تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
بہار

عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی جمعۃ الوداع کی نماز

(پی این این)
سیتامڑھی:ماہِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی الوداع جمعہ کے موقع پر سیتامڑھی میں مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس موقع پر ہر عمر کے لوگوں میں خاصا جوش دیکھا گیا، خصوصاً بچوں میں الوداع جمعہ کی نماز کو لے کر خاصا جذبہ نظر آیا۔اس کے ساتھ ہی مسلم معاشرے میں عیدالفطر کی تیاریوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عیدالفطر 20 مارچ یا 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔
الوداع جمعہ کی نماز کے موقع پر علما نے بتایا کہ اسلام میں جمعہ کا دن بہت اہمیت رکھتا ہے اور ماہِ رمضان میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمعہ کو چھوٹی عید کا درجہ حاصل ہے۔ اس سال ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو چار جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا، جبکہ رمضان کے آخری جمعہ کو الوداع جمعہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر مولانا محمد مظہر قاسمی نے بتایا کہ الوداع جمعہ دراصل رمضان المبارک 2026 کی رخصتی کی علامت ہے۔ رمضان کے آخری جمعہ کو مسلمان خوشی اور عقیدت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
نماز کے لیے لوگ نئے کپڑے پہن کر مساجد پہنچے۔ خاص طور پر بچوں نے رنگ برنگے نئے لباس پہن کر مختلف مساجد میں نماز ادا کی، جس سے ایک خوشگوار اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا۔ بزرگوں کے ساتھ بچے بھی جوق در جوق مساجد کی طرف جاتے نظر آئے۔الوداع جمعہ کے موقع پر معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور باہمی محبت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی، فیاض عالم عرف سونو بابو، محمد بشارت کریم گلاب، حاجی محمد حشمت حسین، مولانا محمد سہراب، امام خورشید عالم، عبدالودود، محمد جوہر علی تاج، ارشد سلیم، حافظ محمد نظام، محمد مرتضیٰ، محمد علیم اللہ، محمد افروز عالم، توقیر انور عرف سکند، محمد مظہر علی راجہ، حاجی عبداللہ رحمانی، محمد جنید عالم، محمد سہیل اختر، عطااللہ رحمانی سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔
اس دوران مدرسہ رحمانیہ مہسول کی مسجد کے امام مولانا محمد مظہر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان عام دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان میں زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ شریعت میں الوداع جمعہ کی کوئی الگ یا خصوصی فضیلت بیان نہیں کی گئی ہے، تاہم چونکہ یہ عیدالفطر سے پہلے آنے والا آخری جمعہ ہوتا ہے، اس لیے خود بخود اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عظمت، برکت، رحمت اور مغفرت کا بابرکت مہینہ رمضان اب ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور دوبارہ آئندہ سال ہی نصیب ہوگا۔ رمضان کے آخری عشرے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسے مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔