تازہ ترین
ریاستی محکمۂ تعلیم میں بڑی بدعنوانی، کلرک نے ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی کے ذریعہ کیا 76 لاکھ کا غبن،انتظامیہ نے کیا معطلامارت شرعیہ میں مولانا ابو نصر فاروق و شہاب الدین سمیت دیگر کئی شخصیات کے لئے تعزیتی نشست کا انعقادڈاکٹر شعیب راہی کی ادبی خدمات پر کامیاب سیمینارمنعقد،پروفیسر احمد بدر سند اعزاز سے سرفرازسیوان:جیویکا گتھنی نے کامیابی سے’یوتھ موبلائزیشن مہم‘ کاکیا انعقاد،روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے تحت 10 نوجوانوں کو سیکیورٹی گارڈ کے عہدوں کے لیے کیاگیا منتخبسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سینٹ جانس کالج میں مضمون نویسی کا مقابلہ’تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار بھی ضروری‘،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں جشن سر سید تقریبات کا آغاز’گنے کی قیمت 700 روپے نہیں تو بی جے پی کو ووٹ نہیں‘ ،کسانوں کی میٹنگ میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما کا اعلانسپریم کورٹ مارچ پر راہل گاندھی کو سمن،ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا،ہم جانتے ہیں کہ عدالت کے اندر اور باہر کون کیا کہہ رہا ہے،چیف جسٹس کا تبصرہ
دلی این سی آر

اے پی سی آر تلنگانہ کی جانب سے ایس آئی آر پر وکلا کی ورکشاپ

(پی این این)
نئی دہلی، 10 اگست 2026: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ نے 9 اگست 2026 کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے موضوع پر وکلا کی ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے آئندہ مراحل کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ قانونی و عملی مسائل، شہریوں کو جاری ہونے والے نوٹس، اعتراضات، اپیلوں، ضروری دستاویزات، قانونی چارہ جوئی اور شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ورکشاپ کے آغاز میں ڈاکٹر محمد عثمان نے ایس آئی آر کے حوالے سے اے پی سی آر تلنگانہ کی اب تک کی سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے عوامی بیداری پروگرامس، قانونی مشاورت، وکلا کے اجلاس، رضاکاروں کی شمولیت، ضلعی سطح پر کوارڈی نیشن اور دیگر ضروری اقدامات کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے ہی سے قانونی اور انتظامی تیاری مکمل کی جانی چاہیے، تاکہ شہری اپنے حقوق، متعلقہ طریقۂ کار اور دستیاب قانونی معاونت سے بروقت استفادہ حاصل کرسکیں۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے شہری اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اے پی سی آر کے طریقۂ کار، حکمتِ عملی اور مداخلت کے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو ملک کے وسیع تر آئینی اور جمہوری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عام شہریوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات کی تیاری، قانونی معاونت، وکالت اور ضرورت پڑنے پر قانونی فورمز سے رجوع کرنے کے طریقۂ کار کی وضاحت کی۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے واضح کیا کہ ہر انفرادی معاملے کی مناسب دستاویز بندی اور متعلقہ حقائق و ریکارڈ کی بنیاد پر تیاری ضروری ہے۔ انہوں نے وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ زمینی سطح پر سامنے آنے والی شکایات کی بروقت نشاندہی، مناسب دستاویز بندی اور ضرورت کے مطابق انہیں متعلقہ قانونی فورمز تک پہنچایا جاسکے۔
ایڈووکیٹ رگھو ناتھ نے موجودہ حالات میں ایس آئی آر کے جواز اور ضرورت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتِ حال، جمہوری اداروں اور عدالتی نظام کے کردار اور مؤثریت پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور سالمیت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم کسی بھی انتخابی مہم کے دوران شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سے انکار یا ان میں کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے قانونی برادری پر زور دیا کہ وہ آئینی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرے، خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی بھی اقدام سے معاشرے کے کمزور یا متاثرہ طبقات کے حقوق پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہو۔
شازین صدیقی نے ایس آئی آر کے دوران شہریوں کو جاری ہونے والے ممکنہ نوٹس، ان کے جوابات، اعتراضات اور اپیلوں کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے مختلف کیس اسٹڈیز اور عملی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی کہ نوٹس موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کو کن امور کا جائزہ لینا چاہیے، نوٹس میں درج وجوہات اور قانونی بنیادوں کو کس طرح سمجھنا ضروری ہے، کون سی معاون دستاویزات درکار ہوسکتے ہیں اور مناسب جواب کس طریقے سے تیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اعتراضات اور اپیلوں کے بعد اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کی بھی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھے جائیں، مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے اور متعلقہ مقررہ مدت کے اندر ضروری کارروائی مکمل کی جائے۔ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں ڈاکٹر عثمان نے ایس آئی آر کے دوران نوٹس جاری ہونے کے بعد اے پی سی آر تلنگانہ کی مجوزہ ریاست گیر حکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد تنظیم ریاست بھر میں ایک مربوط قانونی اور عوامی معاونتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ متاثرہ شہریوں کو ضلعی اور نچلی سطح تک بروقت قانونی و عملی مدد فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو محض معلومات، دستاویزات یا قانونی رہنمائی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ اے پی سی آر کا مقصد ریاست بھر میں ایسا مربوط نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو متاثرہ شہریوں تک ضلعی اور زمینی سطح پر پہنچ سکے اور انہیں دستیاب قانونی ذرائع اور حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرے۔ورکشاپ کے اختتام پر وکلا، اے پی سی آر کی ضلعی ٹیموں، سماجی کارکنوں اور رضاکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران شہریوں کے آئینی حقوق، حقِ رائے دہی اور قانونی چارہ جوئی تک ان کی رسائی کے تحفظ کے لیے پرامن، منظم اور باہمی رابطے کے ساتھ کام کیا جائے گا۔اے پی سی آر تلنگانہ نے وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کوشش کا حصہ بنیں اور ہر شہری کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔