اتر پردیش
ریگنگ ایک منفی اور غیر اخلاقی عمل جو طلبہ کی خوداعتمادی کوکرتا ہے مجروح : ڈاکٹر ممتا شکلا
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اینٹی ریگنگ ہفتہ کے تقریری مقابلے کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اینٹی ریگنگ ہفتہ کے تحت طلبہ پر ریگنگ کے منفی اثرات کے موضوع پروائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی رہنمائی میں ایک تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ممتا شکلا نے کی اور ااینٹی ریگنگ ہفتہ کے تحت منعقدہ تقریری مقابلے میں صدرِ اجلاس ڈاکٹر ممتا شکلا نے اپنے خطاب میں ریگنگ کے معاشرتی، تعلیمی اور نفسیاتی نقصانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انھوں نے کہا کہ ریگنگ ایک منفی اور غیر اخلاقی عمل ہے جو نہ صرف طلبہ کی خوداعتمادی کو مجروح کرتا ہے بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ طلبہ خوف، اضطراب اور تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں جو ان کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بنتا ہے۔ڈاکٹر ممتا شکلا نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی کا مقصد ایک محفوظ، خوشگوار اور معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہےجہاں ہر طالب علم عزت و احترام کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریگنگ طلبہ کے مابین بھائی چارے اور اعتماد کو ختم کر دیتی ہے، اس لیے اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کریں، نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہیں اور اپنی توانائی کو تعلیمی و تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کریں تاکہ یونیورسٹی کا ماحول خوشگوار اور تعمیری بنا رہے۔اس تقریری مقابلے میں امن کمار ترپاٹھی ،نندنی شرما،اویشکریادو ،ساکشی،محمد فراز،ویبھو شکلا،شیکھر کمار اوستھی ،محمد ارشد ،محمد ولی اور انش جیسوال کے علاوہ دیگر طلبہ نے بھی حصہ لیا اور اس اہم موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اینٹی ریگنگ پروگرام کے اختتامی موقع پر چیف پراکٹر ڈاکٹر نیرج شکلا نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مقررین نے موضوع کے حوالے سے نہایت جامع اور مثبت خیالات پیش کیے ہیں، جو لائقِ تحسین ہیں۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ یہ خیالات صرف تقریروں اور باتوں تک محدود نہ رہیں بلکہ آپ کی عملی زندگی اور شخصیت کا مستقل حصہ بن جائیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی ریگنگ کے اصول اور اقدار کو محض مہم یا پروگرام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعلیمی ماحول میں باہمی احترام، بھائی چارہ اور ذمہ دارانہ رویے کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے رویے اور کردار سے یہ ثابت کریں کہ وہ ایک محفوظ، خوشگوار اور مثبت تعلیمی ماحول کے قیام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔اس پروگرام میں ڈاکٹر آر کے ترپاٹھی،ڈاکٹر آرادھنا آستھانا اور ڈاکٹر شان فاطمہ کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
uttar pradesh
ایس بی آئی کسانوں کو قرض سے متعلق اسکیموں کے بارے میں معلومات دی
uttar pradesh
دنیش کمار وششٹھ نے سماج سے جو لیا تھا وہ سماج کو لو ٹا دیا:پروفیسر اسلم جمشید پوری
uttar pradesh
اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں: خطیب محمد اقبال
آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب مولانا محمد اقبال نے جمعہ کے خطبہ میں مسلمانوں کو اپنی خوشیوں اور تقریبات کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور شکر گزاری کا ذریعہ بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں بہت سی ایسی رسمیں رائج ہو چکی ہیں جنہیں لوگ بغیر سوچے سمجھے اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ ایک مومن کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے تابع ہونا چاہیے۔
انہوں نے خصوصی طور پر سالگرہ (برتھ ڈے) کی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی سالگرہ بڑے اہتمام اور خوشی سے مناتے ہیں، لیکن اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے محض رسموں اور ظاہری مظاہروں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیک پر موم بتیاں روشن کرکے پھر خود ہی انہیں بجھا دینا ایک ایسی روایت بن چکی ہے جس پر لوگ غور و فکر کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔مولانا محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۂ الدہر (الانسان) کی پہلی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے: “کیا انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی نہیں گزرا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟” انہوں نے کہا کہ یہ آیت انسان کو اپنی حقیقت، عاجزی اور اپنے رب کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے۔ انسان اس دنیا میں اپنے اختیار سے نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدم سے وجود بخشا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ جس بچے کی سالگرہ منائی جا رہی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے صحت، قوت، سماعت، بصارت اور محبت کرنے والا خاندان عطا فرمایا۔ ایسی بے شمار نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بنے اور اپنی اولاد کو بھی شکر گزاری کا سبق سکھائے۔
خطیب مسجد نہر والی نے والدین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سالگرہ اور دیگر خوشی کے مواقع کو محض تفریح اور نمود و نمائش تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان مواقع پر بچوں کو دعاؤں، اچھے اخلاق، دینی تعلیمات اور زندگی کے مثبت پیغامات سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں والدین کے پاس اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور یہ سوچیں کہ ان کی تقریبات اور خوشیاں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن رہی ہیں یا محض رسم و رواج کی پیروی کا۔
آخر میں مولانا محمد اقبال نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو دین کی صحیح سمجھ، اپنی نعمتوں کی قدر اور ہر حال میں شکر گزار بننے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اور ہر خوشی اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن سکے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
