uttar pradesh
اے ایم یو کی استاذکو برونیل یونیورسٹی لندن سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کی ڈگری تفویض
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد کو برطانیہ کی برونیل یونیورسٹی لندن کی جانب سے 14 جولائی کو منعقدہ جلسہ تقسیمِ اسناد میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (ایم پی ایچ) کی ڈگری سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اے ایم یو میں اپنی تدریسی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ایم پی ایچ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
اس پروگرام کے تحت انہیں وبائیات، حیاتیاتی شماریات، صحت کے فروغ، صحت عامہ کی پالیسی، تحقیقی طریقہ کار اور عالمی صحتِ عامہ جیسے موضوعات میں اعلیٰ تربیت حاصل ہوئی، جس سے صحتِ عامہ کی تعلیم، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ کے شعبوں میں ان کی مہارت مزید مستحکم ہوئی۔
اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم نے کہا کہ یہ کامیابی ڈاکٹر ثمینہ احمد کے تعلیمی امتیاز اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والا علم اور بین الاقوامی تجربہ شعبے کی تدریسی، تحقیقی اور سماجی خدمات کو مزید تقویت بخشے گا۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر عظمیٰ ارم کا مسلسل حوصلہ افزائی، رہنمائی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ، رہنماؤں، ساتھیوں، دوستوں اور اہلِ خانہ کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی مدد سے وہ یہ ڈگری کامیابی سے مکمل کر سکیں۔
ڈاکٹر ثمینہ احمد نے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی (کمیونٹی میڈیسن) کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ہیں اور وہ اس وقت جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تدریس، تحقیق اور کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
uttar pradesh
تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
uttar pradesh
ایس پی کے کے بشنوئی نے سنے فریادیوں کے مسائل
بجنور:نئے تعینات تیز طرار اور ایماندار ایس پی کے کے بشنوئی نے پیر کے روز ضلع کے مختلف علاقوں سے آئے فریادیوں کے مسائل کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ سنا۔ اس دوران انہوں نے فریادیوں سے ان کی شکایتوں کے بارے میں معلومات لیتے ہوئے متعلقہ افسران سے بھی ضروری معلومات حاصل کیں۔ایس پی نے عوامی سماعت میں موصولہ شکایتوں کا خود جائزہ لیا اور متعلقہ افسران اور تھانہ انچارجوں کو ہدایت دی کہ ہر شکایت کا ترجیحی بنیاد پر غیر جانبدارانہ، شفاف اور معیاری حل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکایتوں کے حل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور مقررہ وقت کی حد کے اندر کارروائی مکمل کی جائے۔پہلے دن دفتر پہنچے ایس پی کے کے بشنوئی نے تمام تھانہ انچارجوں کو یہ بھی ہدایت دی کہ شکایت کنندہ کو اس کی شکایت پر کی گئی کارروائی کی معلومات وقت پر فراہم کی جائے، تاکہ اسے اپنے مسئلے کے سلسلے میں ہوئی کارروائی کی واضح معلومات مل سکے۔
ایس پی نے کہا کہ عوامی سماعت پولیس کی جوابدہی، حساسیت اور عوام کے تئیں ذمہ داری کا اہم ذریعہ ہے۔ایس پی کے کے بشنوئی نے کہا کہ ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے حقائق کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے اور متاثرین کو فوری انصاف دلانے کے لیے مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے پولیس افسران اور تھانہ انچارجوں کو عوام کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے اور پولیس و عام لوگوں کے درمیان اعتماد کو اور مضبوط کرنے پر خصوصی زور دیا۔
ایس پی نے کہا کہ پولیس عوامی اعتماد، شفافیت اور جوابدہ پولیسنگ کے لیے پرعزم ہے۔ عوامی سماعت کے ذریعے موصولہ شکایتوں کا باقاعدہ جائزہ لیتے ہوئے ان کے معیاری حل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
uttar pradesh
محمدؐکی ولادت باسعادت نے کراہتی ہوئی انسانیت کو سکون بخشا: قاری محمّد صدّیق
لکھنؤ: شھر کی تاریخی یکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے ہونے والے بارہ روزہ نبئ آخر الزّماںؐ کا دسواں جلسہ استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ وامام مسجد یکمنارہ کی سر پر ستی میں منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ چوک کے قاری محمّد حذیفہ وقاری محمد یوسف کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔
جلسے کو خطاب کرتے ہوئے سنّیوں کا مرکز ادارۂ دارالمبلّغین پاٹانالہ چوک کےسینئر استاذ مولانا قاری محمد صدّیق صاحب امام و خطیب مسجد سبحانیہ پاٹانالہ نے کہا کہ حضرت محمّد مصطفٰی ؐ کی ولادت باسعادت نے کراہتی ہوئ انسانیت کو سکون بخشا مکّہ شریف میں خوش حالی پیدا ہوئی دونوں عالم کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہوئے ہر طرف ابلیس کی حکومت تھی یہودی مجوسی عیسائی سب ایک حالت میں تھے عرب وعجم سب کی ایک کیفیت تھی فواحش ومعاصی کو کوئی عیب نہ سمجھتا تھا چوری رہزنی لوگوں نے پیشہ بنالیا تھا اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کردینا کوئی بڑی بات نہ تھی اس ہادئ برحق ہے۔
یکا یک دنیا کی کایا پلٹ دی اور بجائے کفروشرک کے ایمان کی روشنی سے زمین کو جگمگایا تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہؐ کی تعلیم نے خدا پرستوں کی ایک جماعت صحابۂ کرامؓ کی تیّار کردی جو اعلی ترین اخلاق کامل ترین زہدوتقوی میں اس مرتبہ پر تھے کہ تاریخ عالم میں ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ھے قاری صدّیق صاحب نے کہا کہ رسول اکرمؐ نے کبھی دنیا کا عیش وعشرت نہیں اٹھایا موٹے کپڑے پہنتے تھے اور اکثر آپ کے گھر میں فاقہ ہوجاتا تھا حسن صورت بھی اللہ نے ایسا عطا فرمایا تھا کہ چہرۂ مبارک چودہویں رات سے بھی زیادہ چمکتا تھا جس راستے سے رسولؐ گذر جاتے دیر تک اس راستے سے خوشبو آیا کرتی تھی ، شعراء کرام محمد سمیر، محمّد بلال، قاری محمّد طہ ، محمّد حذیفہ یامین، محمّد کیف ، نے نعت ومدح صحابہؓ کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔
آج کے جلسے میں عیاض احمد صدّیقی ذیشان جویلرس ، حاجی جمال اختر ،سیّد حسین ، و دیگر معزّزین موجود تھے ، جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق صاحب کی دعا پر ھوا ، ، ،
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
