(پی این این)
ڈالٹن گنج ( جھارکھنڈ ): نامور شاعر و ادیب ڈاکٹر شعیب راہی کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ریاست بہار اور جھار کھنڈ سے آے ہوئے مقررین نے ڈاکٹر شعیب راہی کی شاعری سماجی فکر اور مزدوروں کے حقوق کے تئیں ان کی وابستگی اور قومی یک جہتی کے پیغام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ہروگرام کے آغاز سے قبل قاری مجاہد الاسلام نے تلاوت کلام اللہ کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد شہر کے نوجوان فن کار عدنان کاشف نے افسر سہسرامی کی کتاب گرد کارواں سے ماخوذ نعت شریف پڑھی۔ جب کہ راز امن نے بھی بارگاہ رسالت مآب میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ بعد ازاں بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق صدر شعبئہ فارسی ڈاکٹر سید حسن عباس کی صدارت میں سیمینار کا با ضابطہ آغاز ہوا۔ اس موقع پر افسر سہسرامی کی کتاب گرد کارواں کی رسم رونمائ بھی انجام دی گی ۔ اس کتاب میں شامل تخلیقات کو ندرت نواز نے مرتب کیا ہے۔
سیمینار میں موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوے صدر نشیں ڈاکٹر سید حسن عباس نے کہا کہ شعیب راہی ان کے استاد ریے ہیں۔ میر کی شاعری کا حوالہ دیتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ شاعر اور افسانہ نگار اپنے معاشرے و سماج ہر گہری نظر رکھتے ہیں ۔وہ معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں کو اپنی تحریروں میں پیش کرکے عوام کی رہنمائ کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر شعیب راہی بھی اسی روایت کے شاعر تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر راہی کا شعر پڑھا۔
راہی بنے ہیں ہاتھ محنت کے واسطے
اس میں کہیں نصیب کا لکھا نہ ڈھونڈ ئیے
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شعیب راہی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ آسان اور عام فہم زبان میں بڑی اور گہری باتیں کہ جاتے تھے ۔ سابق صدر شعبئہ اردو جین کالج ، آرہ ( بہار) کے ڈاکٹر جمیل اختر نے کہا کہ ڈاکٹر شعیب راہی اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب سجھتے تھے، انہیں اپنے علاقے سے گہرا لگاؤ تھا، وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ نظریات سے بھی وابستہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان کو اہنی تحریر اور عملی سرگرمیوں سے ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اہنی تہذیب، علاقے یا مذہب کی بدنامی ہو۔ ڈاکٹر جمیل اختر نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شعیب راہی صرف شاعر ہی نہیں بلکہ مزدوروں کے حقوق کے زبردست حامی و طرف دار بھی تھے۔ انڈین پیپلز ایسوسی ایشن ( اپٹا ) کے قومی سکریٹری شیلندر کمار نے کہا کہ ڈاکٹر شعیب راہی ان کے رہنما تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر راہی کی شاعری قومی یک جہتی اور حب الوطنی کی بہترین مثال ہے۔ جب کہ ان کی تخلیقات ترقی پسند تحریک کو نئی توانائی بخشتی ہے۔ پروگرام کے آخری دور میں معروف شاعر نسیم ریاضی نے ڈاکٹر شعیب راہی کی مختصر بحر میں کہی گئی غزل کا یہ شعر اپنے سحر آفریں ترنم میں پڑھا۔
صرف درد سفر دیکھتے رہ گیے
بس یہی عمر بھر دیکھتے رہ گیے
اس موقع پر عشرت بانو نے بھی ڈاکٹر شعیب راہی کی غزل ترنم کے ساتھ پیش کی۔سیمینار کے اختتام پر انجمن “فروغ اردو” پلاموشاخ کی جانب سے پروفیسر جمیل اختر، ڈاکٹر سید حسن عباس، ندرت نواز، ڈاکٹر مقبول منظر اور اوپیندر کشواہا نے مشترکہ طور سے پروفیسر احمد بدر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سند اعزاز سے نوازا۔ سیمینار میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں خصوصی طور سے ڈاکٹر مظفر بلخی، ارشد قمر، ڈاکٹر مصطفیٰ بلخی، نوشاد خاں، شمم جوہر ( چاند ) ارشد جمال نجمی، ایم جے اظہر، امین رہبر، ممتاز احمد انصاری، ماسٹر محمد علی اور ارشد جمال گڈو، ڈاکٹر غالب نشتر، دانش ایاز، انجمن فروغ ادو کے جنرل سیکریٹری سید نیرالاسلام، صدر ممتاز احمد انصاری، مہتاب عالم , سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر مقبول منظر اور کو- آرڈنیٹر ندرت نواز وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔
ڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفراز
