی ترقی کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے شجرکاری میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
درختوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جب زمین پر ایک درخت اگتا ہے تو وہ سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نو سالوں میں یوپی میں جنگلات کا رقبہ بڑھنے کی وجہ سے 6 کروڑ 37 لاکھ 74 ہزار 130 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہوئی ہے اور 4 کروڑ 63 لاکھ 90 ہزار 130 ٹن آکسیجن کا اخراج ہوا ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شجرکاری مہم کی تھیم ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ماں ہر انسان اور جاندار کے لیے کائنات کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی صحت کی تو فکر کرتے ہیں، لیکن سب کچھ دینے والی دھرتی ماتا کی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہمیں خود تندرست رہنا ہے، تو زمین کو بھی تندرست رکھنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔ ماحولیاتی بحران کا اثر اب موسم کے سائیکل پر بھی صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا’’اس سال جو بارش 15 جون سے شروع ہونی چاہیے تھیں، وہ لگ بھگ ایک مہینہ تاخیر سے شروع ہوئی ہیں۔ جو بیج 15 جون تک بویا جانا تھا، اسے اگر 15 جولائی کو بویا جائے گا، تو اس سے فصل کی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں موسم شدید ہو رہے ہیں؛ کبھی گرمی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو کبھی سردی۔ خدشہ ہے کہ مستقبل میں کئی ساحلی شہر سمندر میں ڈوب جائیں گے اور کہیں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔ سردیوں میں کئی شہر ’گیس چیمبر‘ بن جاتے ہیں، جہاں بچوں اور بزرگوں کے لیے الرٹ جاری کرنا پڑتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے سوال اٹھایا کہ یہ خوفناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟ انہوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں نے اپنے مفاد کے لیے فطرت کے ساتھ کھلواڑ کیا، اندھا دھند درخت کاٹے، پانی کا بے تحاشا استعمال کیا لیکن واٹر ہارویسٹنگ پر توجہ نہیں دی، اور تالابوں پر ناجائز قبضے کیے۔ آج پوری انسانیت اس کی قیمت چکا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر اس سال 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر 5 کروڑ پودے لگائے گئے۔

 

uttar pradesh

پروجیکٹ منیجر نے مزدوروں کو یرغمال بناکر بے رحمی سے پیٹا

Published

on

دیوبند:دیوبند میں سڑک کی تعمیر کے پروجیکٹ کے منیجر پر مزدوروں کو یرغمال بناکر مارپیٹ کرنے ،مزدوری کی اجرت کی ادائیگی نہ کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
مرد مزدوروں کے ساتھ تقریباً ایک درجن خواتین مزدوروں نے بھی دیوبند کوتوالی پہنچ کر اس سلسلہ میں شکایت درج کرائی ہے ۔پروجیکٹ منیجر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ خواتین مزدوروں کی جانب سے اپنی اجرت مانگنے پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گالی گلوچ کا بھی سہارا لیاگیا ۔اس پورے واقعہ کا تعلق دیوبند شوگر فیکٹر ی کے علاقہ میں ایک سڑک کی تعمیر سے متعلق ہے ۔رنسورہ گائوں کے باشندہ پنکج نے دیوبند کوتوالی میں تحریر دیتے ہوئے بتایا کہ پروجیکٹ منیجر کی جانب تاج پور کے باشندہ امت اور مظفر نگر کے جاٹان خان پور کے کئی باشندے راجو ،ارجن ،سمندر ،کالا،گوپی اور ننہا کے 1 ؍لاکھ 56؍ ہزار روپے مزدوری کے باقی ہیں ۔تحریر میں بتایا گیا ہے کہ 2؍ اگست کو اپنی مزدوری کی رقم مانگنے پر مذکورہ منیجر نے انہیں تقریباً 24؍ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا اور اس دوران بڑی بے رحمی کے ساتھ ان کی پٹائی کی گئی ۔
پنکج نے بتایا کہ یرغمال بنائے گئے مزدوروں کو بے رحمی سے پیٹنے کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ کی گئی اور آئندہ رقم کا مطالبہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ کلسٹھ گائوں کی باشندہ خواتین شملا،اندرا ،سویتا ،جسویری ،موسم ،رینو ،مناکشی ،ریکھا ،پھولو اور نشٹھا سمیت دیگر خواتین مزدوروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مارچ مہینہ کے تقریباً 42؍ ہزار روپے اور فی الحال کی جانے والی 11؍ دنوں کی مزدوری کے 56؍ ہزار روپے پروجیکٹ منیجر نے ادا نہیں کئے ۔خواتین مزدوروں کا کہنا ہے کہ مزدوری کی رقم مانگنے پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گالیاں دی گئیں ۔پولیس نے پروجیکٹ منیجر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف ملنے والے تحریر کی بنیاد پر معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

نانوتہ میں آزاد سماج پارٹی کی جائزہ میٹنگ، پارٹی کو بوتھ سطح تک مضبوط بنانے پر زور

Published

on

دیوبند:قصبہ نانوتہ کے گنگوہ روڈ پر واقع دھرم شالہ میں آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کی ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں پارٹی کے ضلع عہدیداران، سیکٹر صدور، سیکٹر انچارج، نگر ٹیم، بوتھ صدور اور بڑی تعداد میں فعال کارکنوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر سچن کھرانہ اور پارٹی کے سینئر رہنما و سابق چیئرمین افضال خان نے کہا کہ تنظیم کو ہر بوتھ، ہر گاؤں اور ہر وارڈ تک مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس موقع پر سیکڑوں نئے کارکنوں کو پارٹی کی مختلف تنظیمی ذمہ داریاں بھی سونپیں اور ان سے پوری دیانت داری کے ساتھ فرائض انجام دینے کی اپیل کی۔ ضلع صدر سچن کھرانہ نے کہا کہ آزاد سماج پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ہر طبقے کے افراد کو مساوی عزت و احترام اور نمائندگی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر چندر شیکھر آزاد کی پالیسیوں اور نظریات کو گھر گھر پہنچانے کے لیے کارکنان کو سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ سابق چیئرمین افضال خان نے کہا کہ نئے عہدیداروں کی تقرری سے ضلع میں تنظیم مزید مضبوط ہوگی اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کو اس کا فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھانے اور پارٹی کو نچلی سطح تک منظم کرنے کی اپیل کی۔ اس کے علاوہ اسمبلی صدر انیل کمار، اسمبلی انچارج مہتاب علی، ضلع نائب صدر پرتھوی راج سنگھ، کسان مورچہ ضلع صدر سردار ہرپال سنگھ، مولوی اسد علی اور کونسلر دانش ملک نے بھی خطاب کرتے ہوئے تنظیمی استحکام اور عوامی رابطہ مہم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر امجد خان، فراز صدیقی، صادق سیفی، نسیم صدیقی، مستقیم منصوری، سابق پردھان نعیم خان سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عہدیداران موجود رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

کالج آف نرسنگ میں بی ایس سی نرسنگ کے طلبہ کے لیے اورینٹیشن پروگرام منعقد

Published

on

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کالج آف نرسنگ میں نئے داخلہ لینے والے بی ایس سی نرسنگ، پہلے سمسٹر کے طلبہ (بیچ 2026-27) کے لیے ایک اورینٹیشن پروگرام پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی کی رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔ انہوں نے کالج کی نمایاں پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بی ایس سی نرسنگ کی نشستوں کو20 سے بڑھا کر 60 کیا گیا اور طلبہ کے لیے با معاوضہ انٹرن شپ کی بھی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر کے او ایس ڈی پروفیسر اصفر علی خان، اور مہمانان خاص ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد، پرنسپل جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج پروفیسر انجم پرویز، پرنسپل پیرا میڈیکل کالج پروفیسر قاضی احسان علی، اور اسسٹنٹ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ جے این ایم سی ایچ، محترمہ ہما روحی کا خیرمقدم کیا۔
پروفیسر فرح اعظمی نے نووارد طلبہ کو کالج کے وژن، مشن، تعلیمی معیار اور نظم و ضبط سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری، ہمدردی، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کو ایک کامیاب نرسنگ پیشہ ور کی بنیادی خصوصیات کے طور پر اپنائیں۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر اصفر علی خان نے طلبہ کو نرسنگ کے پیشے کے انتخاب پر مبارکباد پیش کی اور معیاری طبی خدمات کی فراہمی کے لیے لگن، ہمدردی، نظم و ضبط اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔دیگر مہمانوں نے طلبہ کو تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے، اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو مضبوط بنانے، اخلاقی اقدار کی پاسداری اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے صحت کے نظام میں نرسوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اے ایم یو میں دستیاب تعلیمی و طبی تربیت کے مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔پروگرام کے دوران ٹیوٹر محترمہ مہوش مسیح نے طلبہ کو تعلیمی ضوابط، ہاسٹل اور امتحانی پالیسی، لائبریری کی سہولیات، کلینیکل تربیت، ہم نصابی سرگرمیوں اور نرسنگ کے طلبہ سے متوقع پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق سے آگاہ کیا۔
آخر میں بی ایس سی نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ مس تنو سنگھ نے کلمات تشکر ادا کئے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network