اتر پردیش
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں امبیڈکر میموریل موٹ کورٹ کا افتتاح
(پی این این)
لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے اٹل ہال میں امبیڈکر میموریل موٹ کورٹ کی افتتاحی تقریب شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا آغاز چراغ افروزی کی رسم سے ہوا۔جس کے بعد ہماچل پردیش کے گورنر شیو پرتاپ شکلا نے بی۔آر۔ امبیڈکر موٹ کورٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔اس اہم تقریب میں ہماچل پردیش کے گور نرشیو پرتاپ شکلا نے اپنی صدارتی تقریر میں قانون کی تعلیم اور اس کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قانون کی ڈگری حاصل کر لینا بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہےلیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ اس علم کو عدالت کے اندر کس طرح بروئے کار لا کر انصاف کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ ایک کامیاب وکیل نہ صرف اپنے موکل کے حق کے لیے عدالت تک رسائی کو ممکن بناتا ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔گورنر نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وکالت محض روزگار یا پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مقدس فریضہ ہے جس کا براہِ راست تعلق معاشرتی انصاف اور عوامی بھلائی سے ہے۔ ایک کامیاب وکیل کی ذمہ داری صرف اپنے موکل کا مقدمہ لڑنے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل کردار سماج میں انصاف کے توازن کو قائم رکھنے اور عدلیہ کو مزید مؤثر بنانے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وکالت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریضہ ہے جو براہِ راست سماجی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس شعبے میں داخل ہونے والا ہر طالب علم دراصل انصاف کے وسیع تر نظام کا ایک اہم ستون بنتا ہے۔
لینگویج یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر اجے تنیجا نےاپنے استقبالیہ تقریر میں ہماچل پردیش کے گورنر شیو پرتاپ شکلا اور دیگر مہمانون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے فخر کا مقام ہے کہ یونیورسٹی کے شعبۂ قانون میں موٹ کورٹ کے افتتاح کے لئے ہماچل پردیش کے گورنر شیو پرتاپ شکلا کے ہاتھوں ہونے جارہا ہے۔انھوں نے اپنی استقبالیہ تقریر میں کہا کہ امبیڈکر موٹ کورٹ کے قیام کو قانون کے شعبے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انھوںنے کہا کہ یہ صرف ایک ڈھانچہ یا عمارت نہیں بلکہ ایک ایسا علمی و تربیتی مرکز ہے جو مستقبل کے قانون داں اور وکلاء کو حقیقت میں عدالت کے ماحول سے روشناس کرائے گا۔پروفیسر تنیجا نے موٹ کورٹ کے آپریشن اور منصوبہ جاتی ڈھانچے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں طلبہ کے لیے باقاعدگی سے موٹ مقابلے ، مباحثے اور موک ٹرائلز منعقد کیے جائیں گے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ اپنی قانونی استدلال کی قوت، تحقیقی صلاحیت، دلائل پیش کرنے کی مہارت اور عدالتی رویّے میں نمایاں بہتری پیدا کریں گے۔
اس تقریب کے خصوصی مقررڈاکٹر رام منوہر لوہیا نیشنل لا یونیورسٹی کے وائس چانسلرا مر پال سنگھ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران طلبہ کو نہ صرف اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے بلکہ اپنے مستقبل کے پیشے سے جڑے عملی پہلوؤں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔۔انھوں نے زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وکالت کے پیشے میں زبان سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس تقریب کی نظامت ڈاکٹر نیرج شکلااور شکریہ کے فرائض ڈاکٹر پیوش ترپاٹھی نے ادا کئے ۔اس موقع پر اساتذہ کے علاوہ کثیر تعداد میں طلبہ موجود تھے ۔
اتر پردیش
ملیح آباد قلعہ پر تنازعہ ،مندرہونے کادعویٰ
(پی این این )
لکھنؤ:اتر پردیش کے ملیح آباد میں ایک قلعے کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ ہندوفریق نے اسے مندر ہونے کا دعویٰ کیاہے جبکہ مسلمانوں نے اس کولیکر وقف املاک بتایاہے جس کے کاغذات موجود ہیں۔یہ قلعہ تاریخی اور مذہبی اہمیت ہے ۔غورطلب ہے کہ ملیح آباد کے گاؤں کسمنڈی کلا میں ایک قدیم قلعہ نما ڈھانچہ کو لے کر تنازعہ گہرا ہو گیا ہے۔ ہندو پاسی برادری اور مسلم کمیونٹی نے ڈھانچے کی تاریخی اور مذہبی شناخت کا مقابلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ایک کشیدہ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس تنازعہ کے حوالے سے پاسی برادری کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھن پاسی تنظیم اور پاسی برادری کا دعویٰ ہے کہ کسمنڈی کلا میں پرائمری ہیلتھ سینٹر (PHC) کے پیچھے بنایا گیا یہ ڈھانچہ 11ویں صدی کے طاقتور ناگاونشی بادشاہ کانسا (راجپاسی مہاراج کانسا) کا قدیم قلعہ اور شیو مندر ہے۔پاسی برادری کے ارکان کا کہنا ہے کہ قلعہ نما ڈھانچہ کی دیواروں پر سانپوں، پھولوں اور گلدانوں سے نقش و نگار بنائے گئے ہیں جو کہ ہندو روایت اور فن تعمیر کا حصہ ہیں۔ ان فن پاروں کا اسلامی فن تعمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح ہوکہ مہاراجہ کانسا پاسی کو پاسی برادری میں ایک بہادر اور طاقتور حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس نے تقریباً 980 سے 1031 تک اودھ کے علاقے پر حکومت کی۔ اس کا اثر ملیح آباد، کاکوری، اناؤ، سندیلا اور ہردوئی تک پھیلا۔ لوک داستانیں اور سماجی روایات انہیں ایک جنگجو کے طور پر یاد کرتی ہیں جس نے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف لڑا۔نوادرات کے علاوہ پاسی برادری تاریخ کا حوالہ بھی دیتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب غیر ملکی حملہ آور سید سالار مسعود غازی اودھ کے علاقے میں پہنچے تو بادشاہ کنسہ نے ان کا زبردست مقابلہ کیا۔ ان کا الزام ہے کہ مندر اور قلعہ بعد میں ایک مقبرے اور مسجد میں تبدیل ہو گیا۔اس معاملے میں دوسرا فریق مسلم کمیونٹی ہے۔ مسلم کمیونٹی اور مقامی علماء کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ تاریخی طور پر ایک مسجد اور ایک مقبرہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ کو کئی دہائیوں سے سرکاری اور وقف بورڈ کے دستاویزات میں مسجد اور قبرستان کے طور پر درج کیا گیا ہے، اور وہاں طویل عرصے سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے پاسی برادری کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ہند وفریق کے دعویٰ کے بعد ملیح آباد میں حالات کشیدہ ہیں ۔انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر پی اے سی اور پولیس کو تعینات کیاہے ۔
uttar pradesh
اترپردیش میں بجلی کابحران، عوام پریشان،ریاست میں ناقابل برداشت ’شدید بجلی آفت‘ کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے عوامی غصے سے بچنے کے لیے خوفزدہ ہوکردکھاوے کا خط لکھ رہے ہیں بی جے پی کے ایم ایل اے اور ایم پی :اکھلیش یادو
(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں بجلی کے بحران پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں ناقابل برداشت ’بڑی بجلی آفت‘ کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے عوامی غصے سے بچنے کے لیے خوفزدہ بی جے پی کے ایم ایل اے اور ایم پی دکھاوے کے خط کو کاغذی ڈھال بنا رہے ہیں۔
مسٹر یادو نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط دراصل اپنی حکومت کو لکھا گیا کوئی ’عوامی مفاد کا خط‘ نہیں ہے، بلکہ بی جے پی نامی ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑ کر اپوزیشن سے آئندہ انتخابات میں ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ’درخواست فارم‘ ہے۔
انہوں نے صاف کیا کہ ہمارے اتحاد میں ایسے لیڈروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جو عوام کو دکھ درد اور پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں دیتے۔اکھلیش نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کا حل پوچھنے پر دونوں ہاتھ کھڑے کر کے نعرہ لگا کر بچ نکلنے والوں کے رہتے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت بھی جانتی ہے کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔ اسی لیے وہ عوام کی مشکلات اور مطالبات کو پوری طرح نظر انداز کر کے بس اپنے خزانے بھرنے میں لگی ہے۔ انہوں نے لکھا، ”عوام کہہ رہی ہے آج کا، بوجھ بن گئی بی جے پی۔“
uttar pradesh
گئو کشی کے نام پر مسلمانوں پرکئے جارہے ہیں مظالم،مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوادے رہی ہے بی جے پی:عمران مسعود
(پی این این)
سہارنپور: کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پیر کے روز مرکزی حکومت کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے دباؤ میں مہنگی پیٹرولیم مصنوعات خریدی جا رہی ہیں، جس کے باعث ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں عمران مسعود نے کہا کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دال، چاول، گیہوں، مکئی، پھل، سبزیوں اور دواؤں کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈبل انجن حکومتیں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گئو کشی کے نام پر مسلمانوں پر ظلم ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گئو کشی پر مکمل پابندی لگانے اور گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی سیاست کرتی ہے، جبکہ بی جے پی سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔
عمران مسعود نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بڑا سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ان کے خاندان کا کوئی فرد الیکشن نہیں لڑے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران ان کے بھائی نومان مسعود بھی موجود تھے۔ عمران نے کہا کہ کانگریس ریاست کی تمام 403 اسمبلی نشستوں پر انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہی ہے اور تنظیم کو بوتھ سطح تک مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں سے ممکنہ اتحاد کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آخری فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔ بی ایس پی کے بارے میں انہوں نے تبصرہ کیا کہ ’’بی ایس پی کا ہاتھی بی جے پی کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ جبکہ سماج وادی پارٹی سے اتحاد کے بارے میں بھی فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا۔
رکن پارلیمنٹ نے کشیپ سماج کی ایک خاتون کو انصاف دلانے کے مطالبے کو لے کر ایس پی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کے ساتھ پولیس انتظامیہ کی جانب سے کیی گئی مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو عوامی نمائندوں کی بات سنجیدگی سے سننی چاہیے اور غیر جانبدارانہ طریقے سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
