Connect with us

اتر پردیش

اے ایم یو میں ہر گھر ترنگا مہم،شجرکاری اور حب الوطنی پر مبنی سرگرمیاں منعقد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ملک کے 79 ویں یوم آزادی سے قبل متعدد سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی جارہی ہیں جس میں وکست بھارت یووا کنیکٹ اور ہر گھر ترنگا جیسے قومی موضوعات کے تحت متعدد پروگرام شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، اسکولوں اور ثقافتی اکائیوں کی جانب سے یہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں اساتذہ، طلبہ، اور عملہ کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی) میں ’وکست بھارت 2047 میں نوجوانوں کا کردار‘ موضوع پر ایک گروپ ڈسکشن منعقد کیا گیا، جسے یونیورسٹی ڈیبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب اور کلب فار شارٹ ایوننگ کورسز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔
ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی، پروفیسر محمد نوید خان اور پروفیسر نازیہ حسن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قابل تجدید توانائی، شجرکاری، دیہی ترقی، کم لاگت کی ہاؤسنگ، شمولیتی تعلیم، اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے موضوعات پر کام کرنے کی تلقین کی۔سی ای سی کے اراکین نے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، خلائی تحقیق کی کامیابیاں، نئی تعلیمی پالیسی، تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا کردار، یو پی آئی کے ذریعے مالی قیادت، اور ماحولیاتی آگہی جیسے اہم امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حکومت ہند کی اسکیموں جیسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، دیہی رہائشی اسکیمیں، اور محروم طبقات کے لیے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
یہ سیشن مس آمنہ عاصم اور مس مدیحہ ناز کی نظامت میں مکمل ہوا۔ اختتام پرشرکاء کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اختراع، کاروبار، اور بیداری سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا حلف دلایا گیا۔ اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر نے ’ذاتی زندگی میں کاؤنسلنگ کا کردار: بہبود کی جانب ایک راستہ‘ موضوع پر آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا۔بنارس ہندو یونیورسٹی کی پروفیسر نشاط نے دماغی صحت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے طلبہ کی کاؤنسلنگ کی اہمیت اجاگر کی۔ پروفیسر رفیع الدین اور ڈاکٹر نشید امتیاز نے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر سارہ جاوید نے پروگرام کی نظامت کی۔

اتر پردیش

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت شعری نشست کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت ایک بامقصد اور فکرانگیز شعری نشست و کاویہ پاٹھ کا انعقاد وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی زیرِ نگرانی ہائبرڈ ہال ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک میں کیا گیا۔ اس ادبی پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، ان کی آزادی، خودمختاری، مساوات اور بااختیار بنانے کے پیغام کو شاعری اور نظموں کے ذریعے طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔ اس نشست نے ادب کو سماجی بیداری کے ایک طاقتور وسیلے کے طور پر پیش کیا، جہاں اشعار اور نظموں کے ذریعے عورت کے وجود، اس کی شناخت، اس کے خواب اور اس کے حقوق کو نہایت دلنشیں انداز میں اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر شعبۂ ہندی کی استاذ ڈاکٹر آرادھنا آستھانہ نے شعری نشست اور کاویہ پاٹھ کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاویہ پاٹھ ہندوستانی ادبی روایت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جو نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری میں عورت صرف حسن و محبت کی علامت نہیں بلکہ طاقت، حوصلے، مزاحمت اور خود شناسی کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق زبان و ادب کے ذریعے خواتین کے وقار، خودمختاری اور سماجی بیداری کے پیغام کو زیادہ گہرائی اور اثر پذیری کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شویتا اگروال نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشن شکتی محض خواتین کے تحفظ کی مہم نہیں بلکہ ان کے ذہنی، تعلیمی، تخلیقی اور قائدانہ استحکام کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اور ادبی اظہار طالبات کو اپنی آواز بلند کرنے، اپنے تجربات بیان کرنے اور اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب عورت اپنی بات شعر اور نظم کے پیرائے میں پیش کرتی ہے تو وہ صرف احساسات کا اظہار نہیں کرتی بلکہ اپنے حق، اپنی آزادی اور اپنی خودمختاری کا اعلان بھی کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں لیگل اسٹڈیز کے ڈاکٹر انشل پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ مشن شکتی خواتین کے قانونی حقوق، سماجی تحفظ اور انصاف تک رسائی کے شعور کو فروغ دینے کی ایک مضبوط مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ہمیشہ سے ظلم، ناانصافی اور سماجی نابرابری کے خلاف ایک توانا آواز رہی ہے۔ ادب اور قانون کا باہمی رشتہ معاشرے میں برابری، انصاف، احترامِ نسواں اور انسانی وقار کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب حقوق کی زبان شاعری کے آہنگ سے ملتی ہے تو اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر دیرپا ہوتا ہے۔
شعبۂ اردو کے ڈاکٹر ظفر النقی نے کہا کہ اردو شاعری کی روایت میں عورت کے کردار کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ کلاسیکی اور جدید اردو شاعری میں عورت کبھی محبت کی علامت، کبھی صبر و استقامت کی مثال اور کبھی مزاحمت، خودداری اور بیداری کی آواز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض، پروین شاکر، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسے شعرا و شاعرات نے عورت کے احساسات، اس کے مسائل اور اس کے حقوق کو شاعری کا موضوع بنا کر سماج میں بیداری پیدا کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی شعری نشستیں طلبہ میں زبان و ادب سے شغف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے تئیں حساسیت، احترام اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ایس سی اور بی اے پروگراموں کے داخلہ امتحانات منعقد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)، بی ایس سی ایگریکلچر، بیچلر آف آرٹس (بی اے) اور بی اے فارین لینگویجز کورس میں داخلے کے لیے ملک بھر کے مختلف مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کئے۔
بی ایس سی اور بی ایس سی ایگریکلچر کے لیے صبح کے سیشن میں ہونے والے امتحان میں کل 9,339 درخواست دہندگان میں سے 7,828 امیدوار شریک ہوئے۔ یہ امتحانات علی گڑھ، لکھنؤ، کولکاتا، سری نگر، پٹنہ، کوژی کوڈ، امپھال اور کھاناپارہ (گوہاٹی) سمیت مختلف مراکز پر منعقد ہوئے۔بی اے اور بی اے فارین لینگویجز پروگراموں کے لیے 6,264 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن کے داخلہ امتحانات دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد ہوئے۔
کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے امتحانات کے پُرامن اور منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مراکز پر امتحانات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ سینئر اساتذہ کو مبصرین کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ علی گڑھ سے باہر کے مراکز پر نگراں مقرر کیے گئے تھے تاکہ بہتر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان میں شریک طلبہ اور ان کے والدین کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کیمپس میں اہم مقامات پر نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے خصوصی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے تھے۔

Continue Reading

اتر پردیش

اے ایم یو میں اقلیتی خواتین کیلئے انٹرپرینیورشپ ٹریننگ پروگرام کا آغاز

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:وزارتِ اقلیتی امور کی ”پردھان منتری وراثت کا سمرودھن (پی ایم وِکاس) اسکیم“ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ’لیڈرشپ اینڈ بیسک انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ‘ کے عنوان سے ایک تربیتی پروگرام کا آغاز اے بی کے یونین گرلز اسکول میں کیا گیا۔ اسے خصوصی طور پر اقلیتی خواتین کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین میں کاروباری صلاحیت، قیادت اور خود انحصاری کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے 241 شرکاء نے اندراج کرایا ہے جن کی ٹریننگ کا آغاز ہوچکا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان کی سرپرستی میں اس پروگرام کی نگرانی پروفیسر آسیہ چودھری (نوڈل آفیسر) کر رہی ہیں۔ پروفیسر آسیہ چودھری نے بتایا کہ ٹریننگ کے اگلے مرحلے کا آغاز مئی کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے اور پروگرام کی رسائی بڑھانے کے لیے مزید بیچ شروع کیے جائیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network