(پی این این)
میرٹھ:بیت بازی کے پروگرام کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اردو کا مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کے پروگرام میں لڑ کیوں کی تعداد زیادہ تھی۔میں آپ سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آپ سب کی محنتوں سے یہ پروگراموں بڑا شاندار رہا۔یہ الفاظ تھے معروف شاعر اسرار الحق اسرار کے جو یہاں شعبہئ اردو میں منعقد سہ روزہ جشن سر سید کے اختتامی پروگرام میں بطور مہمانِ خصوصی اپنی تقریر کے دوران ادا کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ادبی و تہذیبی پروگرام ہوتے رہنا چاہئیں۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز شاکر مطلوب نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ پروگرام کی سر پرستی پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ مہمانانِ خصوصی کے بطور مشہور و معروف شاعر اسرار الحق اسرارکٹھوروی نے شرکت کی اورمہمانان ِ ذی وقارکے بطور ڈاکٹر ارشد اقبال، ڈاکٹر یشیکا ساغر]صدر شعبہئ اردو، میرٹھ کالج،میرٹھ[ڈاکٹر نسرین،]شعبہئ اردو،مسلم گرلز ڈگری کالج، بلند شہر[]بلند شہر[ ڈاکٹر عفت ذکیہ،]صدر شعبہئ اردو اسماعیل نیشنل مہیلا پی جی کالج، میرٹھ[،ڈاکٹر ظہیر احمد، آفاق احمد خاں ]جنرل سیکریٹری،مائنارٹی ایجو کیشنل ایسو سی ایشن،میرٹھ[ فر زانہ سبز واری ]پرنسپل،میرٹھ گرلز انٹر کالج[اور معروف صحافی شاہد چودھری نے شر کت فرمائی۔ ججز کے بطور معروف استادشاعر انوار الحق شاداں پھلا ؤدی اور مولانا سید نایاب الدین نایاب شریک ہوئے اور ٹائم کیپر ر محمد عیسیٰ رانا رہے۔ نظامت کے فرائض شعبہئ اردو کی ریسرچ اسکالر سیدہ مریم الٰہی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔مقابلے کے لیے شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کو حفیظ میرٹھی،آئی این مہیلاپی جی کالج میرٹھ کو اسماعیل میرٹھی،مسلم گرلزڈگری کالج،بلند شہر کوجمیل مظہرسیانوی اورمیرٹھ کالج میرٹھ کوبشیر بدر نام دیے گئے تھے۔مقابلہ نہایت دلچسپ رہا۔ سبھی ٹیموں نے معیا ری اشعار پڑھے۔ناظرین ہر ہر شعر پر خوب لطف اندوز ہوئے۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاہد چودھری نے کہا کہ میں سبھی بچوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ سبھی نے بہت اچھا رول ادا کیا۔جن شعرا حضرات کی ٹیمیں بنائی گئیں لیکن ان شعرا کے شعر نہیں پڑھے گئے۔
آفاق احمدنے کہا کہ جب کوئی مقابلہ ہو تا ہے تو اس میں کھلا ڑی یعنی بیت بازی میں بڑی غور و فکر کے ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے۔ جیت ہار تو ہوتی ہی رہتی ہے۔تین دن سے جشن سر سید منایا جارہا ہے۔ تحریری اور مقابلہئ بیت بازی سے اندازہ ہوا کہ ابھی اردو کے شیدائی باقی ہیں۔ڈاکٹر عفت ذکیہ نے کہا کہ اگر بیت بازی کے حوالے سے بات کریں تو آج کا یہ مقابلہ بہت ہی عمدہ رہا۔ موضوع کے اعتبار سے بہترین اشعار پڑھے گئے۔ امید ہے کہ مستقبل میں یہ مقابلہ اور بھی زیادہ بہتر اور دلچسپ ہو گا۔
فرزانہ سبز واری نے کہا کہ ہمیں اپنے رزلٹ سے مایوس نہیں ہو نا چاہئے اگرہم محنت کرتے ہیں تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ ایسے مقابلوں کو مزید بہتر اور دلچسپ بنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ظہیر احمد نے کہا کہ آج بہت شاندار اور تاریخی پروگرام ہوا۔ میں بڑا شکر گزار ہوں کہ مجھے مہمان بنایا گیا۔ اسلم صاحب ایک سورج کی مانند ہیں جن کی روشنی ہر طرف پھیل رہی ہے۔
سید نایاب الدین نایاب نے کہا میں نے 11/ سال اے۔ایم یو میں حاصل کی اور وہاں بھی بہت سے مقابلے ہوتے تھے مگر جیسا مقابلہ آج شعبہئ اردو میں نظر آ یا ایسا مقابلہ میں نے علی گڑھ میں بھی نہیں دیکھا اور دیگر جگہ بھی دیکھنے میں نہیں آ یا۔اس موقع پر صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کایہ پروگرام بہت عمدہ رہا۔سبھی طالب علموں نے بہت اچھی کوشش کی۔ بہر حال جو ٹیمیں شریک ہو ئیں وہ مبارک باد کی مستحق ہیں سبھی ٹیموں کی تیاری بہت اچھی تھی۔ماضی کی یہ خوبصورت روایت زندہ رہنی چاہئے۔ اردو اشعار سے ہم نہ صرف زبان دانی بلکہ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں۔
مقابلہ میں حفیظ میرٹھی اول رہے۔اسماعیل میرٹھیدوم اوربشیر بدرٹیم نے سوم پو زیشن حاصل کی۔جمیل مظہر سیانوی ٹیم کو کونسلیشن انعام سے نوازا گیا۔سبھی ٹیموں کے حصہ لینے والوں میں حفیظ میرٹھی ٹیم میں روشنی، عاشقہ صدیقہ اور نمرہ شامل رہیں، جمیل مظہر سیانوی ٹیم میں عائشہ عادل،ماہ نور اورفائزہ شامل رہیں،اسماعیل میرٹھی ٹیم میں عائشہ،اقراء، حدیقہ اور بشیر بدر ٹیم میں مصباح،الکا اور محمد کیف شامل رہے۔حفیظ میرٹھی ٹیم کی روشنی پر سن آف دی بیت بازی رہیں۔ اس موقع پرانوار الحق شاداں،اسرار الحق اسرار اور سید نایاب الدین نایاب نے اپنی بہترین غزلوں سے سامعین کو مسحور کردیا۔پروگرام میں ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،محمد عابد علی قاسمی، طاہرہ پروین، نزہت اختر، سرتاج جہاں،فر حت اختر،سعید احمد سہارنپوی، محمد شمشاد، شاہویزعالم،محمد عمران،محمد ندیم،نایاب،فبیہا، فقیہا،لمرا،عظمیٰ سحر،عمائدین شہراور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتام
