Connect with us

اتر پردیش

ریگنگ ایک منفی اور غیر اخلاقی عمل جو طلبہ کی خوداعتمادی کوکرتا ہے مجروح : ڈاکٹر ممتا شکلا

Published

on

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اینٹی ریگنگ ہفتہ کے تقریری مقابلے کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اینٹی ریگنگ ہفتہ کے تحت طلبہ پر ریگنگ کے منفی اثرات کے موضوع پروائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی رہنمائی میں ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ممتا شکلا نے کی اور ااینٹی ریگنگ ہفتہ کے تحت منعقدہ تقریری مقابلے میں صدرِ اجلاس ڈاکٹر ممتا شکلا نے اپنے خطاب میں ریگنگ کے معاشرتی، تعلیمی اور نفسیاتی نقصانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انھوں نے کہا کہ ریگنگ ایک منفی اور غیر اخلاقی عمل ہے جو نہ صرف طلبہ کی خوداعتمادی کو مجروح کرتا ہے بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ طلبہ خوف، اضطراب اور تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں جو ان کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بنتا ہے۔ڈاکٹر ممتا شکلا نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کا مقصد ایک محفوظ، خوشگوار اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہےجہاں ہر طالب علم عزت و احترام کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریگنگ طلبہ کے مابین بھائی چارے اور اعتماد کو ختم کر دیتی ہے، اس لیے اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کریں، نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہیں اور اپنی توانائی کو تعلیمی و تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کریں تاکہ یونیورسٹی کا ماحول خوشگوار اور تعمیری بنا رہے۔اس تقریری مقابلے میں امن کمار ترپاٹھی ،نندنی شرما،اویشکریادو ،ساکشی،محمد فراز،ویبھو شکلا،شیکھر کمار اوستھی ،محمد ارشد ،محمد ولی اور انش جیسوال کے علاوہ دیگر طلبہ نے بھی حصہ لیا اور اس اہم موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اینٹی ریگنگ پروگرام کے اختتامی موقع پر چیف پراکٹر ڈاکٹر نیرج شکلا نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مقررین نے موضوع کے حوالے سے نہایت جامع اور مثبت خیالات پیش کیے ہیں، جو لائقِ تحسین ہیں۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ یہ خیالات صرف تقریروں اور باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ آپ کی عملی زندگی اور شخصیت کا مستقل حصہ بن جائیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی ریگنگ کے اصول اور اقدار کو محض مہم یا پروگرام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعلیمی ماحول میں باہمی احترام، بھائی چارہ اور ذمہ دارانہ رویے کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے رویے اور کردار سے یہ ثابت کریں کہ وہ ایک محفوظ، خوشگوار اور مثبت تعلیمی ماحول کے قیام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔اس پروگرام میں ڈاکٹر آر کے ترپاٹھی،ڈاکٹر آرادھنا آستھانا اور ڈاکٹر شان فاطمہ کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

uttar pradesh

ڈا کٹر یونس غازی ؔکے قطعات مرقع نگاری کا اعلیٰ نمو نہ :پروفیسر فاروق بخشی

Published

on

میرٹھ:میرٹھ کالج میں کئی ایسی ادبی شخصیات بھی آئیں جنہوں نے یہاں کی مٹی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ایسے ہی اساتذہ میں ڈاکٹر یونس غازیؔ کابھی نام شامل ہے جنہوں نے یہاں رہ کر بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔
 آج یہاں ان کی دو کتابوں ”شعرائے دبستان میرٹھ“ ]قطعات کا مجمو عہ [اور حمدیہ مجموعہ”للہ الحمد“ کا اجراء عمل میں آ یا۔یہ دونوں کتابیں بہت عمدہ ہیں۔ آپ کا اسلوب، طرز ادا لاجواب ہے۔ ان قطعات میں جدت ہے جو مرقع نگاری کا اعلیٰ نمو نہ ہیں۔ یہ ایک ایسی تالیف ہے جو ایک مستند حیثیت رکھتی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف شاعر اور سابق صدر شعبہئ اردو فاروق بخشی کے جو یہاں شعبہئ اردو کے زیر اہتما م منعقدڈاکٹر محمد یونس غازی ؔ کی شعری کاوشوں ”للہ الحمد“اور”شعرائے دبستان میرٹھ“ کی شاندار رسم اجراء کے پروگرام کے دوران مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈا کٹر یونس غازی کا مطا لعہ تو ہے ہی لیکن ان کا مشاہدہ بھی کمال کاہے اور یہ ساری باتیں انہیں ایک قادر الکلام شاعر ثابت کر نے کے لیے کا فی ہیں۔
اس سے قبل پروگرام کا آغازمحمد ندیم نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں فرحت اختر نے اپنی خوبصورت آواز میں ڈاکٹر یونس غازیؔ کی نعت پاک پیش کر کے سماں باندھ دیا۔مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ صدارت کے فرا ئض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے معروف شاعر اور سابق صدر شعبہئ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی، حیدر آباد نے شر کت کی۔ مہانانِ اعزازی کے بطور معروف استاد شاعر انوار الحق شاداں پھلاؤدی،ڈاکٹر یشیکا ساگر]صدر شعبہئ اردو،میرٹھ کالج[ معروف سماجی کار کن عادل چودھری اورآفاق احمد خاں شریک ہوئے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر آصف علی اور نظا مت کے فرائض ڈا کٹرارشاد سیانوی انجام دیے جب کہ شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ارشاد بے تاب نے کہا کہ یہ اردو ہی ہے جس کی محبت اور لگن کی وجہ سے آج اردو کی اتنی بڑی ہستیوں کے ساتھ جنبش لب کر رہا ہوں۔ میں کافی عرصے سے غازی سر کے رابطے میں ہوں۔
۔میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی کتاب میں شامل کیا اور کتاب کا انتساب بھی کیا۔ میں یونس غازیؔ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ذیشان قریشی نے کہا کہ آج یونس غازی صاحب کی دو کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔ میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ جس دن سے پروفیسر اسلم جمشید پوری میرٹھ میں آئے ہیں اردو کے حوالے سے بہت سے کام ہوئے ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔ یو نس غازی صاحب کو بے حد مباک باد۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو آپ کے نام اور کام کو آ گے بڑھا ئیں گے۔
ڈاکٹر شاداب علیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یونس غازیؔ بااخلاق انسان،مشفق استاد اور ایک اچھے ادیب ہیں۔انہوں نے نہ صرف نثر اور نظم دونوں پر طبع آزمائی کی ہے اور دو نوں میدا نوں میں بے مثل کارنامے انجام دیے ہیں کچھ موضو عات قدیم ضرور لگتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے نادر تخیلات کے ذریعے انہیں اچھوتا بنا دیا ہے اور یہ ان کا ایک بڑا کار نامہ ہے۔
معروف صحافی شا ہد چودھری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یونس غازی میں بھی فرہاد کی مانند پہاڑوں کو کاٹ کر جوئے شیر نکالنے کا حوصلہ ہے۔ اجراء شدہ کتابیں ان کی اسی ہمت کو شش اور کاوش کا نتیجہ ہے۔انہوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل دیا ہے۔ دبستان میرٹھ کے جو شعرا وقت کی گرد آلود پرتوں میں فرا موش ہوگئے تھے انہیں ان کی سنہ پیدائش و وفات، ان کے طرزِ سخن ان کی ادبی خدمات کے ساتھ منظر عام پر لانا اور وہ بھی قطعات کی صورت میں یقینا قابل ستائش اور قا بل رشک کام ہے۔شعرائے دبستان میرٹھ ایک کامیاب کوشش اور نایاب تحفہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے کتنا بیش قیمتی سرما یہ ہمارے لیے چھوڑا ہے۔
آفاق احمد خاں نے کہا کہ آج کا یہ جلسہ ایک یاد گار ی جلسہ ہے۔آج جو نسل یہاں بیٹھی ہے وہ آگے چل کر فخر کریں گی کہ ہم نے پروفیسر فاروق بخشی کو دیکھا تھا، پروفیسر یونس غازیؔ کی شاعری کو سنا تھااورپروفیسر اسلم جمشید پوری سے ملے تھے۔ یونس غازی کی غزلیں اسکول میں بچے پڑھتے ہیں۔میرٹھ کو دبستان کا درجہ دلانے کی مہم میں ہمیں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا ہر سطح پر سا تھ دینا چاہئے اور اس خواب کو تعبیر سے ہمکنار ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر یشیکا ساگر نے کہا کہ میں آپ کی بیٹی کی مانند ہوں۔سر نے بہت ہی عمدہ طریقے پر میری تربیت کی۔ آپ نے ہمیشہ ہی بغیر کسی لالچ کے اردو ادب کی خدمات انجام دیں۔ آپ نہ صرف ایک اچھے استاد، شاعر، محقق اور ناقد ہیں بلکہ ایک با اخلاق با مروت اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ میں آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور آپ کی عمر درازی اور صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔آپ آئندہ بھی اردو ادب کی ایسے ہی خدمات انجام دیتے رہیں۔
استاد شاعر انوار الحق شاداں نے کہا کہ آپ صرف شاعر ہی نہیں مفکر بھی ہیں،ناقد اور محقق بھی۔ آپ نے ادب کی زبردست خدمات انجام دیں۔جس عمر میں لوگ تھک جاتے ہیں آپ اس عمر میں بھی کسی نوجوان کی مانند ادبی کاموں میں مصروف ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ آپ آسمان ادب پر یوں ہی چمکتے رہیں۔
عادل چودھری نے کہا کہ میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں اردو کے فروغ کے لیے کار ہائے نمایاں انجام دیے اور ہم جیسوں کو بھی ترغیب دی۔آج ہم بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کررہے ہیں اور ہر ماہ اپنے یہاں پروگرام منعقد کررہے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔میں یہاں موجود سبھی مہمانان پروفیسر فاروق بخشی،ڈاکٹر یونس غازی سبھی کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں۔
اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ آج بڑاتاریخی لمحہ ہے جو خواب ہم نے اس شہر کے لیے دیکھا تھا اس کی تعبیر اب نکل کے آ رہی ہے،میرٹھ جو ایک قدیم شہر ہے۔ہم نے میرٹھ کو دبستان کی حیثیت سے تعارف کرا نے کا عزم کیا ہے۔ یہاں افسانہ نگار، ناول نگار، کالم نگار، طنزو مزاح،محقق سبھی طرح کے ادیب گذرے ہیں لیکن کوئی ناقد نہیں۔ اس لیے میرٹھ کو وہ حق نہیں مل سکا جس کا میرٹھ حق دار تھا۔ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں ہم نے میرٹھ کے شعرا و ادبا پر ایم فل کرائی، اور اب رسائل نکالنے ہیں۔ دبستان میرٹھ ]شاعری[ نکل چکا ہے، دو چار ماہ میں نثر نمبر نکلے گا اور اس کے بعد”مشاہیر میرٹھ“ ہم کوشش کرتے رہیں گے۔پروفیسر یونس غازی نے تاریخی کام کیا ہے۔ انہوں نے ایسے شعرا کا ذکر کیا جو گمنامی کا حصہ بن چکے تھے۔ اسی طرح انہوں نے حمدیہ مجمو عہ لکھ کر بڑا کار نامہ انجام دیا ہے۔ اردو ادب میں حمدیہ مجمو عے کم ہیں۔میرا مقصد بس اتنا ہے کہ میرٹھ اردو کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے اور آسمان ادب پر میرٹھ کا نام خوب منور ہو۔ ابھی ہمارے خواب کی تعبیر باقی ہے۔ آپ سب کا تعاون چاہئے۔ انشاء اللہ ہما را مقصد پورا ہوگا۔
پروگرام میں ڈاکٹر مفتی محمد رضوان، مولانا سید نایاب الدین نایاب،پروفیسر ہما مسعود، ڈاکٹر فرحت خاتون،ڈاکٹر نوید خان، ڈاکٹر شبستاں آس محمد،نذیر میرٹھی،سیدہ مریم الٰہی، صائمہ،سر تاج جہاں،محمد عیسیٰ رانا،محمد فیضان، محمد ہارون،محمد فرمان محمد نعیم، محمد جلیس،فیاض حسن، محمد فیض سمیت کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور عمائدین شہر موجود تھے۔
Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور پہنچاجمعیۃ علماء ہند کا وفد

Published

on

دیوبند:سہارنپور کی تاریخی کلکٹریٹ مسجد کے اندوہناک انہدام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی بہت فکر مند ہیں۔ ان کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ روز جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صوبائی وفد نے دورہ کیا تھا۔ آج جمعیۃ علماء ہند کا اعلیٰ سطحی مرکزی وفد ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں سہارنپور پہنچا اور مسجد کے معاملے میں قانونی اور سماجی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
مرکزی وفد نے اہلِ شہر، مقدمے سے وابستہ قانونی ماہرین، بااثر سیاسی شخصیات اور جمعیۃ علماء کے مقامی ذمہ داران سے تفصیلی ملاقات کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سنجیدہ مشاورت کی۔ وفد نے سابق رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، موجودہ رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، اراضی سے وابستہ مرحوم یعقوب خان کے پوتے فیروز خان، شاہ ہارون خان، ایڈوکیٹ نوشاد اور مقدمے کے فریق ایڈوکیٹ تنویر وغیرہ سے خصوصی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی دستاویزات اور شواہد یکجا کر لیے گئے ہیں، جنہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اور ان کی رہنمائی و مشورے سے اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے انہدام کا طریقہ کار اور کارروائی میں دکھائی گئی غیر معمولی عجلت اہلِ شہر اور انصاف پسند حلقوں کے لیے سخت بے چینی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کو اپنے دفاع اور آئینی حقوق کے استعمال کا موقع دیے بغیر یکایک بلڈوزر چلا دیا جائے یہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
عدالت سے رجوع کا حق محض کوئی رسمی رعایت نہیں بلکہ دستورِ ہند کی روح اور آئینی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے؛ کسی بھی انتظامی کارروائی کو اس انداز میں انجام نہیں دیا جانا چاہیے کہ متاثرہ فریق کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا راستہ ہی عملاً بند ہو کر رہ جائے۔مولانا حکیم الدین قاسمی نے ملک میں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور عبادت گاہوں سمیت ہر شہری کے حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کی اولین ذمہ داری ہے۔سہارنپور کے اس دورے میں مرکزی وفد کی سربراہی ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی۔
، جب کہ ہمراہ وفد مولانا محمد قاسم نوری صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا علی حسن مظاہری صدر جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش، مولانا عظیم اللہ صدیقی سکریٹری ، مولانا محمد یوسف قاسمی اور حافظ ابوبکر ابن مولانا حکیم الدین قاسمی شریک تھے۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے ذمہ داران بھی شانہ بشانہ رہے، جن میں مولانا گلفام مظاہری ضلع صدر، مولانا سرتاج احمد قاسمی جنرل سکریٹری، مولانا شمشیر قاسمی نائب صدر، مولانا اطہر حقانی صدر شہر، مولانا فرید مظاہری کنوینر سدبھاونا منچ، مولانا حارث، قاری شوقین الحسنی، مولانا عبداللہ شاہ، مولانا عبدالعلیم اور مولانا الطاف رشیدی سمیت کثیر تعداد میں مقامی عمائدین و اراکین موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور مسجد معاملہ: کانگریس اورایس پی لیڈران نظربند

Published

on

دیوبند:سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں واقع مسجد کو شہید کئے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔مسجد مسماری کا یہ معاملہ اب پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔اسی درمیان سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے وفود کے سہارنپور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے دونوں پارٹیوں کے کئی لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا ہے ۔
لیڈران کے گھروں کے باہر پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے ۔اور انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔پولیس وانتظامیہ کی اس کارروائی سے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے لیڈران میں سخت ناراضگی ہے ۔واضح ہوکہ مسجد مسماری سے متعلق سیاسی پارٹیوں کے وفد سہارنپور پہنچکر متاثرہ افراد اور مقامی لیڈران سے ملاقات کرنا چاہتے تھے سماجوادی پارٹی کا 22؍ رکنی وفد سہارنپور کے کمشنر ڈاکٹر روپیش کمار سے ملاقات کے لئے جانے والا تھا لیکن انتظامیہ نے ان تمام لیڈران وعہدیداران کو رات کے کسی وقت نظر بند کردیا ۔پارٹی لیڈران نے پولیس وانتظامیہ کے اس اقدام کو جمہوریت کا قتل بتاتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ کارروائی آئین کے خلاف ہے ۔
بتادیں کہ سماجوادی پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی ہدایت پر مجوزہ وفد کو پیر کے روز کمشنر ڈاکٹر روپیش کمار سے ملاقات کرنی تھی ۔اس سلسلہ میں کمشنر کو تحریر ی طور پر مطلع کیا گیا تھا ۔اس وفد میں لال بہاری یادو ،سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر چودھری عبدالواحد ،شہر صدر حاجی نواب انصاری ء،ممبر پارلیمنٹ ہریندر ملک ،ایم پی اقراء حسن ،صوبائی جنرل سکریٹری ،چودھری رودرسین ،سابق ایم پی حاجی فضل الرحمن ،ایم ایل اے آشو ملک ،عمر علی خان ،اتل پردھان ،رام اورتار سینی ،ایم ایل سی کرن پال کشیپ ،سابق ایم ایل اے معاویہ علی ،سماجوادی پچھڑے طبقہ سیل کے قومی صدر راہل بھارتی ،سابق وزیر مملکت مانگے رام کشیپ ،سابق وزیر ونود تیجان ،صوبائی مجلس عاملہ کے رکن فیصل سلمانی ،سماجوادی لیڈر شایان مسعود ،میئر ابھیشیک ٹنکواروڑہ ،مظفر نگر کے ضلع صدر ضیا چودھری ،سماجوادی پارٹی اقلیتی سیل کے ضلع صدر اسامہ گاڑا اور اسمبلی حلقہ کے صدر کاشف علوی شامل تھے لیکن وفد کے سہارنپور پہنچنے سے قبل ہی متعدد لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا گیا ۔آشو ملک نے کہا کہ ہم رکنے والے نہیں ہیں ،قانون کے دائرہ میں رہ کر لڑائی لڑیں گے اور اپنے اعتراف وشکایات درج کرائیں گے ۔مظفر نگر کے ایم پی ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت وانتظامیہ کی تاناشاہی نہیں چلنے دی جائیگی ۔انہوںنے کہا کہ چند لوگ ہی کسی طرح یہاں تک پہنچ پائے ہیں جس میں ایم پی اقراء حسن بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کمشنر سے ملاقات کرکے میمورنڈم دیں گے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network