Connect with us

جھارکھنڈ

جھارکھنڈ کے ہر گھر تک صاف پینے کا پانی پہنچاناحکومت کی اولین ترجیح: ہیمنت سورین

Published

on

(پی این این)
رانچی: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے منگل کے روز جھارکھنڈ وزارت میں اعلیٰ افسران کی موجودگی میں محکمہ پینے کا پانی و صفائی ستھرائی کی تازہ ترین پیش رفت کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا۔جائزہ اجلاس کے دوران ہیمنت سورین نے افسران کو ہدایت دی کہ جل جیون مشن کے تحت جاری منصوبوں میں تیزی لائی جائے اور ریاست کے ہر گھر تک پائپ لائن اور نل کے ذریعے صاف پینے کا پانی پہنچانے کے ہدف کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے آبی سپلائی نظام کی دیکھ بھال اور مرمت کے کاموں کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی عوامی زندگی سے جڑا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ پانی کے بحران کے خدشے والے علاقوں پر خصوصی نظر رکھی جائے اور جہاں بھی پینے کے پانی کی کمی یا مسئلہ سامنے آئے، ان علاقوں کی فوری نشاندہی کرکے عوام کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں محکمہ پینے کا پانی و صفائی ستھرائی کے وزیر یوگیندر پرساد بھی موجود تھے۔
ہیمنت سورین نے کہا کہ ریاست کی ’جل سہیا‘ خواتین کو گروپ کی بنیاد پر صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئی) میں وقتاً فوقتاً پلمبنگ کی فنی تربیت فراہم کی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ خراب چاپاکلوں کی مرمت اور شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر سپلائی نظام کی نگرانی و دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی جل سہیاؤں کو دی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ جل سہیاؤں کے لیے حوصلہ افزائی کے پروگرام منعقد کیے جائیں اور بہتر کارکردگی دکھانے والی خواتین کو انعامات سے نوازا جائے۔انہوں نے محکمہ کی زیرِ تعمیر آبی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بڑے منصوبوں سے وابستہ ٹھیکیداروں کا واٹس ایپ گروپ بنایا جائے اور روزانہ کی پیش رفت کی معلومات اس میں شیئر کی جائیں تاکہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے۔
ہیمنت سورین نے کہا کہ محکمہ پینے کا پانی و صفائی ستھرائی کی اسکیمیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، اس لیے انہیں مؤثر انداز میں زمینی سطح پر نافذ کیا جائے اور ہر گھر تک پانی پہنچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے افسران کو جل جیون مشن کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کرنے، مالی توازن برقرار رکھنے کے لیے بیک اپ پلان بنانے اور منصوبوں کی تکمیل کے بعد جلد از جلد یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی واٹر ریچارج کے لیے سوک پٹ سمیت دیگر مؤثر طریقوں کو جدید بنانے پر بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے ہر آنگن واڑی مرکز تک صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ اجلاس میں افسران نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت دسمبر 2028 تک جھارکھنڈ کے تمام دیہی گھروں کو پائپ لائن کے ذریعے صاف پینے کا پانی فراہم کرنے کے ہدف کے ساتھ محکمہ تیزی سے کام کر رہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جھارکھنڈ

بھوپیش بگھیل کی ہیمنت سورین سے ملاقات، راجیہ سبھا انتخابات کی تیاریوںاور مختلف امور پر تبادلہ خیال

Published

on

(پی این این)
رانچی:2026 کے راجیہ سبھا انتخابات کی تیاری کے سلسلے میں اتوار کو جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں اہم سیاسی سرگرمی دیکھی گئی۔ چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے راجیہ سبھا کے مبصر بھوپیش بگھیل اور اجے شرما نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہیمنت سورین سے ملاقات کی۔ میٹنگ کے دوران آئندہ راجیہ سبھا انتخابات سے متعلق مختلف امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں اتحاد کی انتخابی حکمت عملی، اتحادیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ قائدین نے راجیہ سبھا انتخابات میں اتحاد کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے ممکنہ چیلنجوں اور مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے کئی اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے تمام اتحادی شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے اور موثر انتخابی انتظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سیاسی صورتحال کے مطابق مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

Continue Reading

جھارکھنڈ

نسل نوکی دینی تربیت کریں اورایس آئی آر میں ناموں کااندراج ضرورکرائیں: امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پاکوڑ : امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے پوری ریاست جھارکھنڈ میں ایس آئی آر (SIR) کے موضوع پر بیداری مہم اور عملی تربیتی ورکشاپس کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس تعلق سے امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نہایت فکرمند ہیں ،اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر گذشتہ شب ضلع پاکوڑ کے پاکوڑیا کی جامع مسجد میں اورآج مہیش پور کی جامع مسجد میں صبح دس بجے ایس آئی آر پر ایک جامع بیداری پروگرام منعقد کیا گیا اور عملی تربیتی ورکشاپ عمل میں آیا۔
ان تمام پروگراموں کی صدارت امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈکے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی نے فرمائی۔اور آپ ہی کی قیادت میں یہ وفد چل رہاہے آپ نے مذکورہ پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران امارتِ شرعیہ کی صد سالہ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ ہر دور میں ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک مضبوط قلعہ اور ڈھال ثابت ہوئی ہے۔ جب بھی ملت کو دینی، سماجی یا آئینی سطح پر کسی چیلنج کا سامنا ہوا، امارتِ شرعیہ نے بروقت رہنمائی کرتے ہوئے قیادت فراہم کی اور پوری جرأت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان عمل میں آئی۔
مولانا احمدحسین قاسمی مدنی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہرحال میں اپنی نسل نو کے تحفظ کے لیے دینی تربیت ناگزیر ہے، کیونکہ مضبوط دینی شعور کے بغیر گمراہی کی آندھیوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دینی بیداری کے ساتھ ساتھ آئینی و قانونی شعور پیدا کرنا بھی بے حد ضروری ہے، اور ایس آئی آر اسی شعوری جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ ہے،اس بیداری مہم اور ورک شاپ کا مقصد یہ ہے کہ ہر آبادی میں نوجوانوں کا ایسا طبقہ وجود میں آئے جو SIR کے موقع پر لوگوں کی رہنمائی کا عملی فریضہ انجام دے سکے۔
بعدازاں ریسرچ ٹیم کے اراکین مفتی قیام الدین قاسمی اور مفتی اکرام الدین صاحب قاسمی نے مشترکہ طور پر پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے ایس آئی آر کی عملی تربیت دی۔ انہوں نے نہایت سادہ، عام فہم اور عملی انداز میں ایس آئی آر کے تمام تکنیکی مراحل، دستاویزی تقاضوں اور احتیاطی نکات کو واضح کیا۔ شرکاء نے موقع پر ہی عملی مشق بھی کی، جس سے تربیت نہایت مؤثر ثابت ہوئی اور نوجوانوں میں آئندہ سرگرم کردار ادا کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف کے تحفظ کے موضوع پر نہایت اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف کی زمینوں پر لاء آف لمیٹیشن (Law of Limitation) لاگو ہوگا، اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وقف کی جائیدادوں کو ناجائز قبضوں سے فوری طور پر آزاد کرایا جائے، انہیں مکمل طور پر اپنے قبضے میں رکھا جائے اور صحیح و شرعی مصرف میں استعمال کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ وقف املاک سے غفلت آئندہ قانونی پیچیدگیوں اور مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
پروگرام کے دوران شرکاء کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور زمینی سطح پر درپیش مسائل کے عملی حل بھی پیش کیے گئے۔ شرکاء نے بھرپور عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر کے مرحلے میں وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ عوام کی رہنمائی کریں گے اور گھر گھر پہنچ کر اس قومی و ملی فریضے کو انجام دیں گے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جھارکھنڈ میں جاری ایس آئی آر بیداری مہم امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی مسلسل نگرانی میں انجام پا رہی ہے، جبکہ ناظمِ امارتِ شرعیہ حضرت مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی اس بات کے لیے ہمہ وقت فکرمند ہیں کہ کوئی بھی غریب، کمزور طبقہ لاعلمی کی بنا پر اپنے شہری حقوق سے محروم نہ رہ جائے۔
اس تربیتی ورکشاپ میں شہر کے معززین، سماجی کارکنان، دانشوران، نوجوانانِ ملت اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی کامیابی میں پاکوڑیا کے ذمہ داران مدرسے کے اساتذہ جامع مسجد مہیش پور کے ذمہ داران، اراکینِ مسجد اور دعوت و اصلاح سے وابستہ احباب نے اہم کردار ادا کیا۔
خوش آئند بات ہے کہ امارتِ شرعیہ کی اس بیداری و تربیتی مہم کے مثبت اثرات پورے جھارکھنڈ میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور جہاں جہاں یہ پروگرام منعقد ہو رہے ہیں وہاں عوام میں ایس آئی آر اور وقف کے تحفظ کے تعلق سے شعور اور بیداری نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔مورخہ 11 اور 12 جنوری کو ضلع گڈا کے مختلف مقامات پر یہ پروگرام منعقد کیا جائے گا،اس حلقے کے تمام لوگوں سے پروگرام میں شرکت کی درخواست ہے۔

Continue Reading

جھارکھنڈ

اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت:امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
رانچی :امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت اور مولانا مفتی سعید الرحمٰن قاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ایماء پر ضلع رانچی میں مولانا مفتی سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کی قیادت میں امارت شرعیہ کا دورہ وفد باقاعدہ شروع ہو چکا ہے یہ دورہ مورخہ 8 تا 15دسمبر ٢٠٢٥ء آٹھ روز پر مشتمل ہوگا ۔
وفد کا پہلا پروگرام دس بجے دن مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مڑما ، رانچی کی مسجد میں اور دوسرا پروگرام بعد نماز مغرب جامع مسجد برہامبے، رانچی میں منعقد ہوا اور دوسرے دن کا پروگرام فردوس نگر ،پھسرا ٹانڑ کی مسجد میں ظہر بعد اور مغرب کے بعد کنبھیٹا میں قائد وفد مولانا مفتی محمد سھیل اختر قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی صدارت میں منعقد ہوا، دونوں پروگرام میں شرکاء وفد نے یکے بعد دیگرے اپنی دعوتی و اصلاحی خطابات کے ساتھ ساتھ امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے پیغامات کو بھی لوگوں تک پہنچایا، دونوں پروگرام میں قائد وفد و صدر اجلاس نے اتحاد امت پر زور دیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن نے ہمیں اتحاد کی تعلیم دی ہے لیکن فی الوقت ہم لوگ قرآن کے اس پیغام و حکم سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اتحاد امت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور امارت شرعیہ کی بنیادی چیز اتحاد ہے اس لئے ہم لوگوں کو حضرت امیر شریعت کی اطاعت میں متحد ہو کر اپنی زندگی گزارنا چاہیے اور کلمۂ واحدہ کی بنیاد پر متحد اور مجتمع ہو جائیں تو ہم ایک مضبوط اور مستحکم قوم ہوں گے نیز ہم اللہ کی مدد و نصرت کے حقدار بن جائیں گے۔
وفد کے اہم رکن قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کربلا ٹینک روڈ رانچی مفتی محمد انور قاسمی نے اپنے خطاب میں ایمان کی پختگی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن نے مکمل طور پر ایمان میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اس حکم کی بجا آوری میں ہم پیچھے نظر آ رہے ہیں یعنی مکمل طور پر ایمان میں داخل ہوجائیں ہم ایمان کے تقاضے کو پورا کریں اور ایمانی پیغامات کو عام کریں، اسلام، قرآن و شریعت کی صحیح تصویر کو اپنے اعمال و کردار کے ذریعہ پیش کریں اور اپنے اعمال، اخلاق اور کردار کو درست کریں، اپنے معاملات کو درست کریں، ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کا معاملہ کریں، یہ اسلام کا اہم حکم اور امارت شرعیہ کا بڑا پیغام ہے۔
وفد کے خصوصی رکن مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ نے اپنے درد مندانہ خطاب میں امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کی خدمات و افادیت پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امارت شرعیہ کی سو سالہ خدمات سے لوگوں متعارف کرایا اور فرمایا کہ اے لوگوں امارت سے جڑ کر ایک امیر کی ماتحتی میں زندگی گزاریں اور امارت شرعیہ کا تعاون کریں اپنے اس ادارے کو تقویت بخشیں، شرکاء وفد میں سے دارالقضاء امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ لوہردگا کے قاضی شریعت مفتی عمر فاروق مظاہری نے دارالقضاء کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے معاملات کو دارالقضاء سے حل کرانے پر زور دیا مزید انہوں نے فرمایا کہ قرآنی حکم کے مطابق اپنے تنازعات و اختلافی معاملات شریعت کے مطابق دارالقضاء سے حل کرائیں اور قرآنی فرمان پر عمل پیرا ہوں نیز قرآن و حديث کی روشنی میں ہونے والے فیصلے کو تسلیم کرنا اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔
وفد کے رکن مفتی ابوداؤد قاسمی معاون قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ ،بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کربلا ٹینک روڈ رانچی نے نعت رسول صلی اللہ علیہ و سلم پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت پر ابتدائی گفتگو کی اور فرمایا کہ اپنے معاشرہ کی اصلاح کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اپنے بچوں اور نئی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی حفاظت کے لئے تعلیم و تربیت بنیادی ضرورت ہے، امارت شرعیہ شروع دن سے تعلیم و تربیت پر زور دیا ہے، شریک وفد مولانا سہیل سجاد قاسمی انچارج امارت پبلک اسکول نگڑی رانچی نے بھی گارجین حضرات کو بچوں کو مکتب اور اسکول سے جوڑنے کی ترعیب دی، دونوں پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، نظامت کے فرائض مولانا مزمل حسین قاسمی و حافظ شہاب الدین مبلغین امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ نے بہ حسن و خوبی انجام دیا، اخیر میں قائد وفد کی دعا پر دونوں پروگرام اختتام پذیر ہوا –

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network