تازہ ترین
گنگوہ میں قتل کے بعد سیاسی طوفان ،گرفتاری کیلئے 3 دنوں کا الٹی میٹمعازمین حج و عمرہ کی تربیت انتہائی ضروریالائٹ جونیئر ہائی اسکول میں جشنِ عید میلاد النبی ؐ کے سلسلے میں مقابلہ نعت، تقریر اور کوئز کا انعقاداے ایم یو کے شعبہ علم الامراض میں ٹشو پروسیسنگ آرٹیفیکٹس کے موضوع پر توسیعی خطبہ کا اہتمامکیا اپنے ہی ملک میں ترنگا لہرانا جرم ہے؟:کجریوالگیانیش کمار کے استعفیٰ کامطالبہ کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کا مارچعصمت دری کے الزام پر خواتین کمیشن سے ملا بی جے پی کا وفدگریٹر نوئیڈا میںشروع ہوئیں4نئے روٹس پر الیکٹرک بسیں
دلی این سی آر

کیا اپنے ہی ملک میں ترنگا لہرانا جرم ہے؟:کجریوال

نئی دہلی :جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے معاملے میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو بی جے پی کی دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے اور اب پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے پر عام آدمی پارٹی نے سخت اعتراض کیا ہے۔
آپ نے اس کارروائی کا موازنہ 1975 کی ایمرجنسی سے کرتے ہوئے سی جے پی رہنماؤں کو جیل بھیجنے کو غلط قرار دیا ہے۔ پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ایکس پر کہا کہ کیا اب اپنے ہی ملک میں اپنا ترنگا لہرانا بھی جرم ہوگیا ہے؟ ترنگا لہرانے کے جرم میں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ دوسری جانب، آپ کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ کیا وہ انگریز ہیں اور کیا اس ملک میں برطانوی راج چل رہا ہے؟ یہ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے کہ ہندوستان میں بھارت ماتا کی جے کہنا اور ترنگا لہرانا اب گناہ اور جرم بن گیا ہے۔ سی جے پی کے رہنماؤں سورَو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے نے جنتر منتر پہنچ کر ترنگا لہرایا اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگائے۔ اس ملک کے نوجوان کروڑوں بار بھارت ماتا کی جے کہیں گے اور ترنگا لہرائیں گے۔ مودی جی اور ان کی مادر تنظیم کو ترنگے سے نفرت ہوسکتی ہے، کیونکہ ان کی تنظیم نے 52 سال تک ناگپور میں اپنے ہیڈکوارٹر پر ترنگا نہیں لہرایا۔ لیکن جن نوجوانوں نے ترنگا لہرا کر بھارت ماتا کا وقار بڑھانے کا کام کیا، حکومت نے انہیں گرفتار کرکے پانچ دن کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ آشوتوش رانکا اور سورَو داس کو جیل میں ڈال کر مودی جی سوچتے ہیں کہ وہ اپنی آمریت کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کی آواز دبا دیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس آمریت کے ذریعے ووٹ چوری، پورے ملک کے جمہوری نظام کی چوری، حکومتوں کی چوری اور ارکانِ اسمبلی و پارلیمنٹ کی چوری کا ان کا کاروبار جاری رہے گا۔
مودی جی کی آمریت کا اب خاتمہ قریب آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی سمجھایا تھا اور اب پھر سمجھا رہا ہوں کہ نوجوانوں سے پنگا مت لیجیے، یہ مودی جی کو بہت مہنگا پڑے گا۔ آشوتوش رانکا اور سورَو داس کو گرفتار کرکے مودی جی نے ایک بار پھر بہت بڑی غلطی کی ہے اور انہیں یہ بات بہت جلد سمجھ میں آجائے گی۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے 1975 اور 2026 کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ادوار میں تقریباً ایک جیسی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ 1975 میں وزیر اعظم کے انتخاب میں دھاندلی، نوجوانوں اور مزدوروں کی تحریکوں، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی اور راج نارائن جیسے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح 2026 میں بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، جنریشن زی (Gen-Z) کی تحریک، معاشی مندی، خارجہ پالیسی کی بدترین صورتِ حال اور سورَو داس و آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے ساتھ ایمرجنسی جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کاکروچ موومنٹ کے سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے، حالاں کہ اب تک ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ انہوں نے کوئی ایسا کام کیا ہو جس کے لیے انہیں پانچ دن جیل میں رکھا جائے۔جب سی جے پی کی جانب سے موجودہ حالات کو ایمرجنسی جیسا قرار دیا گیا تو میں نے 1975 کی ایمرجنسی کے بارے میں پڑھا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم پر بھی انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات لگے تھے اور انتخابی عمل پر سوالات اٹھ رہے تھے۔ اس وقت طلبہ اور مزدوروں کے درمیان جو بے اطمینانی تھی، وہی صورتِ حال آج بھی دکھائی دے رہی ہے۔ آج نوجوان سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف اپنی بات مضبوطی سے رکھ رہے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج ملک میں 1975 جیسی ہی معاشی اور سیاسی بے یقینی کی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔عالمی سطح پر ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ ٹرمپ روزانہ ہمارے ملک کو برا بھلا کہتے ہیں اور چین لداخ پر اپنا دعویٰ پیش کررہا ہے، لیکن وزیر اعظم خاموش اور خوف زدہ بیٹھے ہیں۔ بیرونِ ملک ہندوستان کا ڈنکا بجنے اور ملک کی عزت بڑھنے کے حوالے سے وزیر اعظم کی جو مصنوعی شبیہ بنائی گئی تھی، وہ اب پوری طرح بکھر چکی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کے بس میں تو یہ بھی نہیں کہ وہ ٹرمپ کو جواب دے سکیں۔ سیاسی محاذ پر بی جے پی کے اندر مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ اور امت شاہ کے درمیان اختلافات ہیں۔ 75 سال کی عمر ہونے کے باوجود وزیر اعظم کا جانشین طے نہیں ہوپا رہا ہے۔ کسی مضبوط شخصیت کو پارٹی صدر نہ بنا پانے کی مجبوری کے باعث بی جے پی کو ایک انتہائی عام شخصیت کو اپنا قومی صدر بنانا پڑا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج بالکل ویسی ہی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے جیسی 1975 میں ایمرجنسی کے وقت تھی۔ جس طرح اس وقت راج نارائن، مرارجی دیسائی اور بڑے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تھا، اسی طرح آج بھی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سنگھ اور بی جے پی گزشتہ 50 برسوں سے ایمرجنسی کے خلاف بیانیہ پیش کرتے رہے ہیں، اسی لیے وہ ایمرجنسی کے لفظ سے ڈرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ حکومت باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ نہ کرے، لیکن ایمرجنسی نافذ کیے بغیر ہی اب بڑے بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کردے۔ کسی بھی پارٹی یا رہنما کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس کی باری نہیں آئے گی، اب سب کی باری آئے گی۔

 

متعلقہ خبریں