تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دلی این سی آر

نفرت انگیزی پرسپریم کورٹ کا سما عت سے انکار مایوس کن:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ ماہ رمضان المبارک میں روزوں اور تراویح کی پورے مہینے میں پابندی کریں نیز روزہ کے دوران کسی بھی قسم کے غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل سے اجتناب کریں رمضان میں ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی کا حکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدس مہینے میں عبادت کے لیے انتظامیہ کی طرف سے مکمل انتظامات کیے جائیں گے اس کی امید کی جاتی ہے لیکن اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو تو علاقے کے عوام کا تعاون حاصل کیا جائے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی جائے علاقے کے لوگوں کے تعاون سے ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ آسام کے وزیراعلی نے نفرت انگیزی اور اقلیتی فرقہ کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں حد سے تجاوز کر رکھا ہے جس کی خبر یں برابر میڈیا میں آرہی ہیں اس کے باوجود سپریم کورٹ کا اشتعال انگیزی کے خلاف مقدمے کی سماعت سے انکار کرنا مایوس کن ہے سپریم کورٹ کے اس رویے سے شر پسند عناصر کے حوصلے بلند ہوں گے ،سپریم کورٹ کا دروازہ تو سب کے لیے ہر وقت کھلا رہنا چاہیے اور یہی آئین کی دفعہ 32 کا مقصد ہے جو آئین کی روح ہے۔
مفتی مکرم نے کہا کہ ضلع بریلی کے محمد گنج علاقہ میں ذاتی مکان میں نماز پڑھنے سے روکنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر کے انصاف کا بول بالا کیا ہے، اپنی ذاتی جگہ میں مذہبی پر وگرام اور عبادت کرنے میں کہیں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ 77 سال ہو گئے ہیں آزادی کے بعد سے یہی ماحول تھا تو اب اقلیتی فرقہ کو ذاتی جگہ میں عبادت سے روکنا کیا معنی رکھتا ہے۔ دوسرے مذہب والوں پر کہیں کوئی پابندی نہیں ہے تو مسلمانوں پر بھی نہیں ہونی چاہیے خاص کر رمضان المبارک میں اس کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔