Connect with us

دیش

ممبئی میں بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال، ہندو ڈاکیہ مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رکھتا ہےروزہ

Published

on

(پی این این)
ممبئی:ممبئی کو ہمیشہ سے ایک کاسموپولیٹن شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس شہر کی شناخت صرف اس کی معاشی سرگرمیوں یا تیز رفتار زندگی سے نہیں بلکہ یہاں کے عوام میں پائی جانے والی بھائی چارہ، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی روایات سے بھی ہوتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں اور خوشیوں میں شریک ہو کر ایک مثالی معاشرتی ہم آہنگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی جذبۂ خیر سگالی کی ایک خوبصورت مثال ممبئی کے نواحی علاقے کلیان سے سامنے آئی ہے جہاں ایک ہندو ڈاکیہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھ کر مذہبی بھائی چارے کا پیغام دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ ڈاک میں خدمات انجام دینے والے پوسٹ مین پنڈلک ٹھاکر گزشتہ کئی دہائیوں سے کلیان میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے ان کے پڑوس میں کئی مسلم خاندان آباد رہے ہیں اور ان کی دوستی کا دائرہ بھی بڑی حد تک مسلم دوستوں پر مشتمل رہا ہے۔ اسی میل جول اور باہمی تعلقات کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔پنڈلک ٹھاکر بتاتے ہیں کہ ان کے محلے میں ہندو اور مسلمان خاندان ایک دوسرے کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دیوالی، گنیش چتُرتھی، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ جیسے مواقع پر محلے کے لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی ماحول انہیں ہمیشہ سے متاثر کرتا رہا اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا تجربہ بھی کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ماہِ رمضان کے روزے رکھنا انہیں روحانی طور پر بہت اچھا لگتا ہے اور اس سے انہیں اپنے مسلم پڑوسیوں کے مذہبی جذبات کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ تاہم روزانہ روزہ رکھنا ان کے لیے آسان نہیں کیونکہ انہیں روزانہ کلیان سے ممبئی تک تقریباً ساٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ صبح سویرے لوکل ٹرین کے ذریعے ممبئی پہنچ کر انہیں پورا دن ڈاک کی تقسیم کا کام بھی انجام دینا ہوتا ہے۔اسی مصروفیت کے باعث وہ گزشتہ تقریباً پندرہ برس سے رمضان کے آخری جمعہ، جسے عموماً جمعہ الوداع کہا جاتا ہے، کے موقع پر روزہ رکھتے ہیں۔ اس دن وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری کے لیے جاگتے ہیں اور سحری کے بعد جلدی اپنی ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس دن ڈاک کی تقسیم کا کام جلد مکمل کر کے شام تک واپس کلیان پہنچ جائیں تاکہ محلے کے دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ مل کر افطار کر سکیں۔
پنڈلک ٹھاکر کے مطابق روزہ رکھنے کا تجربہ انہیں صبر، ضبط اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کا سبق دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری اور افطار میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا محلہ ایک ہی خاندان کا حصہ ہو۔ ان کے بقول یہی جذبہ ممبئی کی اصل روح ہے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پنڈلک ٹھاکر کا یہ عمل صرف ایک شخصی روایت نہیں بلکہ اس شہر کی دیرینہ ثقافت کا مظہر ہے۔ محلے کے بزرگوں کے مطابق ممبئی میں دہائیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ رمضان میں غیر مسلم پڑوسی افطار میں شریک ہوتے ہیں جبکہ تہواروں کے موقع پر مسلمان بھی اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ممبئی صرف معاشی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ ماضی میں بھی اس شہر نے مشکل حالات میں اتحاد اور یکجہتی کی مثالیں پیش کی ہیں اور آج بھی عام شہری اپنے طرزِ عمل سے اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ماہرینِ سماجیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر اس کے باوجود ہندوستان کے کئی شہروں میں عام لوگ عملی طور پر بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم کرتے ہیں۔ ان میں پنڈلک ٹھاکر جیسے افراد شامل ہیں ۔بزرگوں کا کہنا ہے کہ ممبئی کی گلیوں اور محلوں میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو اس شہر کی خیر سگالی اور ہم آہنگی کی فضا کو ظاہر کرتے ہیں۔ کلیان کے ایک محلے میں ہندو ڈاکیہ کا اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ روزہ رکھنا بھی اسی روایت کی ایک دلکش مثال ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ باہمی احترام اور محبت کے ذریعے مختلف مذاہب کے لوگ نہ صرف ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی خوشیوں اور عبادتوں میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔یہی وہ جذبہ ہے جو ممبئی کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی علامت بناتا ہے۔

انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

Published

on

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار

Published

on

نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network