add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی روایت تعطل کا شکار – sachkiawaz.com
Connect with us

دیش

آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی روایت تعطل کا شکار

Published

on

جاوید جمال الدین
ممبئی:ممبئی میں عیدالفطر کی صبح ہمیشہ سے ایک روحانی، سماجی اور تہذیبی منظر پیش کرتی رہی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس مرد، رنگین کپڑوں میں بچے اور گھروں سے نکلتے خاندان جب عید کی نماز کے لیے رواں دواں ہوتے ہیں تو شہر کی فضا ایک خاص سرور میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنوبی ممبئی میں واقع آزاد میدان اس عظیم اجتماع کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتا تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے مسلمان نمازِ عیدین ادا کرنے آتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہ صدیوں پرانی روایت تعطل کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔یہ تبدیلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں اجازت کے پیچیدہ مراحل، تنظیمی انتشار، انتظامیہ کا عدم اعتماد اور شہری ترقیاتی دباؤ نمایاں ہیں۔
تاریخی پس منظر: ایک تہذیبی علامت:آزاد میدان میں عیدین کی نماز ایک صدی سے زائد پرانی روایت رہی ہے۔ برطانوی دور میں یہ میدان فوجی مشقوں اور عوامی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت بن گیا۔ماضی میں یہاں نماز کا انتظام ایک باقاعدہ کمیٹی کے تحت ہوتا تھا۔ اس دور میں مولانا ضیاء الدین بخاری جیسے جید عالم خطبہ دیتے تھے۔ ان کی پُراثر تقریر اور رقت آمیز دعا کے باعث نمازیوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف مذہبی رہنما تھے بلکہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے اور مسلم لیگ سے وابستہ ہو کر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔اس کمیٹی میں خلیفہ ضیاء الدین، ہارون موزے والا اور بابائے قوم یوسف پٹیل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے، جنہوں نے اس روایت کو منظم انداز میں برقرار رکھا۔
اجازت کا پیچیدہ نظام:ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ کے مطابق عیدگاہ کے لیے اجازت حاصل کرنا ایک کثیر سطحی اور پیچیدہ عمل ہے۔ان کے مطابق: یہ پرمیشن کوئی ایک ادارہ نہیں دیتا، بلکہ پولیس کمشنر، مقامی ڈی سی پی اور دیگر سرکاری محکمے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ آزاد میدان چونکہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت آتا ہے، اس لیے وہاں کی اجازت بھی ضروری ہوتی ہے، لیکن اصل فیصلہ کمشنر کا ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر یہ ایک رسمی کارروائی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ مکمل طور پر انتظامیہ کے اعتماد اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
تنظیمی انتشار اور اعتماد کا بحران:مقامی ذمہ داران کے مطابق اس روایت کے تعطل کی ایک بڑی وجہ تنظیمی کمزوری ہے۔فرید شیخ کے مطابق: پہلے تجربہ کار لوگ تھے، جن کا ایک مضبوط ریکارڈ تھا، مگر اب نئے لوگ بغیر تیاری کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ غیر سنجیدہ کوششوں نے پورا معاملہ بگاڑ دیا اور انتظامیہ کا اعتماد مجروح ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی معاملے پر مختلف گروپس الگ الگ کوشش کریں تو نہ صرف اتحاد متاثر ہوتا ہے بلکہ حکام کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف اور سیکورٹی خدشات:پولیس اور انتظامیہ کے مطابق بڑے اجتماعات کے لیے اجازت دیتے وقت شہری سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر کسی گروپ کی تنظیمی صلاحیت یا سنجیدگی پر شبہ ہو تو اجازت دینے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق: اگر کسی بڑے اجتماع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں مکمل تیاری اور اعتماد درکار ہوتا ہے۔
شہری ترقی اور محدود ہوتی جگہ:ممبئی میٹرو کے تحت جاری تعمیراتی کاموں نے بھی آزاد میدان کے استعمال کو متاثر کیا ہے۔کھدائی، محدود جگہ اور دیگر سرکاری سرگرمیوں کے باعث بڑے پیمانے پر اجتماع کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں کھلی جگہوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
متبادل انتظام: مساجد اور محدود گنجائش:آزاد میدان میں نماز نہ ہونے کی صورت میں نمازیوں کا رخ قریبی مساجد کی طرف ہو جاتا ہے، جن میں نمایاں جمعہ مسجد ممبئی ہے۔ اس کے علاوہ انجمن اسلام کے میدان میں بھی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں عید کے دن ایک کے بجائے کئی جماعتیں منعقد کی جاتی ہیں، تاہم اس سے نئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
جگہ کی کمی:عوامی ردعمل:عوام اس تبدیلی کو ایک نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک مقامی شہری عابد شیخ کے مطابق: آزاد میدان میں جو وسعت اور سکون تھا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔ وہاں سب ایک ساتھ ہوتے تھے، یہاں ہم مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جو اس روایت کی روح کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل:اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں سے آزاد میدان میں باقاعدہ نماز نہیں ہو رہی، اور کوئی مضبوط متفقہ قیادت بھی سامنے نہیں آئی۔ماہرین اور مقامی ذمہ داران کے مطابق اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ:ایک متحد اور منظم کمیٹی تشکیل دی جائے،تجربہ کار افراد کو شامل کیا جائے،پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ اجازت حاصل کی جائے،انتظامیہ کے ساتھ اعتماد بحال کیا جائے۔آزاد میدان میں نمازِ عیدین کا تعطل صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خلا کی علامت ہے۔ یہ روایت ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت اور شہر کی مشترکہ ثقافت کا اہم حصہ رہی ہے۔اگرچہ سیکورٹی خدشات اور شہری دباؤ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے ساتھ توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ روایت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔عید کی نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے، جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ آزاد میدان اس تجربے کی ایک مضبوط علامت رہا ہے۔اب سوال یہی ہے کہ کیا اس تاریخی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے دوبارہ زندہ کیا جا سکے گا، یا یہ ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن کر رہ جائے گی۔یہ فیصلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے اجتماعی شعور، اتحاد اور سنجیدگی پر منحصر ہے۔

دیش

سسٹم نہیں چاہتا طلبا پوچھیں سوال

Published

on

اندور:راہل گاندھی نے آج اندور میں چھاتروں کی گونج پروگرام میں کہا کہ سوال پوچھنا حکومت کو گراں گزرتا ہے۔ سسٹم نہیں چاہتا کہ طلبا سوال کریں،یہ خاموشی ہی اندھ بھکت پیدا کرتی ہے۔اس دوران راہل گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کو اسٹوڈنٹس سے خطرہ ہے، کیونکہ وہ سوال پوچھتا ہے۔ اسٹوڈنٹس پوچھتا ہے کہ امت شاہ کے بیٹے آئی سی سی کے چیئرمین کیسے بن گئے؟ ملک کے پورے بزنس کو 2 لوگوں نے کیسے کیپچر کر لیا؟ عدلیہ سمیت باقی ادارے اپنا کام کیوں نہیں کر رہے؟ الیکشن کمیشن اپنا کام کیوں نہیں کر رہا ہے؟
اندور میں ایک طالبہ نے راہل گاندھی کے سامنے اسٹوڈنٹس کے مسائل سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر تقرری روکے جانے کا سنگین مسئلہ بھی اٹھایا۔ انھوں نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں سسٹم کی زبردست ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’راہل گاندھی جی، آپ انصاف کے جنگجو ہیں۔ آپ مدھیہ پردیش کے اسٹوڈنٹس کو بھی انصاف دلائیں۔‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ امتحان کے دوران کچھ امیدواروں سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن کہیں نہ کہیں ان کا سسٹم پر بھروسہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ سن کر تقریب میں موجود کچھ طلبا نے کہا کہ ’’سر، ہم سسٹم سے ہار گئے۔‘‘ طلبا کی بات سننے کے بعد راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ’’سسٹم کے اندر بیٹھے کچھ لوگ بدعنوان ہو جاتے ہیں۔ پیسوں کے لالچ میں پیپر لیک کر دیتے ہیں اور لاکھوں طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر بدعنوان لوگ امتحان سسٹم کا حصہ بنے رہیں گے اور امتحان کا طریقہ ہی بدعنوانی پر مبنی ہوگا تو اس کا نقصان طلبا کو اٹھانا پڑے گا۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی ’بھارت جوڑو میدان‘ پہنچ چکے ہیں، اور ہزاروں طلبا کی بھیڑ نے زوردار نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ راہل گاندھی نے اسٹیج پر پہنچنے کے بعد طلبا اور نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے میرا جس طرح استقبال کیا، اس کے لیے شکریہ۔ میں یہاں آ کر بہت خوش ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ہر شہر میں پروگرام کے دوران طلبا سے جڑے ایشوز اور ان کے مستقبل کو لے کر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ ان میں پیپر لیک، تنظیمی ناکامی، انفراسٹرکچر کی کمی، تعلیم کے بڑھتے خرچ اور نجکاری جیسے ایشوز شامل ہیں۔‘‘
راہل گاندھی نے اندور کے پروگرام کا موضوع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اندور میں ہم نے طے کیا ہے کہ آج کا موضوع ’سسٹم بنام اسٹوڈنٹس‘ ہوگا۔ طلبا بتائیں گے کہ سسٹم کیا ہے، وہ طلبا کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور ان کے مستقبل کے سامنے کس طرح کے چیلنجز کھڑے ہو رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی یہ بھی کہتے ہیں کہ پروگرام میں کئی نوجوان اسٹیج پر پہنچ کر اپنی بات بے باکی کے ساتھ رکھیں گے۔
اندور کے ’بھارت جوڑو میدان‘ میں راہل گاندھی 7 بجے پہنچیں گے، جہاں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے وہ خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کی آمد سے گھنٹوں قبل ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ تقریب کے مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ راہل گاندھی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جو تقریباً 5 بجے کی ہے، جس میں طلبا اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک بڑے سے پنڈال کے اندر دکھائی دے رہی ہے۔ یہ ہزاروں افراد راہل گاندھی کی ایک جھلک دیکھنے جمع نہیں ہوئے ہیں، بلکہ ملک میں تعلیمی نظام کی خراب صورت حال کو بہتر بنانے کی امید لے کر پہنچے ہیں۔

Continue Reading

دیش

اتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر

Published

on

نئی دہلی:اتراکھنڈ میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے پل گاڑھ نالے پر بنا 170 فٹ لمبا بیلی برج تیز بہائو میں نذر ہوگیا۔ اس سے چین سرحد سے منسلک ویاس ، دارما اور چندوس دروں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے، یہ برج 27 اگست ہی بنایا گیا تھا، کیونکہ پرانا پل 18 اگست کو چٹان گرنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ ادھر چھتیس گڑھ کے جانجگیر چانپا میں ہسدیو ندی کے بہائو میں چار کالج طلبا بہہ گیے ہیں۔ صرف ایک طالب علم کی لاش ملی ہے۔ ولاس پور کے چوکسے پور کالج کے آٹھ طلبا وطالبات پکنک منانے گائوں پہنچے تھے۔ ندی کے کنارے سیلفی کے دوران ایک طالب علم کا پیر پھسلا جس کو بچانے کے لئے تین طلبا پانی میں کود گئے اور بہہ گئے۔
ادھر بہار میں سیلاب سے پندرہ اضلاع کے 47 لاکھ سے زیادہ افرا د متاثر ہیں۔ وہ رحت کیمپوں میں ہیں، گنگا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ یوپی کے چھبیس اضلاع بھی سیلاب کے نرغے میں ہیں۔ یہاں چار لاکھ کی آبادی متاثر ہے۔
21 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقام پر پہنچائے گئے ہیں۔ کانپور انائو میں گنگا خطرےکے نشان تک پہنچ گئی ہے آس پاس کے علاقوں میں دس فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ ادھر راجستھان میں مانسون سرگرم ہوگیا ہے۔
ایم پی کے پندرہ ضلعوں میں بھاری بارش کا الرٹ ہے۔ جبکہ راجستھان میں 29 اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ راجستھان کے الور ، سوائی مادھو پور ، دوسہ میں تیز بارش سے سڑکوں پر پانی بھر گیا ہے۔ آر ایف بی کے جوان پانی نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔دموہ میں کئی علاقے ڈوب گئے ہیں۔

Continue Reading

دیش

برکس کے مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی مذمت،ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی،دہشت گردی پر سخت پیغام

Published

on

نئی دہلی :برکس کے مشترکہ اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ روس ، چین سمیت برکس کے ملکوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔
برکس کے درمیان مشترکہ بیان جاری کرنے کا اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ چل رہی ہے۔ اور ایران سعودی عرب ، یو اے ای کے الگ الگ نظریات ہیں۔ ہندوستان نے گفتگوکے ذریعہ اعتراض کو دور کرنے اور ارکان ممالک کے درمیان عام اتفاق بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت منڈپم میں برکس کے رکن ممالک نے ’برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026‘ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
تقریباً 45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے، اسے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری تشویش کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلامیے میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خلاف اپنائے گئے سخت موقف میں ہندوستان کی اہم تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، کسی بھی مقام یا کسی بھی شخص کی جانب سے کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اعلامیے میں صرف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت تک بات محدود نہیں رہی، بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور اسے مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، وہ کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد کی جان گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے تمام عناصر، ان کے مالی معاونین اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network