(پی این این)
پریاگ راج:الہ آباد ہائی کورٹ نے نوئیڈا پولیس کی جانب سے ایک شخص کو حراست میں لیے جانے کو چیلنج کرنے والی حبسِ بے جا(غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے جانے) کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے پولیس افسران کو اس بات پر پھٹکار لگائی کہ مذکورہ شخص کو حراست میں لینے اور گرفتار کرنے کا طریقہ غیر قانونی تھا۔سماعت کے دوران جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی بنچ نے گوتم بدھ نگر کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اور ایس ایچ او سے زبانی طور پر کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ اس ریاست میں پولیس کی حالت انتہائی خراب ہے۔ افسران کو لگتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اس کے بعد بچ نکلیں گے۔
بنچ گوتم بدھ نگر کے رہنے والے دیپک کی حبسِ بے جا کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں گوتم بدھ نگر کے فیز-2 تھانے میں درج ایک معاملے کے سلسلے میں اسے حراست میں لیے جانے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ معاملے کے مطابق گزشتہ 23 اگست کو دو گروپوں کے درمیان تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ پولیس ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیپک اور چار دیگر افراد کو بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126، 135 اور 170 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
شیورام شرما کی تحریری رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس طرح غیر متنازع صورتِ حال یہ تھی کہ ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ہی درخواست گزار پولیس کی حراست میں تھا اور بعد میں پولیس کی حراست میں رہتے ہوئے ہی اسے مذکورہ ایف آئی آر میں باضابطہ طور پر گرفتار ظاہر کیا گیا۔ ایف آئی آر میں کئی افراد کے نام درج تھے، جبکہ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس میں اس کا نام شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس کا کوئی مخصوص کردار تھا۔
ہائی کورٹ کے سامنے ایک اور معاملہ بی این ایس ایس کی دفعہ 130 کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کے وقت سے متعلق تھا۔ الزام ہے کہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے درخواست گزار کو 24 اگست کو دفعہ 130 کے تحت نوٹس جاری کیا، جبکہ درخواست گزار کو اس سے ایک دن قبل ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔اس پر اعتراض کرتے ہوئے بنچ نے 5 اکتوبر کو خصوصی طور پر تبصرہ کیا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درخواست گزار کو بی این ایس ایس کی دفعہ 126 اور 170 کے تحت حراست میں لیے جانے سے پہلے جو نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تھا، وہ اسے حراست میں لیے جانے کے بعد کیسے جاری کیا گیا؟
عدالت نے کہا کہ اس سوال کا جواب صرف گوتم بدھ نگر کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس-1 ہی دے سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالت نے اے سی پی کو بی این ایس ایس کی دفعات 126، 135 اور 170 کے تحت کارروائی سے متعلق تمام دستاویزات کے ساتھ ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ گرفتار کرنے والے افسر نے گرفتار کیے گئے کسی بھی شخص کو یہ اطلاع نہیں دی کہ پوچھ گچھ کے دوران اسے اپنی پسند کے وکیل سے ملاقات کرنے کا حق حاصل ہے۔ ڈی ایس پی کملیش کانت، اے سی پی-2 (سینٹرل نوئیڈا) عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے پولیس سے ضمانتی مچلکے کی کارروائی کی دستاویز بندی کے بارے میں سوال کیا۔ عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ پولیس ریکارڈ میں یہ درج نہیں ہے کہ پولیس نے درخواست گزار سے ضمانتی رقم جمع کرنے کی اس کی خواہش کے بارے میں پوچھا تھا۔ گرفتاری کے ریکارڈ میں بھی کسی مخصوص رقم کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔عدالت نے کارروائی کی دستاویز بندی کے طریقے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے۔ درخواست گزار کی غیر قانونی حراست کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے اس کی درخواست منظور کرلی اور اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
ہائی کورٹ نے یوپی پولیس کولگائی پھٹکارا،ریاست میں مسلسل ہورہی غیر قانونی گرفتاریوں پرکیا سخت برہمی کا اظہار، کہا- آپ کو شرم آنی چاہیے
