Connect with us

uttar pradesh

2027اسمبلی انتخابات کیلئے ایس پی کی بڑی حکمت عملی,سماجوادی پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے اور سماجی مساوات کو ازسرنو مضبوط کرنے میں مصروف، یوتھ ونگ نے تیار کی 3درجے کی گراؤنڈ رپورٹ

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سماج وادی پارٹی اس بار ریزرو سیٹوں کے راستے آگے بڑھے گی۔ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے بعد ایس پی اب دلت اکثریت والے علاقوں میں اپنے تنظیمی ڈھانچے اور سماجی مساوات کو ازسرنو مضبوط کررہی ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت پارٹی قیادت نے پہلی بارچھاترا سبھا، یووجن سبھا اور یوتھ بریگیڈ کے ذریعہ ریزرو سیٹوں کا تین سطحی گراؤنڈ سروے کرواکر حقیقی سیاسی ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ اصل توجہ ان اسمبلی حلقوں پر ہے جہاں 2022 کے انتخابات میں ایس پی کی شکست کا مارجن بہت کم تھا، لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں صورت حال بدلتی ہوئی نظر آئی۔
قابل ذکر ہے کہ ریاست کی 403 اسمبلی سیٹوں میں سے 84 سیٹیں درج فہرست ذاتوں کے لیے اور دو سیٹیں درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہیں، جہاں بی جے پی نے گزشتہ دو انتخابات میں برتری برقرار رکھی ہے۔ 2017 میں، بی جے پی نے ان میں سے 70 اور 2022 میں65 سیٹیں جیتی تھیں، جب کہ ایس پی صرف 20 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔
اب ایس پی کی حکمت عملی بی ایس پی کی کمزور ہوتی حمایت اور بی جے پی کے غیر جاٹو دلت ووٹ بینک میں نقب لگانے پر مرکوز ہے۔ پاسی، کوری، والمیکی، دھوبی، اور کھٹک جیسی برادریوں کو پی ڈی اے سے جوڑنے کے لیے، تینوں فرنٹل تنظیموں نے بوتھ کمیٹیوں کی سرگرمی، ذات کی حرکیات اور اپوزیشن جماعتوں کی پوزیشن کا قریب سے جائزہ لیا ہے۔
بھروسے کو یقینی بنانے کے لیے جن سیٹوں کی رپورٹ میں فرق تھا، وہاں دوبارہ جسمانی تصدیق بھی کرائی گئی ہے۔ یہ مشق تقریباً 80 سیٹوں کے لیے مکمل ہو چکی ہے، جسے 2027 کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم اور انتخابی مہم کی تیاری سمجھا جارہا ہے۔ ایس پی کا ماننا ہے کہ اگر لوک سبھا انتخابات میں نظر آنے والی سماجی تحریک کو اسمبلی سطح پر بھی دہرائی گئی تو اس کا دعویٰ سب سے مضبوط ہوگا۔
دوسری طرف، ریاست میں جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کے لیے بی جے پی اگست میں 10 ہزار ’ڈرائنگ روم میٹنگز‘ کے ذریعے تقریباً 60 ہزار کارکنوں سے براہ راست بات چیت کرکے دھڑے بندی کو ختم کرنے اور ماحول بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ وہیں بی ایس پی بھی اپنے کیڈر کو مضبوط کرنے میں مصروف ہے، جب کہ کانگریس کی زمینی سرگرمی فی الحال انتخابی موسم میں کافی پیچھے نظر آرہی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم

Published

on

سنبھل:آل انڈیا اقلیتی کانگریس کے زیراہتمام ترین کیمپس میں ایک اہم ضلعی سطحی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس 27 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر دلت اور اقلیتی کانگریس کی طرف سے منعقد ہونے والے زبردست احتجاج کی تیاری اور کارکنوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس تقریب کے مہمان خصوصی اتر پردیش اقلیتی کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری ناصر چودھری تھے۔
پروگرام کی صدارت ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف پردھان نے کی اور نظامت عارف خان تنویر نے کی۔مہمان خصوصی جناب ناصر چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ملک میں آئین، جمہوریت، سماجی انصاف اور دلتوں، اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کے اتحاد، بھائی چارے اور آئینی اقدار کے تحفظ کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والا احتجاج عوامی مفاد، سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کے عزم کی علامت ہوگا۔ انہوں نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے سنبھل ضلع کے تمام کانگریس اراکین اور اقلیتی کانگریس کارکنوں سے بڑی تعداد میں دہلی پہنچنے کی اپیل کی۔اپنے صدارتی خطاب میں ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر جناب محمد عارف ترکی نے کہا کہ کانگریس پارٹی سماج کے ہر طبقے کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرنے کا کام کر رہی ہے۔
کانگریس نے ہمیشہ دلتوں، اقلیتوں، کسانوں، نوجوانوں، خواتین اور سماج کے پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے اور لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیمی طاقت کانگریس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے تمام عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ تنظیم کو بوتھ کی سطح تک مضبوط کریں اور 27 جولائی کو جنتر منتر کے احتجاج میں بڑی تعداد میں پہنچ کر کامیاب بنائیں۔
کانفرنس میں تنظیم کی مضبوطی، آئندہ سیاسی پروگرام، عوامی رابطہ مہم اور دلت اور اقلیتی برادریوں سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تمام کارکنوں نے متحد ہو کر کانگریس پارٹی کے نظریہ کو عوام تک پہنچانے اور سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا۔اس موقع پر ضلع کانگریس کمیٹی سنبھل کے صدر محمد عارف ترکئی، مشیر خان ترین ،عارف خان تنویر، ضلع صدر اقلیتی، ضلع نائب صدر سنیل یادو، ضلع نائب صدر اشرف انصاری، سابق سٹی صدر توقیر احمد، ضلع نائب صدر ڈی کے۔ والمیکی، سلیم سیفی، سٹی صدر چندوسی سنجیو ساہو، پروشوتم پال، یوتھ کانگریس کے ضلع نائب صدر امت کمار، ریاستی نائب صدر آر ٹی آئی ڈپارٹمنٹ اٹھاول، راشد سیفی، محمد ارشاد، نعمان حیدر، تحصیل سیفی، راحت جان، تابن خان، سرفراز سیفی، نعیم انصاری، نعیم انصاری، عرفان خان اور دیگر موجود تھے۔
کسان مورچہ کے ضلع صدر عقیل احمد، حاجی مرغوب عالم، سٹی صدر شیوکشور گوتم، قاسم خان، ڈاکٹر مرغوب کے علاوہ کانگریسی عہدیداران، اقلیتی کانگریس کارکنان اور سینئر کانگریسی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

انصاف اور حقوق کے لیے اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت کو مضبوط کریں

Published

on

دیوبند: مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے ہفتہ کی شام سہارنپور منعقدہ مجلس کے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش اسمبلی انتخابات2027 کے لیے اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس موقع پر ہزاروں کارکنان اور حامی موجود تھے، جبکہ پارٹی نے بی جے پی کو روکنے کے لیے ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بھی واضح اشارے دیے۔اپنے خطاب میں اسد الدین اویسی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کیا جاتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ مسلمان تعلیم یافتہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ضرور ہے، لیکن یہاں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جبکہ مسلمانوں میں گریجویٹ افراد کی تعداد صرف تقریباً ساڑھے تین سے ۵ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے کے بجائے انہیں قانونی طور پر باقاعدہ (ریگولرائز) کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان اداروں کے بند ہونے کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً تین ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اگرچہ اعظم خان اور ان کے بیٹے انتخابات نہیں لڑ سکتے، لیکن حکومت کو وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ اویسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی بھی قوم کو انصاف اسی وقت ملتا ہے جب اس کا اپنا پرچم اور اپنی آزاد قیادت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف نمائندوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسے نمائندوں کا ہونا ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق آواز بلند کر سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا بھی ذکر کرتے ہوئے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی آبادی ملک میں تقریباً 19 فیصد ہے، لیکن شرح تعلیم انتہائی کم ہے، خصوصاً مسلم خواتین کی شرح خواندگی سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں اور اسی لیے تعلیمی اداروں کا تحفظ ناگزیر ہے۔اپنے خطاب میں اویسی نے تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، آئینی حقوق اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اتر پردیش میں ایک خودمختار اور بااختیار سیاسی قیادت تیار کرنا چاہتی ہے، تاکہ محروم طبقات کی آواز مؤثر انداز میں ایوانوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو پہچانیں، تعلیم کو ترجیح دیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو بے خوف ہو کر ان کے حقوق کی بات کر سکیں۔ اسد الدین اویسی نے اپنے انداز میں تقریر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کو بھی نشانے پر لیا، ساتھ ہی انہوں نے مقامی سیاستدانوں پر بھی سخت تنقید کی۔ جلسے کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے مغربی اتر پردیش کے صدر مہتاب چوہان نے بھی خطاب کیا۔ اسد الدین اویسی کے انتخاب جلسے میں زبردست بھیڑ رہی اور بے قابو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی کا سہارا لینا۔ یہاں کارکنان کی بھاری تعداد موجود تھی اور بھیڑ بے قابو ہو گئی اور حامی اپنے لیڈر کو دیکھنے کے لیے بے قابو ہو گئے، حالانکہ بعد میں پروگرام بحسن خوبی اختتام کو پہنچا۔

Continue Reading

uttar pradesh

لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) اسمبلی الیکشن میں اتارے گی امیدوار

Published

on

دیوبند:اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے مدنظر لوک جن شکتی پارٹی (پاسوان ) نے اپنی تیاریوں کو تیز کردیا ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اترپردیش کے پارٹی انچارج اور ایم پی ارون بھارتی کے ساتھ ملاقات کرکے الیکشن کی پالیسی سے متعلق کافی غور وفکر کیا ۔
اس میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد جمعہ کے روز دیوبند واپس آنے پر لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے بتایا کہ قومی صدر چراغ پاسوان نے پارٹی کے سبھی عہدیداران سے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پارٹی کی تشہیر کرنے اور عوامی بہبود کی پالیسیوں کو لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔پوجا گرگ نے بتایا کہ منعقدہ میٹنگ میں آنے والی اسمبلی الیکشن میں لوک جن شکتی پارٹی کی بہتر کارکردگی کے لئے سبھی 403؍ سیٹوں پر سیاسی بساط بچھانے کی تیاری کے لئے ہدایات دی گئیں ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران قومی صدر نے واضح کیا کہ لوک جن شکتی پارٹی اترپردیش میں پوری قوت کے ساتھ الیکشن لڑے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی چاہے اپنے دم پر تنہا الیکشن لڑے یا کسی کے ساتھ اتحاد کرکے الیکشن کے میدان میں اترے دونوں صورتوں میں ان کا مقصد اترپردیش میں اپنی پہچان بنانا اور تنظیم کو مضبوط کرنا ہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network