تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
uttar pradesh

اکھلیش یادوکا رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سےسنگین الزام، عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے غائب

،

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہےکہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے کے نذرانے کی رقم غائب ہوگئی ہے۔ اکھلیش یادو نے یہ بات اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔
وہیں دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسی کوئی قابلِ ذکر بات سامنے نہیں آئی ہے۔
شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر، ایودھیا کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات کا وقتاً فوقتاً اندرونی آڈٹ کیا جاتا ہے، جس میں ٹرسٹ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کا یہ عمل کئی دنوں تک جاری رہتا ہے اور اس وقت بھی اسی نوعیت کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ چمپت رائے کے مطابق، اب تک جانچ کے دوران کسی قسم کی قابلِ ذکر بے ضابطگی یا گڑبڑی سامنے نہیں آئی ہے۔
اس پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیش کی گئی وضاحت خود واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے ہر ہفتے پیش آنے والی ایک معمولی بات بن چکا ہے اور اتنی معمولی کہ اب وہ اسے ’’قابلِ ذکر‘‘ بھی نہیں سمجھتے۔
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ محض 40 سیکنڈ کی وضاحت جاری کرنے میں اتنے گھنٹے کیوں لگ گئے؟ اور وضاحت کے نام پر ایک منٹ تک بولنا بھی کیوں دشوار محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ریاستی حکومت کی خاموشی مشتبہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح یہ صفائی بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وضاحت کے نام پر محض رسمی الفاظ کی ادائیگی کی جا رہی ہو۔ اکھلیش یادو کے مطابق، اس نہایت کمزور وضاحت نے دنیا بھر کے سناتن سماج کے شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انہیں مزید رنجیدہ و مضطرب کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مندر میں آنے والے نذرانے کی رقم کی گنتی اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ایودھیا شاخ کے مقرر کردہ عملے کے ذریعے کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔