تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
Bihar

جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہ

(پی این این)
مونگیر:معروف خطیب مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر پہنچے، جہاں اساتذہ، کارکنان اور طلبہ نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔خانقاہ رحمانی کی مسجد میں اپنے خصوصی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مدارس میں زمانۂ طالب علمی کے دوران 63 تقاریر یاد کیں اور تقریری انجمنوں اور مسابقوں میں بھرپور حصہ لیا، جس سے ان کی خطابت اور علمی صلاحیتوں کو نکھار ملا۔
انہوں نے بتایا کہ فضیلت کی تکمیل کے بعد جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے بڑھے تو پروفیسر حضرات کی ترغیب پر سنسکرت زبان سیکھی اور سیرتِ نبوی ﷺ کے موضوع پر سنسکرت اور انگریزی میں تقریر کی۔ اس سے متاثر ہو کر لوگوں نے انہیں ’’چترویدی‘‘ کا لقب دیا، جو بعد میں ان کی شناخت بن گیا۔
مولانا نے مزید بتایا کہ انہوں نے سنسکرت کے ایک پروفیسر کی نگرانی میں چھ ماہ رہ کر یہ زبان سیکھی اور اس علمی استعداد کو قرآن و حدیث سے متعلق پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کلاس میں پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ شریک ہوتے تھے، اسی کا نتیجہ ہے کہ درس گاہ میں پڑھی اور سنی ہوئی باتیں آج میدانِ خطابت میں ان کے بہت کام آتی ہیں۔
اس موقع پر جامعہ رحمانی کے شعبۂ افتا کے انچارج جناب مولانا مفتی جنید احمد قاسمی نے مہمانِ گرامی کا تعارف کراتے ہوئے انہیں علمی و دینی حلقوں کی معروف اور بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت، خطیب و ترجمانِ دیوبند اور وید و قرآن اور تقابلِ ادیان کا گہرا علم رکھنے والا صاحبِ مطالعہ عالم قرار دیا۔ انہوں نے مولانا کی سلیس زبان و بیان اور علمی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناسازگار حالات سے گزرنے کے باوجود ان کا مزاج پُرعزم، شگفتہ اور پُرنشاط رہتا ہے۔
بعد ازاں مولانا عبداللہ سالم چترویدی جامعہ رحمانی کے شعبۂ صحافت اور اسٹوڈیو ’’فکر و نظر ٹی وی‘‘ بھی گئے، جہاں انہوں نے جامعہ رحمانی سے اپنے تعلق کے حوالے سے مخلصانہ تاثرات کا اظہار کیا۔ شعبۂ صحافت کے ایچ او ڈی جناب فضل رحمٰن رحمانی صاحب نے انہیں چند کتابیں پیش کیں اور شعبے کے تعلیمی مقاصد، مشن اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
مولانا کو رخصت کرتے وقت مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری ناظمِ تعلیمات و استاذِ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر،جناب مولانا محمد رضی احمد صاحب رحمانی،ناظم مہمان خانہ و مطبخ، جامعہ رحمانی کے سینئر استاذِ جناب مولانا محمد نعیم صاحب رحمانی، جناب مولانا مفتی جنید احمد صاحب قاسمی، جناب مولانا شہاب الدین ندوی ازہری صاحب،جناب مولانا شاہد سنگارپوری صاحب سمیت دیگر اساتذہ اور ذمہ داران موجود تھے۔خطاب کے اختتام پر مولانا عبداللہ سالم قمر قاسمی چترویدی نے جامعہ کی ترقی، حفاظت اور مقبولیت کے ساتھ اس کے بانیان اور خدام کے لیے خصوصی دعا کی۔

متعلقہ خبریں