تازہ ترین
دہلی میں 598 کروڑ کی لاگت کا نیا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تیارسی جے پی لیڈر رتنا سنگھ کی بڑھی مشکلیں، توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی ملی منظوریشقِ قمرکے معجزے نے کی ہندوستان میں اشاعتِ اسلام کی راہ ہموارآلودگی کے اعداد و شمار میں جعل سازی کرکے بی جے پی عوام کی صحت سےکر رہی ہے کھلواڑچراغ پاسوان نے ترقیاتی اسکیموں کارکھاسنگ بنیاد، ویشالی میں پی ایچ ای ڈی کے نئے اور جدید عمارت کا مرکزی وزیرنے کیا افتتاحسیتامڑھی میں پانچ نئی نگر پنچایتوں کے قیام کی راہ ہموار، سُرسنڈ اور بیلسنڈ نگر پنچایت کو نگر پریشد کا درجہ دینے کی تجویز منظور، 20 نکاتی کمیٹی کی میٹنگ میں متفقہ طور پر قرارداد پاسچند ہزار روپے کی رشوت نے پہنچایا جیل، گیاجی میں نگرانی ٹیم کے جال میں پھنسے دو سرکاری امینٹھیکے پرکام کرنے والے ملازمین کیلئے حکومت کا تحفہ، ریاست کی یوگی حکومت نے اعزازیہ میں کیا ڈیڑھ گنا تک کا اضافہ
دیش

شقِ قمرکے معجزے نے کی ہندوستان میں اشاعتِ اسلام کی راہ ہموار

حیدرآباد: دُنیائے انسانیت کیلئے مسلمانوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے یہی کارنامے ہماری توانائیوں کا سرچشمہ ہیں، ہمارے اسلاف نے پورے خلوص اور للہیت کے ساتھ مذہب اور نظریات کو درمیان میں لائے بغیر جو خدمات پیش کیں ہم ان کے جذبات اور قوتِ عمل کے امین ووارث ہیں۔ ان سے فکری وعملی نسبت ہمیں شاہراہِ حیات پر اعتماد وحوصلہ کے ساتھ نہ صرف گامزن رکھ سکتی ہے بلکہ آگے بڑھنے میں ممدومعاون بن سکتی ہے۔
یہی نسبت ہمیں مخالف ماحول میں احساسِ کمتری کا شکار ہونے سے نہ صرف محفوظ رکھے گی بلکہ اس سے مشکل سے مشکل مرحلہ پارکرنے کا جذبہ پَروان چڑھے گا۔ موجودہ حالات میں عملی اقدامات کیلئے کمربستہ ہونے والوں کیلئے اس سے رہنمائی ملنے کے ساتھ حال اور مستقبل کو سنوارنے میں یہ نسبت مددگار بھی ثابت ہوگی۔
مولانا خلیل احمد ندوی نظامی‘ سابق ماہرِکتبات عربی وفارسی‘ محکمۂآثارِقدیمہ‘ چیئرمین صمدانی گروپ آف ایجوکیشنل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹس‘ کمپیوٹر ٹریننگ اینڈ لینگویجس سنٹر NCPUL وفانوسِ آگہی (تاریخِ اسلام وثقافتِ اسلامیہ سے نئی نسل کو واقف کرانے کیلئے کل ہند سطح پر انٹر اسکولس؍ کالجس مقابلۂ جات) حیدرآباد نے مسجد کالی کٹ یونیورسٹی ایریا‘ ملاپورم روڈ‘ کیرالا قندیلِ رحمانی کے تحت ہمارے اسلاف کی تاریخ پڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا: ہندوستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں حضرت آدمؑ کا نزول ہوا، اسی دورمیں آسمان سے نزولِ پیامات کا وحی کی صورت میں سلسلہ کا آغاز ہوا، اس کا استقبال بھی سب سے پہلے سرزمینِ ہند ہی نے کیا، آنحضرتؐ کی بعثت سے پہلے بھی عربوں کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات تھے، ملابار‘ کیرالا کے علاقہ سے، اسلام کا پہلا سورج بھی اسی علاقہ میں عرب تاجروں کے دریعہ چمکا، کہا جاتا ہے کہ شق القمر چاند کے دوٹکڑے ہونے کا معجزہ بھی ملابار کے راجہ نے دیکھا جو اس کے دخولِ اسلام کا سبب بنا، یہیں سے اسلام کی شعاعیں سری لنکا‘ مالدیپ اور لکشادیپ اور پھر انڈونیشیاء وملیشیا پہنچیں۔
امیرالمؤمنین حضرت عمربن خطابؓ کے دورخلافت میں عمان‘ بحرین کے گورنر حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کے حکم پر ان کے بھائی حکم بن ابی العاصؓ کی قیادت میں بمبئی سے قریب تھانے کے علاقہ میں فاتحانہ داخلہ ہوا۔
حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے دورِخلافت میں حضرت مہلب بن ابی صفرہؓ کے ذریعہ ملک سندھ کی چیدہ چیدہ فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ سیستان کے راستہ سے بھروچ گجرات پر فوج کشی حضرت علیؓ کے دورخلافت میں ہوئی۔ حضرت معاویہؓ کے دورمیں بلوچستان‘ سندھ‘ جنوبی پنجاب اور شمالی گجرات کے حصہ پر مشتمل علاقہ پر حضرت مہلب بن ابی صفرہؓ کو گورنر بنایا گیا، حضرت مہلبؓ کی دوسری مہمات پر جانے کی وجہ سے ہندوراجہ چچ نے دوبارہ ان علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ اسلامی اُصولوں کی سادگی‘ مساوات‘ اخوت اور وحدانیت کی تعلیم نے یہاں کے غیرمسلموں کو اسلام میں داخل ہونے کی راہ ہموارکی۔ ملابار میں حضرت مالک بن دینارؒ کی آمد کے بعد اشاعتِ اسلام میں تیزی آئی۔ ہندوستان سے عرب ملکوں کو بطورتجارت گرم مصالح‘ چمڑے‘ ناریل‘ ہاتھی دانت‘ ریشم‘ زعفران اور ململ کے کپڑے جاتے تھے، وہاں سے کھجور‘ زیتون اور عربی گھوڑے ہندوستان کی منڈیوں میں برائے فروخت آتے جن کی بڑی مانگ تھی، بعض مؤرخین کے مطابق سترہ صحابہؓ اور چوالیس تابعینؒ کا ہندوستان میں آنا ثابت ہے۔ جنوبی ہند میں ان کی مزارات اور اُس دور کی مساجد کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ وہ تجارتی مال کے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے کر آئے جو یہاں کے باشندوں کو متاثر کرتا اور وہ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے۔ اموی خلیفہ ولیدبن عبدالملک کے دورمیں باضابطہ سندھ فتح کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سندھ کے راجہ داہر نے ساحل سے گزرنے والے جہازپر حملہ کیا، اس میں سوار حاجیوں اور تاجروں کے ساتھ بدسلوکی کی، کچھ کو قتل کیا اور باقی کو جیل میں بند کردیا، عراق کے گورنر حجاج بن یوسف نے اس کی گرفت کی، تاوان دینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، ابتدائی بات چیت سے جب راجہ داہر کسی نتیجہ پر پہنچنے سے گریز کرنے لگاتو پھر بنوامیہ کے خلیفہ سے معاملہ رجوع کیا گیا، حالات کی نزاکت کے لحاظ سے اس نے کسی فوجی حملے کو مناسب نہیں سمجھا، لیکن حجاج بن یوسف نے کسی طرح مناکر عسکری پیش قدمی کیلئے خلیفہ کو راضی کرلیا، حجاج نے اپنے بھتیجے محمدبن قاسمؒ کی سرکردگی میں سندھ پر چڑھائی کیلئے فوج روانہ کردی، محمدبن قاسمؒ کی عمر اس وقت سترہ سال کی تھی، لیکن انہوں نے اپنی حکمتِ عملی سے اس مہم میں کامیابی حاصل کی۔ راجہ داہر ماراگیا اور پورے سندھ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ محمدبن قاسمؒ نے برصغیرہند میں اپنی پیشقدمی جاری رکھی، کاٹھیاواڑ‘ گجرات پر قبضہ کیا، شمال میں ملتان‘ پنجاب کو اپنے قبضہ میں لیا، اس کے بعد اُن کا اگلا اقدام قنوج پر چڑھائی کاتھا‘ جس کا راجہ یوپی‘ بہار اور بنگال تک پورے شمالی ہند پر حکومت کرتا تھا‘ اس حملہ کی پوری تیاری کرلی گئی تھی لیکن اچانک خلیفہ ولیدبن عبدالملک کا انتقال ہوگیا‘ دمشق کے حالات بدل گئے جس کی وجہ سے محمدبن قاسمؒ کو واپس جاناپڑا۔ اس طرح ہندوستان پر مسلم حکمرانوں کا دور محمدبن قاسمؒ سے شروع ہوتا ہے۔ پورے برصغیربشمول آج کا ہندوستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور افغانستان پر حکمرانی کا اعزاز صرف مسلم حکمرانوں کو حاصل ہے جو گھٹتابڑھتا1948 کے سقوط حیدرآباد تک جاری رہا۔ ہندوستان کی تاریخ مختلف ادوار سے بھری ہوئی ہے۔ راجاؤں‘ مہاراجاؤں‘ سلاطین اور شاہانِ وقت نے اپنے اپنے اندازسے یہاں حکومت کی‘ لیکن ملک کو تہذیب کے انمول جواہر سے اور تمدن کے بیش بہا شہ پاروں سے آراستہ کرنے کا اعزاز صرف مسلم حکمرانوں کو حاصل ہے۔ جنہوں نے اس ملک کو اپنا وطن بناکر اپنی پوری توانائی اور زندگی کے ایک ایک قیمتی لمحہ کو اس ملک کو آباد کرنے‘ سنوارنے‘ خوشحال وسرسبزوشاداب رکھنے میں گزاردیا۔ رعایا کی بھرپور خدمت اور ان کی بھلائی کیلئے نظم ونسق کے ہرشعبہ کو منظم ومتحرک کرتے ہوئے بلاتفریق مذہب وملت ہرایک کو فائدہ پہنچاتے رہے، اور تعمیروترقی کے ایسے انمٹ ونایاب یادگار چھوڑے جن کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی، لیکن آج کی یہ نسل تاریخ کے اس سنہرے باب سے ناآشنا ہے۔ سماجی علوم میں تاریخ کا مطالعہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخ سے ماضی کے حالات‘ قوموں کی تبدیلی اور سیاسی نشیب وفراز سے واقفیت کے ساتھ مختلف انسانی گروہ‘ حکمرانوں‘ فاتحین اور حملہ آوروں کے عروج وزوال کی داستانیں بھی معلوم ہوتی ہیں، اپنے اسلاف اور سابقین کے کارناموں کا علم ہوتا ہے جس سے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ساتھ ہی ماضی کی غلطیوں سے دامن بچانے کی توفیق بھی ملتی ہے، کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کی تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں