(پی این این)
دیوبند:ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے کے مطالبہ کو لے کر کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے احتجاجوں کے مد نظر پورے ضلع میں اپوزیشن لیڈران پر پولیس کی نگرانی بڑھادی گئی ہے ۔کانگریس کا دعویٰ ہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر راہل گاندھی کی قیادت میں مجوزہ احتجاج میں شامل ہونے کے لئے جانے والے ضلع کے کئی لیڈران کو پولیس نے ان کے گھر وں میں نظر بند کردیا ہے ۔
اس کے علاوہ دہلی میں اپوزیشن لیڈران کے احتجاج کے دوران حراست میں لئے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں ۔کانگریس لیڈران کے مطابق سابق ضلع صدر چودھری مظفر ،مہانگر صدر منیش تیاگی سمیت سینئر کانگریس لیڈران کے گھروں پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات ہے ۔کانگریس مہانگر کے صدر منیش تیاگی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عوامی مسائل اور الیکشن سے متعلق باتوں کو اٹھائے جانے پر لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی گھنٹوں سے ان کے گھر پر پولیس تعینات ہے جس کی وجہ سے پارٹی کارکنان میں شدید ناراضگی ہے ۔وہیں دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے ’’لوک تنتر بچائو ہفتہ ‘‘ کے تحت جمعرات کو کارکنان نے پیدل مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں راستہ میںہی روک لیا ۔سماجوادی پارٹی کے کچھ لیڈران اور کارکنان کو بھی گھروں میں نظر بند کئے جانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔سماجوادی پارٹی کے لیڈران پولیس کی اس کارروائی پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر جمہوری حقوق کا گلہ گھوٹنے کے مترادف ہے ۔
اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ وہ ووٹر فہرست اور الیکشن کے عمل سے متعلق سوالات کو لے کر احتجاج کررہے ہیں ۔وہیں پولیس انتظامیہ کی جانب سے قانونی نظم ونسق اور حفاظت کے مد نظر کارروائی کی جارہی ہے ۔واضح ہو کہ کانگریس نے 8؍اکتوبرکو مذکورہ مسئلہ پر پورے ملک میں احتجاج کرنے اور دھرنا دیئے جانے کی اپیل کی تھی ۔
