(پی این این)
دیوبند:مسلم سیوا سنگٹھن کے ایک وفد نے تنظیم کے صدر نعیم قریشی، نائب صدر عاقب قریشی اور جنرل سکریٹری صدام قریشی کی قیادت میں گزشتہ روز سہارنپور کے ایس پی سٹی ویوم بندل سے پولیس لائن میں واقع ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انھیں ایک میمورنڈم سونپا۔
وفد نے ایس پی سے ماحول خراب کرنے کے لئے نکالی جانے والی مجوزہ یاترا پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا، اس یاترا سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور فساد بھڑکنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ اسی یاترا میں کئی ایسے لوگ شامل ہیں جو کھلے طور پر ایک فرقے کو نہ صرف ٹارگیٹ کرتے ہیں بلکہ انہیں مذہبی اور سماجی طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتی طبقے کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کرنے والے اور غیر ائینی نعرے لگانے والے افراد کے خلاف غیر جانب دارانہ جانچ کرکے مناسب قانونی کارروائی کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔
وفد نے کہا کہ ضلع میں امن، قانون و انتظام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی فرد یا تنظیم کو ایسا ماحول پیدا کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے جس سے سماج میں نفرت اور کشیدگی بڑھے۔ تنظیم کے نمائندوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے بروقت ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ ضلع کا امن و امان متاثر نہ ہو۔ مسلم سیوا سنگٹھن کے مطابق، ایس پی سہارنپور نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ کسی کو بھی ضلع کا ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ اگر مجوزہ یاترا پر روک لگانے اور قابل اعتراض تبصرے کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کے مطالبے پر سنجیدگی سے قدم نہیں اٹھائے گئے تو وہ جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج درج کرائے گی۔
تنظیم نے ضرورت پڑنے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ بھی دی۔ وفد میں تنظیم کے سکریٹری مہتاب قریشی، سابق ضلع صدر ایوب حسن، ناظم خان، نسیم احمد، ثاقب قریشی، فیروز احمد، ارشاد احمد، ذاکر انصاری، مولانا ہاشم عمر، محمد اکرم، راشد قریشی، محمد نسیم، محمد احتشام، محمد کیف اور ذیشان قریشی سمیت دیگر افراد موجود رہے۔
