Uncategorized
ستیندر جین کو امیت شاہ کے حکم پرکیا گیا ہے گرفتار: کجریوال
نئی دہلی :دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی گرفتاری کے بعد عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ AAP سربراہ اروند کیجریوال اپنے قریبی ساتھی ستیندر جین کی گرفتاری کے بعد مرکزی حکومت پر حملہ کر رہے ہیں۔ اب انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کا نام لے کر نیا دعویٰ کیا ہے۔ کیجریوال نے اے سی بی کے ایک افسر سے بات کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جین کو امت شاہ کی کال موصول ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، حالانکہ ایجنسی کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ دریں اثنا، گرفتاری کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں، ستیندر جین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ایسا پنجاب کے انتخابات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی مقدمہ بھی قرار دیا۔
انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے دہلی جل بورڈ کے سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق رشوت ستانی اور ٹینڈر میں ہیرا پھیری کے الزامات کے سلسلے میں ستیندر جین سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ اروند کیجریوال، جنہوں نے اس کیس کو فراڈ کہا ہے، بدھ کو الزام لگایا کہ اے سی بی نے ستیندر جین کو وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر گرفتار کیا۔ انہوں نے اے سی بی کے ایک افسر سے بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔
ایک پوسٹ میں کیجریوال نے لکھا، “اے سی بی کے ایک افسر نے کہا کہ آج صبح تک، اے سی بی کا ستیندر جین کو گرفتار کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پھر دوپہر میں، مجھے امت شاہ کا براہ راست فون آیا، جس میں کہا گیا کہ انہیں گرفتار کر لو، تو میں نے کیا، یہ واضح ہے کہ اب گرفتاریاں اس بات پر نہیں ہیں کہ کسی نے جرم کیا ہے، بلکہ یہ اس بات پر ہے کہ وہ دونوں کس کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔” ایک اور پوسٹ میں، کیجریوال نے پوچھا، “امیت شاہ کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے ستیندر جین کو گرفتار کرنے کے لیے تفتیشی ایجنسی پر دباؤ کیوں ڈالا؟” AAP کے سربراہ کیجریوال نے دعوی کیا کہ یہ ایک “فرضی” مقدمہ ہے، جس طرح جین کے خلاف پچھلا مقدمہ “من گھڑت” تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس بھی بالآخر جھوٹا ثابت ہوگا۔
ستیندر جین، جو پہلے ہی منی لانڈرنگ کیس میں تقریباً ڈھائی سال جیل میں گزار چکے ہیں، بدھ کو جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو سبھی مسکرا رہے تھے۔ کمرہ عدالت کے باہر اس نے مسکراتے ہوئے اپنا پہلا ردعمل دیا۔ جب ان سے ان کی گرفتاری کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب پنجاب کے انتخابات کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ اے سی بی نے ایس ٹی پی ٹینڈر بدعنوانی کیس میں ستیندر جین اور دیگر ملزمان کو راؤس ایونیو کورٹ میں پیش کیا اور 14 دن کی عدالتی تحویل کی مانگ کی۔
Uncategorized
طلبا کوسستی رہائش فراہم کیلئے سرکار پرعزم :ایل جی
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت گرنے سے طلبہ کی موت کے بعد حکومت، انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سبھی متحرک ہو گئے ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہیں زمین تلاش کرنے کا حکم دیا جہاں پی جی بنائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم طلباء کو محفوظ، باوقار، اور سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” ایل جی نے اس کی اطلاع ٹویٹ کر کے ٹویٹر پر ڈی ڈی اے حکام کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین سرون کمار سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا، “یہ میٹنگ طلباء کے لیے متبادل پی جی رہائش کے بارے میں تھی۔ اس میٹنگ کے دوران، میں نے ڈی ڈی اے کو حکم دیا کہ وہ پی جی کے قیام کے لیے مناسب زمین کی نشاندہی کرے۔ اس کے بعد ایک ایکشن پلان تیار کیا جانا چاہیے۔ یونیورسٹی کے اہلکاروں کو شامل کرکے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔” شہر میں ہاسٹل کی سہولیات کی ترقی کے لیے نئے ماسٹر پلان کے تحت کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری توجہ طلباء کو محفوظ، معیاری اور سستی رہائش فراہم کرنے پر ہے۔
دہلی کا ماسٹر پلان 2041 ہاسٹلز اور پی جی کے حوالے سے بھی کچھ اصول طے کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی کرنے والے مہمانوں کو صرف رہائشی اور مخلوط استعمال والے علاقوں میں ہی رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ A اور B زمرہ کے رہائشی علاقوں میں کوچنگ، ٹیوشن سینٹرز، ہاسٹلز اور PGs کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ستیہ نکیتن پی جی عمارت کے گرنے سے دہلی کے شہری بنیادی ڈھانچے کے بارے میں سوالات اٹھ گئے ہیں اور بے تحاشا غیر قانونی تعمیرات کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اس نے طالب علموں کے خراب حالات میں رہنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے کافی رقم خرچ کرنے کے شیطانی چکر کو بھی بے نقاب کیا ہے
Uncategorized
شادی کی تقریب میں 2 فریقوں میں زبردست مارپیٹ
دیوبند:دیوبند میں منعقدہ شادی کی ایک تقریب کے دوران مہمانوں کے دو گروپ میں زبر دست مارپیٹ ہوگئی ۔پرانی رنجش کے سبب ہونے والی اس مارپیٹ میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔متاثرہ فریق نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف دیوبند کوتوالی میں شکایت درج کرائی ۔تفصیل کے مطابق دیوبند کے قاسم پورہ روڑ پر واقع ایک شادی ہال میں پیر کے روز محلہ خانقاہ کے باشندہ عرفان کی بیٹی کی شادی کی تقریب چل رہی تھی۔ اسی دوران پورقاضی قصبہ سے بارات بھی شادی ہال پہنچ گئی ۔بارات پہنچنے کے بعد محلہ خانقاہ کے باشندہ نثار کے بیٹے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر کھانا کھانے کے دوران کچھ لوگوں نے حملہ کردیا ۔الزام ہے کہ دیوبند کے محلہ خانقاہ اور جٹول گائوں کے تقریباً ایک درجن لوگوں نے پرانی رنجش کی سبب لاٹھی ڈنڈوں سے دونوں بھائیوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں وہ شدید طور پرزخمی ہوگئے ۔بتایا جاتا ہے کہ سنیجر کے روز ملزمان اور متاثرہ فریق کے درمیان کیندکی گائوں میں شادی کی ایک تقریب کے دوران تلخ کلامی ہوگئی تھی لیکن اس وقت معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا ۔اسی پرانی رنجش کے سبب آج ملزمان کے گروپ نے محرم اور ان کے بھائی مکرم پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ شادی ہال میں کھانا کھارہے تھے ۔
اچانک ہونے والی اس مارپیٹ کی وجہ سے شادی ہال میں افراتفری پیدا ہوگئی ۔محرم نے تقریباً ایک درجن لوگوں کے خلاف کوتوالی دیوبند میں تحریر دے کر کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے وہیں دوسری فریق نے بھی مارپیٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کوایک تحریر دی ہے ۔
پولیس نے زخمی افراد کا میڈیکل کرانے کے بعد قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
Uncategorized
قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے کردار اور وکست بھارت 2047 کے وژن پر اجلاس
لکھنؤ: قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے اتوار کو اندرا بھون، لکھنؤ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔
اس اجلاس کا مشترکہ انعقاد نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی)، حکومت ہند اور محکمہ اقلیتی فلاح و اوقاف، حکومت اتر پردیش کی جانب سے کیا گیا۔ اجلاس کا موضوع ’’قومی تعمیر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کا کردار اور وکست بھارت2047 کا وژن‘‘ تھا۔
اجلاس کی صدارت این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کی، جبکہ اتر پردیش حکومت کے وزیر مملکت برائے اقلیتی فلاح، اوقاف و حج دانش آزاد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر محکمہ اقلیتی فلاح اتر پردیش کے ڈائریکٹر شیلندر سنگھ یادو سمیت لکھنؤ اور اطراف کے مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے منتظمین، عہدیداران، ماہرین تعلیم اور نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اقلیتی تعلیمی اداروں کو درپیش مختلف مسائل، ان کے حقوق کے تحفظ، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ اور ملک کو سال 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بنانے کے ہدف میں ان اداروں کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے نہ صرف تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایم ای آئی ملک بھر میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور ایسے اداروں کو درپیش انتظامی و قانونی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اداروں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ضروری دستاویزی کارروائی کو بروقت مکمل کریں تاکہ انہیں قانون کے تحت دستیاب تمام سہولیات اور تحفظات حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی حیثیت کا حصول اداروں کو اپنے تعلیمی اور انتظامی امور کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
وکست بھارت@2047 کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر شاہد اختر نے کہا کہ جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو ملک کو ترقی یافتہ، بااختیار اور علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے تمام اقلیتی تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے اداروں کے لیے جامع عملی منصوبے تیار کریں، اہداف کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے اپنے تعلیمی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کم از کم پانچ قابلِ عمل تجاویز تیار کریں اور انہیں کمیشن کے ساتھ شیئر کریں تاکہ پالیسی سازی کے عمل میں زمینی حقائق اور اداروں کی ضروریات کو شامل کیا جا سکے۔
مہمانِ خصوصی دانش آزاد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اتر پردیش حکومت اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع، روزگار کے امکانات اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی فلاح مختلف فلاحی اور تعلیمی اسکیموں کے ذریعے اقلیتی برادری کے طلبہ اور تعلیمی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ جدید تعلیم، ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں کو مزید وسعت دی جائے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
اجلاس میں شریک مختلف اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اداروں کو درپیش مسائل، انتظامی امور، بنیادی سہولیات، تعلیمی معیار میں بہتری اور حکومتی تعاون سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے لیے مسلسل مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء، منتظمین اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہداف اور وکست بھارت@2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور تعلیم کے ذریعے ملک کی ہمہ جہت ترقی میں اپنا حصہ بڑھائیں گے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
