Connect with us

دیش

آزاد میدان میں نمازِ عیدین کی روایت تعطل کا شکار

Published

on

جاوید جمال الدین
ممبئی:ممبئی میں عیدالفطر کی صبح ہمیشہ سے ایک روحانی، سماجی اور تہذیبی منظر پیش کرتی رہی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس مرد، رنگین کپڑوں میں بچے اور گھروں سے نکلتے خاندان جب عید کی نماز کے لیے رواں دواں ہوتے ہیں تو شہر کی فضا ایک خاص سرور میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جنوبی ممبئی میں واقع آزاد میدان اس عظیم اجتماع کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتا تھا، جہاں دور دراز علاقوں سے مسلمان نمازِ عیدین ادا کرنے آتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں یہ صدیوں پرانی روایت تعطل کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔یہ تبدیلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں اجازت کے پیچیدہ مراحل، تنظیمی انتشار، انتظامیہ کا عدم اعتماد اور شہری ترقیاتی دباؤ نمایاں ہیں۔
تاریخی پس منظر: ایک تہذیبی علامت:آزاد میدان میں عیدین کی نماز ایک صدی سے زائد پرانی روایت رہی ہے۔ برطانوی دور میں یہ میدان فوجی مشقوں اور عوامی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت بن گیا۔ماضی میں یہاں نماز کا انتظام ایک باقاعدہ کمیٹی کے تحت ہوتا تھا۔ اس دور میں مولانا ضیاء الدین بخاری جیسے جید عالم خطبہ دیتے تھے۔ ان کی پُراثر تقریر اور رقت آمیز دعا کے باعث نمازیوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ وہ نہ صرف مذہبی رہنما تھے بلکہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے اور مسلم لیگ سے وابستہ ہو کر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔اس کمیٹی میں خلیفہ ضیاء الدین، ہارون موزے والا اور بابائے قوم یوسف پٹیل جیسے سرکردہ افراد شامل تھے، جنہوں نے اس روایت کو منظم انداز میں برقرار رکھا۔
اجازت کا پیچیدہ نظام:ممبئی امن کمیٹی کے صدر فرید شیخ کے مطابق عیدگاہ کے لیے اجازت حاصل کرنا ایک کثیر سطحی اور پیچیدہ عمل ہے۔ان کے مطابق: یہ پرمیشن کوئی ایک ادارہ نہیں دیتا، بلکہ پولیس کمشنر، مقامی ڈی سی پی اور دیگر سرکاری محکمے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ آزاد میدان چونکہ پی ڈبلیو ڈی کے تحت آتا ہے، اس لیے وہاں کی اجازت بھی ضروری ہوتی ہے، لیکن اصل فیصلہ کمشنر کا ہوتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بظاہر یہ ایک رسمی کارروائی لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ مکمل طور پر انتظامیہ کے اعتماد اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔
تنظیمی انتشار اور اعتماد کا بحران:مقامی ذمہ داران کے مطابق اس روایت کے تعطل کی ایک بڑی وجہ تنظیمی کمزوری ہے۔فرید شیخ کے مطابق: پہلے تجربہ کار لوگ تھے، جن کا ایک مضبوط ریکارڈ تھا، مگر اب نئے لوگ بغیر تیاری کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کچھ غیر سنجیدہ کوششوں نے پورا معاملہ بگاڑ دیا اور انتظامیہ کا اعتماد مجروح ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی معاملے پر مختلف گروپس الگ الگ کوشش کریں تو نہ صرف اتحاد متاثر ہوتا ہے بلکہ حکام کے لیے بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف اور سیکورٹی خدشات:پولیس اور انتظامیہ کے مطابق بڑے اجتماعات کے لیے اجازت دیتے وقت شہری سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر کسی گروپ کی تنظیمی صلاحیت یا سنجیدگی پر شبہ ہو تو اجازت دینے میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق: اگر کسی بڑے اجتماع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیں مکمل تیاری اور اعتماد درکار ہوتا ہے۔
شہری ترقی اور محدود ہوتی جگہ:ممبئی میٹرو کے تحت جاری تعمیراتی کاموں نے بھی آزاد میدان کے استعمال کو متاثر کیا ہے۔کھدائی، محدود جگہ اور دیگر سرکاری سرگرمیوں کے باعث بڑے پیمانے پر اجتماع کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں کھلی جگہوں کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
متبادل انتظام: مساجد اور محدود گنجائش:آزاد میدان میں نماز نہ ہونے کی صورت میں نمازیوں کا رخ قریبی مساجد کی طرف ہو جاتا ہے، جن میں نمایاں جمعہ مسجد ممبئی ہے۔ اس کے علاوہ انجمن اسلام کے میدان میں بھی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں عید کے دن ایک کے بجائے کئی جماعتیں منعقد کی جاتی ہیں، تاہم اس سے نئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
جگہ کی کمی:عوامی ردعمل:عوام اس تبدیلی کو ایک نقصان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک مقامی شہری عابد شیخ کے مطابق: آزاد میدان میں جو وسعت اور سکون تھا، وہ کہیں اور ممکن نہیں۔ وہاں سب ایک ساتھ ہوتے تھے، یہاں ہم مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، جو اس روایت کی روح کے خلاف ہے۔
موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل:اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں سے آزاد میدان میں باقاعدہ نماز نہیں ہو رہی، اور کوئی مضبوط متفقہ قیادت بھی سامنے نہیں آئی۔ماہرین اور مقامی ذمہ داران کے مطابق اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ:ایک متحد اور منظم کمیٹی تشکیل دی جائے،تجربہ کار افراد کو شامل کیا جائے،پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ اجازت حاصل کی جائے،انتظامیہ کے ساتھ اعتماد بحال کیا جائے۔آزاد میدان میں نمازِ عیدین کا تعطل صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خلا کی علامت ہے۔ یہ روایت ممبئی کے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت اور شہر کی مشترکہ ثقافت کا اہم حصہ رہی ہے۔اگرچہ سیکورٹی خدشات اور شہری دباؤ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے ساتھ توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ روایت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔عید کی نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے، جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ آزاد میدان اس تجربے کی ایک مضبوط علامت رہا ہے۔اب سوال یہی ہے کہ کیا اس تاریخی روایت کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے دوبارہ زندہ کیا جا سکے گا، یا یہ ماضی کی ایک خوبصورت یاد بن کر رہ جائے گی۔یہ فیصلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کے اجتماعی شعور، اتحاد اور سنجیدگی پر منحصر ہے۔

دیش

ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار

Published

on

نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

Continue Reading

دیش

بہار کے 13اضلاع زیر آب،یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین،کئی ہلاک

Published

on

لکھنؤ: یوپی میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ 7سے زائد افراد کے مرنے کی خبریں ہیں، وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب کاشی میں 407 افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ اب تک 20ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جاچکا ہے۔
یوپی کے 23 اضلاع میں سیلابی کیفیت ہے۔ دریں اثنا بہار کے 13 اضلاع سیلابی کیفیت سے دوچار ہیں۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ پٹنہ میں گنگا خطرے کے نشان سے 2 فٹ اوپر بہہ رہی ہے۔ 8ندیوں کی طغیانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ لینڈ سلائڈنگ سے ہماچل پردیش میں 175 سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ مدھیہ پردیش کے آدھے حصے میں زبردست بارش کے تحت الرٹ جاری ہے۔ چھتر پور ساگر ، رائے سین، نرسنگ پل، سیونی اور بیتول میں عوام کو الرٹ رہنے کیلئے کہا گیا ہے۔
افسران نے این ڈی آر ایف کی کشتی کے ذریعے نمو گھاٹ سے سفر کرتے ہوئے سالارپور، سرائیا، کونیا، پل کوہنا، ڈھیلوریا اور سرائے موہانا سمیت مختلف علاقوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کر کے انہیں ہر ممکن انتظامی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ضلع مجسٹریٹ نے حکام کو ہائی الرٹ رہنے اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے پیشگی انتظامات، کشتیوں اور دیگر امدادی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کو کہا۔ پولیس اور این ڈی آر ایف اہلکاروں کو بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی اور مسلسل نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔سیلاب متاثرین کے لیے قائم ریلیف کیمپوں میں خوراک، پینے کا پانی، بجلی، روشنی، صفائی، طبی سہولیات اور سکیورٹی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ طبی ٹیموں کو باقاعدگی سے صحت کا معائنہ کرنے اور ضروری ادویات دستیاب رکھنے کو کہا گیا ہے۔دوسری جانب ریاست کے مجموعی سیلابی منظرنامے کے مطابق اب تک 35 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فی الحال 23 اضلاع میں سیلاب کا اثر برقرار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16,784 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 3,042 افراد کو بدھ کے روز نکالا گیا۔ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے لیے ریاست میں 1,499 کشتیاں اور موٹر بوٹس جبکہ 1,067 طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ حکومت نے 1,311 سیلاب ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں سے 201 اس وقت فعال ہیں۔ سیلاب سے مکانات کو پہنچنے والے نقصان کے 442 معاملات میں بھی امداد فراہم کی گئی ہے، جبکہ 36,287 مویشی متاثر ہوئے ہیں۔غازی پور میں بھی گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہاں پوستا گھاٹ پر لوگوں کو تیز بہاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے لگایا گیا فلوٹنگ بیریئر مبینہ طور پر گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے ایک سرے سے کھلا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تیز دھار میں بیریئر کا ایک حصہ جھول رہا ہے، جس سے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔انتظامیہ نے گنگا کے اہم گھاٹوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے پانی کے دوران حفاظتی آلات کا درست حالت میں ہونا بھی ضروری ہے۔ ان کی مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر فلوٹنگ بیریئر کو محفوظ کرے اور تمام گھاٹوں پر موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network