add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); اے پی سی آر تلنگانہ کی جانب سے ایس آئی آر پر وکلا کی ورکشاپ – sachkiawaz.com
Connect with us

دلی این سی آر

اے پی سی آر تلنگانہ کی جانب سے ایس آئی آر پر وکلا کی ورکشاپ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی، 10 اگست 2026: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ نے 9 اگست 2026 کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے موضوع پر وکلا کی ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے آئندہ مراحل کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ قانونی و عملی مسائل، شہریوں کو جاری ہونے والے نوٹس، اعتراضات، اپیلوں، ضروری دستاویزات، قانونی چارہ جوئی اور شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ورکشاپ کے آغاز میں ڈاکٹر محمد عثمان نے ایس آئی آر کے حوالے سے اے پی سی آر تلنگانہ کی اب تک کی سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے عوامی بیداری پروگرامس، قانونی مشاورت، وکلا کے اجلاس، رضاکاروں کی شمولیت، ضلعی سطح پر کوارڈی نیشن اور دیگر ضروری اقدامات کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے ہی سے قانونی اور انتظامی تیاری مکمل کی جانی چاہیے، تاکہ شہری اپنے حقوق، متعلقہ طریقۂ کار اور دستیاب قانونی معاونت سے بروقت استفادہ حاصل کرسکیں۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے شہری اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اے پی سی آر کے طریقۂ کار، حکمتِ عملی اور مداخلت کے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو ملک کے وسیع تر آئینی اور جمہوری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عام شہریوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات کی تیاری، قانونی معاونت، وکالت اور ضرورت پڑنے پر قانونی فورمز سے رجوع کرنے کے طریقۂ کار کی وضاحت کی۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے واضح کیا کہ ہر انفرادی معاملے کی مناسب دستاویز بندی اور متعلقہ حقائق و ریکارڈ کی بنیاد پر تیاری ضروری ہے۔ انہوں نے وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ زمینی سطح پر سامنے آنے والی شکایات کی بروقت نشاندہی، مناسب دستاویز بندی اور ضرورت کے مطابق انہیں متعلقہ قانونی فورمز تک پہنچایا جاسکے۔
ایڈووکیٹ رگھو ناتھ نے موجودہ حالات میں ایس آئی آر کے جواز اور ضرورت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتِ حال، جمہوری اداروں اور عدالتی نظام کے کردار اور مؤثریت پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور سالمیت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم کسی بھی انتخابی مہم کے دوران شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سے انکار یا ان میں کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے قانونی برادری پر زور دیا کہ وہ آئینی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرے، خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی بھی اقدام سے معاشرے کے کمزور یا متاثرہ طبقات کے حقوق پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہو۔
شازین صدیقی نے ایس آئی آر کے دوران شہریوں کو جاری ہونے والے ممکنہ نوٹس، ان کے جوابات، اعتراضات اور اپیلوں کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے مختلف کیس اسٹڈیز اور عملی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی کہ نوٹس موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کو کن امور کا جائزہ لینا چاہیے، نوٹس میں درج وجوہات اور قانونی بنیادوں کو کس طرح سمجھنا ضروری ہے، کون سی معاون دستاویزات درکار ہوسکتے ہیں اور مناسب جواب کس طریقے سے تیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اعتراضات اور اپیلوں کے بعد اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کی بھی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھے جائیں، مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے اور متعلقہ مقررہ مدت کے اندر ضروری کارروائی مکمل کی جائے۔ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں ڈاکٹر عثمان نے ایس آئی آر کے دوران نوٹس جاری ہونے کے بعد اے پی سی آر تلنگانہ کی مجوزہ ریاست گیر حکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد تنظیم ریاست بھر میں ایک مربوط قانونی اور عوامی معاونتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ متاثرہ شہریوں کو ضلعی اور نچلی سطح تک بروقت قانونی و عملی مدد فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو محض معلومات، دستاویزات یا قانونی رہنمائی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ اے پی سی آر کا مقصد ریاست بھر میں ایسا مربوط نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو متاثرہ شہریوں تک ضلعی اور زمینی سطح پر پہنچ سکے اور انہیں دستیاب قانونی ذرائع اور حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرے۔ورکشاپ کے اختتام پر وکلا، اے پی سی آر کی ضلعی ٹیموں، سماجی کارکنوں اور رضاکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران شہریوں کے آئینی حقوق، حقِ رائے دہی اور قانونی چارہ جوئی تک ان کی رسائی کے تحفظ کے لیے پرامن، منظم اور باہمی رابطے کے ساتھ کام کیا جائے گا۔اے پی سی آر تلنگانہ نے وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کوشش کا حصہ بنیں اور ہر شہری کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی ہوائی اڈے کا تیسرا رن وے 20 ستمبر سے ہوگا شروع

Published

on

نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈائل) نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے (11 آر/29 ایل) کو 20 ستمبر سے پھر آپریشن میں لایا جائے گا۔ڈائل نے بتایا کہ رن وے کے جامع بحالی پروگرام اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ملنے کے بعد اسے دوبارہ آپریشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بحالی کا یہ پروجیکٹ فروری 2026 میں شروع ہوا تھا، جس میں آپریشنل حفاظت، کارکردگی، صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے جامع کام کیے گئے۔
پروجیکٹ کے تحت رن وے کی سطح کی تجدید، رن وے 29 ایل کے مستقل تھریشولڈ میں تبدیلی، نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے (آر ای ٹی زیڈ 1) کی تعمیر، ہوائی اڈے کے گراؤنڈ لائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، رن وے کی سطح کو مضبوط بنانے کے کام اور متعلقہ سول و الیکٹریکل بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ ڈائل کے مطابق، ان اصلاحات سے رن وے کی فعال صلاحیت کو بڑھانے، طیاروں کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے، رن وے پر طیاروں کے رہنے کا وقت کم کرنے اور مختلف موسمی حالات میں آپریشنل اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کے دوران ڈائل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی)، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تمام مقررہ حفاظتی، آپریشنل اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 20 ستمبر سے رن وے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملی ہے۔ ڈائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پردیپ پانیکر نے کہا کہ رن وے 11 آر/29 ایل کو دوبارہ چالو کیا جانا دہلی ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے تیار ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جانا حفاظت، آپریشنل عمدگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید رن وے کے ساتھ نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے نیز بہتر نیویگیشن اور لائٹنگ کا نظام دہلی ہوائی اڈے کی صلاحیت اور استحکام کو مزید بڑھائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ڈائل نے کہا کہ دوبارہ چالو ہونے والے رن وے دہلی ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی اور مستقبل میں بڑھنے والے ایئر ٹریفک کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرے گا نیز عالمی ہوا بازی کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کے مطابق آپریشنز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ یہ رن وے 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ 17 سالوں سے مسلسل آپریشن میں تھا، جس کے دوران اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی گئی اور 2017 میں اس کی معمولی بحالی بھی کی گئی تھی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

خواتین کمیشن کا 100 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ا سپا سنٹر پر چھاپہ

Published

on

گروگرام :گروگرام میں جائز کاروبار کی آڑ میں چلنے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی میں گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے سیکٹر 90 کے سفائر 90 مال میں ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا۔ رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہنے والی چھ گھنٹے کی سخت چیکنگ مہم کے دوران 18 اسپائر سنٹروں کے اندر چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تقریباً 30 خواتین اور 20 مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر آٹھ سپا سنٹرز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیوں کے پختہ ثبوت ملے۔پولیس کو سیفائر 90 مال میں واقع سپا سنٹرز میں غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں اور اس خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی از خود کی گئی تھی۔ 100 سے زیادہ پولیس افسران کی ایک ٹیم نے بیک وقت مال کو گھیر لیا اور چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ آپریشن کے دوران 18 سپا سنٹرز میں سے 8 سے اہم الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ڈیٹا، مجرمانہ دستاویزات اور دیگر جسمانی ثبوت قبضے میں لیے گئے۔ اس ثبوت کو استعمال کرتے ہوئے، پولیس اب اسپا سینٹرز کے حقیقی مالکان، آپریٹرز، منیجرز اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کے کردار کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
چھاپے کے دوران سپا سنٹرز سے تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد پائے گئے۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اوشا پریہ درشنی کی موجودگی میں ان خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن حالات میں کام کر رہی تھیں اور کیا انہیں کسی گینگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے افراد کے کردار، ان کی موجودگی کی وجوہات اور ان کی شہادتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس پورے آپریشن کی ابتدائی تفتیش اور ضبطی کا عمل ابھیلکش جوشی، اے سی پی ہیڈکوارٹر-1، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر اسپیشل پولیس آفیسر کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ گروگرام پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منظم جرم یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو تجارتی جگہوں کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس شہر میں ایسے دیگر مقامات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مظاہرین پر مسکرانا بے ضابطگی نہیں، دہلی ہائی کورٹ

Published

on

نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کو اختلاف رائے کا اظہار کرنے، احتجاج کرنے یا احتجاج کی حمایت میں جوش دکھانے کا اہم حق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ مظاہرین کو دیکھ کر محض مسکرانا بے ضابطگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے آٹھ طلباء پر لگائے گئے 19,000 روپے کے جرمانے پر اگلی سماعت تک روک لگا دی ہے۔یونیورسٹی نے ہر ایک طالب علم کو بے ضابطگی پر جرمانہ کیا تھا۔ طلباء نے یونیورسٹی کے چیف پراکٹر کی طرف سے جاری شوکاز نوٹس اور اس کے بعد پراکٹریل کمیٹی کی طرف سے جاری جرمانے کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ یونیورسٹی نے الزام لگایا کہ پانچ طلبہ مبینہ طور پر جارحانہ انداز میں کیمرہ اسٹینڈ کو ہلا رہے تھے۔
وہ ایف آر ٹی سسٹم کی توڑ پھوڑ کرنے والے طلبا کو خوش کر رہے تھے۔ تین دیگر طلباء پر تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر توڑ پھوڑ کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام تھا۔ طلبا نے شوکاز نوٹس کے جواب میں الزامات کی تردید کی۔عبوری راحت دیتے ہوئے، بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اگر شوکاز نوٹس میں لگائے گئے الزامات کو سچ مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طلباء مظاہرین کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ بنچ کے مطابق، اس طرح کا ایکٹ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہیں بنتا۔بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کا اختلاف رائے، احتجاج اور مظاہرے کی حمایت کا حق ایک اہم حق ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے دبا یا نہیں جا سکتا۔ بنچ نے کہا کہ درخواست گزار طالب علم ہونے کے ناطے اس طرح کی سرگرمی کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی کارروائی درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق پر حملہ کے مترادف ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے تسلیم کیا کہ طلباء نے اپنا پہلا مقدمہ قائم کر لیا ہے۔ لہٰذا، اس مرحلے پر جرمانے کو نافذ رہنے کی اجازت دینے سے ان کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد بنچ نے آٹھ طلباء پر عائد 19,000 روپے کے جرمانے کو اگلی سماعت تک روک دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 جنوری 2027 کو ہوگی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network