تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
Bihar

خانقاہی فکر کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر مشائخ کا اہم مشاورتی اجلاس

پٹنہ:خانقاہی فکر کے بینر تلے بہار کی مختلف خانقاہوں کے سجادہ نشینان، ولی عہدان، علماء، مشائخ اور خانقاہی نمائندگان کا ایک اہم آن لائن مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خانقاہی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نئی نسل کی دینی و روحانی تربیت، خانقاہوں کے باہمی رابطے، علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق کے دائرے کو وسیع کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کا آغاز سید شاہ حامد رضا مدثر قادری، امجھر شریف کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ٹی ایم ضیاء الحق نے انجام دیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ خانقاہوں کا مقصد اختلافات کو ہوا دینا یا فتویٰ بازی نہیں، بلکہ انسان کی اصلاح، کردار سازی اور خدمتِ خلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان خانقاہوں سے رہنمائی کا منتظر ہے، اس لیے نئی نسل کی فکری، دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔
سید شاہ صباح الدین چشتی نے مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ روحانی و اخلاقی تربیت کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ سید شاہ سلمان مودودی چشتی نے فکری انتشار اور انتہاپسندی کے مقابلے میں خانقاہی فکر کے اعتدال پسند کردار کو اجاگر کیا۔شاہ نورین علی حق نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو خانقاہی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ تمام خانقاہوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان اور خانقاہ سے وابستہ تمام نوجوانوں کی بلاامتیاز تربیت کا اہتمام کریں۔ خانقاہی خانوادوں سے تعلق رکھنے والے وہ علماء جو مختلف اداروں سے عالمیت و فضیلت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں تصوف کے مراجع و مصادر کی حیثیت رکھنے والی بنیادی کتب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ خانقاہوں کو ان کی عملی تربیت اور فکری رہنمائی کی جانب بھی مؤثر پیش رفت کرنی چاہیے۔
سید شاہ مجیب الحق عمادی ازہری نے نئی نسل کو تعلیماتِ تصوف سے جوڑنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال کی ضرورت بیان کی، جبکہ سید شاہ ابوالمحاسن قادری نے خانقاہی انتظامات کو منظم کرنے اور نوجوانوں کو دینی، علمی، سماجی و انتظامی ذمہ داریاں دینے کی تجویز پیش کی۔ سید شاہ ارباب اشرف نے خانقاہوں کے وسیع النظر اور انسان دوست کردار پر روشنی ڈالی، جبکہ شاہ نورین علی حق نے نوجوانوں کی تربیت اور کلیۃ البنات کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
نشست کی صدارت سید شاہ احمد فضیل نے کی، جبکہ سید شاہ عطا فیصل نے خانقاہی فکر کا تعارف پیش کیا۔ سید شاہ خرم حسین منوری نے خانقاہی خانوادوں کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔اجلاس میں سید شاہ حیات ابوالعلائی، شاہ مشاہد اصدق، سید شاہ کاشف سہروردی، سید شاہ طالب الحق عمادی، سید شاہ طالب منوری، سید شاہ منظر قادری اور سید شاہ ارشد افضلی سمیت متعدد علماء، مشائخ، سجادہ نشینان اور ولی عہدان نے شرکت کی۔شرکائے اجلاس نے خانقاہی نظام کو اعتدال، روحانیت، اخلاق، محبت اور خدمتِ خلق کی جامع روایت قرار دیتے ہوئے نئی نسل کی تربیت، باہمی رابطے اور علمی و سماجی سرگرمیوں کو مزید منظم اور وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کا اختتام سید شاہ صباح الدین چشتی کی دعا پر ہوا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔