تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
بہار

عید الفطر رمضان کی برکتوں کو سنبھالنے اور امت کی ذمہ داریوں کو یاد رکھنے کا وقت:امیرشریعت

(پی این این)
پٹنہ:عید الفطر کی آمد کے موقع پر امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے ملک اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور تمام اہلِ خیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا بابرکت مہینہ دراصل اپنے اندر تقوی، پرہیزگاری، ایمان کی مضبوطی ، صبر و اخوت اور ہمدردی جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرنے کا موقع تھا؛ لہذا اس بابرکت مہینہ میں صوم و صلوٰۃ ، اذکار و عبادات، تلاوت،تقوی و پرہیزگاری اور نوافل کی جو عادتیں ہمارے اندر پیدا ہوئی ہیں، انہیں عید کے بعد بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھنا چاہیے۔
آپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ صدقہ فطر کا نکالنا بھی ایک اہم دینی فریضہ ہے لہذا عید سے قبل ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم صدقۂ فطر ادا کردیں تاکہ ہمارے ضرورت مند بھائی بہن بھی اس خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلمان ایمان، صبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں، اپنی صفوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔
اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عید کے دن نظم و ضبط، امن و امان اور قانون کی پاسداری کا مکمل خیال رکھیں، ہر ایسی سرگرمی سے اجتناب کریں جو دوسروں کے لیے تکلیف یا پریشانی کا سبب بنے، سڑکوں کو بلا وجہ بند نہ کریں، اگر عیدگاہ میں جگہ کم ہو تو اضافی جماعتوں کا اہتمام کریں، اور اپنی خوشیوں میں برادرانِ وطن کو بھی شریک کریں۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی سے دور رہیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔ اگر کہیں کوئی مشکوک صورتحال ہو تو فوراً امارت شرعیہ اور پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیں۔
انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لغویات سے پرہیز کریں ، شریعت کے دائرے میں رہ کر عید کی خوشی منائیں،دینِ اسلام کی تعلیمات سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہیں، اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور سوشل میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کریں، تاکہ وہ خود بھی معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں اور امت کا سرمایہ بن سکیں۔انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ گھروں میں دینی ماحول کو فروغ دیں اور نئی نسل کی اسلامی تربیت کا فریضہ انجام دیں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد ایک باکردار اور باشعور خاندان سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں عید کے موقع پر بھی اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے جو مختلف خطوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عید کی خوشیوں کے موقع پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے، عیدگاہوں، مساجد اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھا جائے اور ماحول کو آلودہ کرنے والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس عید کو سادگی، شکرگزاری اور باہمی محبت کے ساتھ منائیں اور اپنے معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دینے کا عزم کریں۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس عید کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت، اتحاد و اتفاق اور امن و سلامتی کا ذریعہ بنائے، اور پوری انسانیت کو حقیقی خوشیوں سے نوازے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔