تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
اتر پردیش

اے ایم یو میں ہر گھر ترنگا مہم،شجرکاری اور حب الوطنی پر مبنی سرگرمیاں منعقد

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ملک کے 79 ویں یوم آزادی سے قبل متعدد سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی جارہی ہیں جس میں وکست بھارت یووا کنیکٹ اور ہر گھر ترنگا جیسے قومی موضوعات کے تحت متعدد پروگرام شامل ہیں۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، اسکولوں اور ثقافتی اکائیوں کی جانب سے یہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں اساتذہ، طلبہ، اور عملہ کے اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی) میں ’وکست بھارت 2047 میں نوجوانوں کا کردار‘ موضوع پر ایک گروپ ڈسکشن منعقد کیا گیا، جسے یونیورسٹی ڈیبیٹنگ اینڈ لٹریری کلب اور کلب فار شارٹ ایوننگ کورسز نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔
ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی، پروفیسر محمد نوید خان اور پروفیسر نازیہ حسن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قابل تجدید توانائی، شجرکاری، دیہی ترقی، کم لاگت کی ہاؤسنگ، شمولیتی تعلیم، اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے موضوعات پر کام کرنے کی تلقین کی۔سی ای سی کے اراکین نے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، خلائی تحقیق کی کامیابیاں، نئی تعلیمی پالیسی، تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا کردار، یو پی آئی کے ذریعے مالی قیادت، اور ماحولیاتی آگہی جیسے اہم امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ حکومت ہند کی اسکیموں جیسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ، دیہی رہائشی اسکیمیں، اور محروم طبقات کے لیے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
یہ سیشن مس آمنہ عاصم اور مس مدیحہ ناز کی نظامت میں مکمل ہوا۔ اختتام پرشرکاء کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اختراع، کاروبار، اور بیداری سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا حلف دلایا گیا۔ اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر نے ’ذاتی زندگی میں کاؤنسلنگ کا کردار: بہبود کی جانب ایک راستہ‘ موضوع پر آن لائن لیکچر کا اہتمام کیا۔بنارس ہندو یونیورسٹی کی پروفیسر نشاط نے دماغی صحت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے طلبہ کی کاؤنسلنگ کی اہمیت اجاگر کی۔ پروفیسر رفیع الدین اور ڈاکٹر نشید امتیاز نے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، جبکہ ڈاکٹر سارہ جاوید نے پروگرام کی نظامت کی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔