اتر پردیش
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں نئے پی ایچ ڈی مقالہ نگاروں کے لیے جامع اوریئنٹیشن پروگرام کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں نئے داخلہ یافتہ پی ایچ ڈی تحقیق کاروں کے لیے ایک مربوط، منظم اور معلوماتی اوریئنٹیشن پروگرام کا انعقاد اٹل ہال میں کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد تحقیق کاروں کو جامعہ کی پالیسیوں، تحقیقی ڈھانچے، علمی وسائل اور قوانین سے واقف کرانا تھا، تاکہ وہ اپنی تحقیقی زندگی کا آغاز باشعور اور منظم انداز میں کرسکیں۔
اس پروگرام کے آغاز میں ریسرچ کوارڈینیٹر پروفیسر چندنا ڈے نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس موضوع کی اہمیت و معنی خیزیت اور ضرورت پر اظہار خیال کیا۔ مختصر استقبالیہ کلمات کے بعد یونیورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں اس پروگرام کو تحقیق کے نئے سفر کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ابتدائی مرحلہ تحقیق کاروں کو علمی دنیا کے بنیادی اصولوں، تحقیقی عمل کی باریکیوں اور اس شعبے کی مخصوص ذمہ داریوں سے روشناس کراتا ہے۔پروفیسر اجےتنیجا نے واضح کیا کہ تحقیق کسی بھی شعبے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور محققین ہی مستقبل کی سمت متعین کرنے والے ’’سنگِ میل‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ انھوںنے نئے اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے تحقیقی موضوعات کا انتخاب کریں جو بدلتی ہوئی سماجی ضروریات اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔
اس اورینٹیشن پروگرام کے مہمان خصوصی اورلکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم کے صدر پروفیسر دنیش کمار نے اپنے خطاب میں ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی تحقیقی مقالے کے موضوع کے تعین سے پہلے نہ صرف اپنی دلچسپی کے مضامین کا مطالعہ ضروری ہے بلکہ تازہ ریسرچ جرنلز، میگزینز اور ڈیجیٹل رپوزیٹریز کا باقاعدہ جائزہ بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ایک اچھی تحقیق کی بنیاد اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب طالبِ علم یہ سمجھ سکے کہ اس موضوع پر پہلے سے کتنا کام ہو چکا ہے اور موجودہ عہد کے مطابق کون سا پہلو نیا یا قابلِ تحقیق ہے۔
انھوں نےطلبہ کو تفصیلی رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ موضوع کی ابتدا بہتر طور پر کلیدی الفاظ طے کرنے سے ہونی چاہیے۔ ان ہی الفاظ کی مدد سے شعبہ جاتی ڈیٹابیسز میں ابتدائی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی موضوع پر متعدد تازہ تحقیقات ملتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس پر خاصا کام موجود ہےتاہم طالب علم انھیں مطالعات کے اندر موجود خلا کو تحقیق کے ذریعے اپنا نیا زاویہ طے کر سکتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ریسرچ اسکالرز کو لٹریچر ریویو کے دورا ن قدیم و جدید حوالہ جات، پی ایچ ڈی تھیسسز اور کانفرنس پروسیڈنگز کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیےجس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موضوع کن جہات سے مکمل ہے اور کہاں مزید تحقیق کی گنجائش باقی ہے۔تبدیل ہو تے وقت اور ڈیجیٹل عہد کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے مشورہ دیا کہ طلبہ اپنے موضوع کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجیکل، سماجی یا انڈسٹری بیسڈ پہلو شامل کریں۔اساتذہ نے مزید کہا کہ اگر کسی موضوع پر پہلے سے بہت زیادہ کام موجود ہو تو طلبہ اسکوب کو محدود کر کے (مثلاً مخصوص علاقے، گروہ یا ٹیکنالوجی تک)، نئی میتھوڈولوجی اختیار کر کے یا تقابلی مطالعہ شامل کر کے اپنے مقالے کو منفرد بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنا ضروری ہےجو یہ بتائے کہ طالب علم کا مطالعہ کیوں منفرد اور عصرِ حاضر سے ہم آہنگ ہے۔
آخر میں انھوں اس بات پربھی زور دیا کہ موضوع طے کرنے کے فوراً بعد طلبہ کو اپنے سپروائزر کے ساتھ ابتدائی نتائج، تلاش شدہ حوالہ جات اور ممکنہ تحقیقی مسائل شیئر کرنا چاہیے تاکہ مقالے کی سمت درست رکھی جا سکے۔ان کے مطابق ایک کامیاب ریسرچ وہی ہے جو موجودہ علمی مباحث، سماجی ضرورت اور نئے فنی رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔اس پروگرام کی نظامت اور شکریے کے الفاظ ڈاکٹر روچیتا سجائے نے ادا کیا۔اس موقع پر اساتذہ کے علاوہ سبھی شعبہ جات کے ریسرچ اسکالرس موجود رہے اور ان ریسرچ اسکالرس نےپروفیسر دنیش کمار سے بہت سے سولات بھی کئے جس کاانھوں نے تشفی بخش جوابات دیا۔
uttar pradesh
جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کوہی دی جائے گی ترجیح ،بی جے پی صدر نتن نبین کی سابق ریاستی صدور اور این ڈی اے کے اتحادی رہنماؤں سے ملاقات، اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا لیا جائزہ
(پی این این)
لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نبین نے اتوار کے روز اپنے دورہِ اتر پردیش کے دوران پارٹی کے سابق صوبائی صدور اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حلیف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کیں اور آنے والے اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
آج صبح منعقدہ میٹنگ میں مسٹر نوین نے بی جے پی کے سابق صوبائی صدور سے ملاقات کی اور تنظیمی تجربات، تنظیمی مضبوطی اور سال 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ میٹنگ میں سینئر لیڈروں نے اپنے تجربات شیئر کیے، جن پر قومی صدر نے سنجیدگی سے گفتگو کی۔
اس کے بعد مسٹر نتن نبین نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس اہم میٹنگ میں راشٹریہ لوک دل سے ترلوک تیاگی، نشان پارٹی سے سنجے نشان، سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) سے اوم پرکاش راج بھر اور اپنا دل (ایس) سے آشیش پٹیل شامل ہوئے۔
میٹنگ کے دوران اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں، جنہیں قومی صدر نے غور سے سنا۔ ذرائع کے مطابق، مسٹر نتن نبین نے واضح کیا کہ سال 2027 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی اور اتحاد کی جانب سے صرف جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو ہی ترجیح دی جائے گی۔
بی جے پی قیادت کا ماننا ہے کہ 2027 کے انتخابات کے پیش نظر تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مزید مضبوط کیا جائے گا اور این ڈی اے کی تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر تال میل قائم کر کے انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ قومی صدر کا یہ دورہ اسی وسیع انتخابی تیاری کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔
uttar pradesh
تعلیمی بیداری کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت،جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چررھو میں جمعیۃ علماء کی میٹنگ میںعلما کا خطاب
(پی این این)
دیوبند:جامعہ دعوۃ الحق معینیہ چررھو رامپور منیہاران میں جمعیۃ علماء کی میٹنگ بعنوان اصلاح معاشرہ تعلیمی بیداری منظم مکاتب کے قیام پر غور و خوض کو خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے نائب صدر مولانا شمشیر قاسمی نے کہا ہے کہ قرآن و حدیث کی رو سے معاشرہ کی اصلاح کا اولین درس اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ سے شروع ہوتا ہے کل روز قیامت ہر شخص سے اس کے ما تحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے اس بات کی کہ اپنی اولاد کے ایمان اور عقائد کی حفاظت کے لیے ہر شخص کو فکر مند رہنا چاہئے۔مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ نوجوان نسل میں ارتداد کے بڑھتے واقعات بتانے کے لیے کافی ہیں کہ اس وقت محنت کی کتنی ضرورت ہے منظم مکاتب ارتداد کے بڑھتے واقعات کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ مولانا شمشیر قاسمی نے کہا ہے کہ معاشرہ کو سودی لعنت نشہ، جوا سٹہ ظلم وزیادتی وہ دیگر جرائم سے پاک کرانے میں ہر مسلمان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرد و خواتین میں درس قران درس حدیث کے حلقہ ہر گھر میں تعلیم و تربیت کا عمومی مزاج بنانے کی ضرورت ہے ۔قاری شوقین الحسنی و مفتی عمیر نے کہا ہے کہ معاشرہ میں تعلیم کی کمی کے سبب بے شمار خرافات نے جنم لیا ہوا ہے۔ تعلیمی بیداری کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر مولانا ثوبان، قاری مکرم حسین ،ماسٹر ارشد ماجری ،مولانا عبد القادر، مولانا قمر ڈاکٹر ثمریاب وغیرہ موجود رہے۔
uttar pradesh
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کی سماجی اور قومی ذمہ داریاں,مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اسلام : فیض الرحمن
(پی این این)
دیوبند:اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف فرد کے ذاتی کردار کی تعمیر کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے اصول بھی طے کرتا ہے۔ انہی بنیادی اصولوں میں ایک انتہائی اہم تصور الولاء والبراء ہے۔ یہ دراصل ایمان کی روح اور اسلامی شناخت کی بنیاد ہے، جو ایک مسلمان کو صحیح اور غلط، حق اور باطل، اور خیر و شر کے درمیان واضح فرق کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مسلم راشٹریہ منچ میرٹھ کے کنوینرفیض الرحمن نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ”الولاء” کے معنی ہیں محبت، وفاداری، تعلق اور حمایت، جبکہ ”البراء” کے معنی ہیں بیزاری، دوری، عدم اتفاق اور دستبرداری۔
اسلامی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اللہ اس کے رسولؐ اور ایمان والوں سے محبت اور وفاداری رکھنی چاہیے، اور ظلم، فتنے اور برائی سے نفرت اور دوری اختیار کرنی چاہیے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس اصول کا بار بار ذکر کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنی فکری اور عملی زندگی میں اعتدال اور راست بازی کو برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اس تصور کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں اور اسے انتہا پسندی، نفرت یا سماجی دوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام کا اصل پیغام اعتدال، انصاف اور انسانی فلاح و بہبود ہے۔ الولاء والبراء کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کی بنیاد پر حق کا ساتھ دے اور باطل سے دور رہے، لیکن ساتھ ہی انسانی ہمدردی، انصاف اور سماجی بھلائی کے اصولوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھے۔
فیض الرحمن نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اپنے معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم (تعاون) دیتا ہے۔ قرآن میں بار بار زمین پر فساد نہ پھیلانے اور اصلاح کی کوششیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے سب سے بہتر انسان اسے قرار دیا ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔اس تناظر میں اگر الولاء والبراء کو سمجھا جائے تو یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی وفاداری کو حق، انصاف، ایمانداری اور انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور انصاف کو فروغ دے۔ وہ تعلیم، صحت، معیشت اور اخلاقیات کے شعبوں میں مثبت کردار ادا کرے اور ہر اس عمل سے بچے جو معاشرے میں انتشار اور بگاڑ پیدا کرے۔انہوںنے کہا کہ اسلام نے شہری حقوق اور فرائض پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ ایک مسلمان جس ملک میں رہتا ہے، وہاں کے قوانین کا احترام کرنا، اس کی سالمیت کی حفاظت کرنا اور اس کی ترقی میں حصہ لینا اس کا مذہبی فریضہ ہے، بشرطیکہ یہ سب شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مثالی ریاست کی بنیاد رکھی، جہاں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگ امن اور انصاف کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی (Peaceful Co-existence) کی تعلیم دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے کردار اور رویے سے دوسروں کے لیے ایک مثال بنے، نہ کہ سختی یا نفرت کے ذریعے انہیں دور کرے۔آج کے دور میں، جب دنیا متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے دین کی صحیح تصویر پیش کریں۔ انہیں تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، سماجی خدمت اور قومی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ دراصل یہی ”الولاء” کا عملی تقاضا ہے کہ ہم اپنے دین اور اقدار کے وفادار رہیں اور انہیں دنیا کے سامنے مثبت شکل میں پیش کریں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
