(پی این این)
لکھنؤ:اتر پردیش کی سیاست میں ہندو مسلم اور مندر مسجد کے معاملات پر پہلے بھی زبردست سیاسی کشمکش ہوتی رہی ہے۔ اب باگیشور دھام کے دھیرندر کرشن شاستری نے پہلے بھگوان کرشن اور پھر شری رام کے حوالے سے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں، جن کے بعد سیاسی ہلچل بھی تیز ہو گئی ہے۔
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے یکے بعد دیگرے کئی سخت تبصرے کرکے ایک نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اکھلیش نے کسی کا نام لیے بغیر بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اتر پردیش میں کسی ’بیرونی شخص‘ کے اشارے پر ریاست کی سیاسی اور مذہبی اقدار کو چیلنج کرنے کی گہری سازش رچی جا رہی ہے۔
اکھلیش اکثر اتر پردیش کی ڈبل انجن حکومت کے دونوں انجنوں کے درمیان ہی ٹکراؤ ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان کے آج کے الزامات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے بدھ کی صبح دھیرندر کرشن شاستری پر سخت حملہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہوں نے یدوونشیوں اور رگھوونشیوں، دونوں کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں نہ برج میں داخل ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی اودھ میں۔ نہ کوئی سچا رگھوونشی ان کا استقبال کرے گا اور نہ ہی کوئی سچا یدوونشی۔اکھلیش نے مزید کہا کہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کی سرحد پر ان کی آمد روکنے کے لیے ایک بورڈ لگا دینا چاہیے، جس پر لکھا ہو کہ ’مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پر داخلہ ممنوع ہے۔‘
اکھلیش یادو نے مزید انتباہی انداز میں لکھا کہ جو شخص مذہب اور عقیدے کا احترام نہیں کرتا، وہ کل کو دیگر فرقوں پر نکتہ چینی کرنے سے بھی باز نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اتر پردیش میں کسی بیرونی شخص کے اشارے پر کسی کی سیاسی اور مذہبی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپسی ٹکراؤ میں سیاسی لوگ بھگوان کو درمیان میں کیوں لا رہے ہیں؟
اس سے قبل ایک ٹویٹ میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے دھیرندر شاستری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آخر سناتن مخالف عناصر کس کے اشارے پر سرگرم ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پہلے بھگوان شری کرشن کے حوالے سے متنازع ویڈیو سامنے آیا اور اب بھگوان رام کے والد راجا دشرتھ کے بارے میں ناشائستہ باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے سیاسی سرپرستوں کو بھلے ہی یہ سب منظور ہو، لیکن ہمیں یہ ذرا بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں ان کے تمام پروگرام فوری طور پر منسوخ کیے جانے چاہئیں۔ اب سچے سناتنی ہی ان کے لیے پرچی لکھیں گے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ انسانی غلطیوں کے لیے تو معافی ممکن ہے، لیکن بھگوان اور سناتن دھرم کی توہین کرنے والی ’مذہبی گستاخی‘ کے لیے کوئی معافی نہیں ہو سکتی۔ ایسے لوگوں پر تاحیات پابندی عائد کرنا ہی معاشرے کے مفاد میں ہے اور پورے ملک میں ان کے عوامی پروگراموں پر روک لگائی جانی چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اکھلیش یادو کا یہ سخت رویہ ایک طرف بی جے پی کے ’ہندو ووٹ بینک‘ میں نقب لگانے اور سماج وادی پارٹی پر لگنے والے ’سناتن مخالف‘ ہونے کے الزام کو ختم کرنے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف ’مدھیہ پردیش سے وابستہ طاقتوں‘ اور ’حکومت کے اندرونی اختلافات‘ کی جانب اشارہ کرکے اتر پردیش کے بڑے سیاسی مساوات کو اپنے حق میں کرنے کی حکمت عملی بھی ہے۔
