تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
uttar pradesh

اکھلیش یادوکا رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سےسنگین الزام، عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے غائب

،

(پی این این)
لکھنؤ:سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے کی رقم کے حوالے سے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہےکہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے کروڑوں روپے کے نذرانے کی رقم غائب ہوگئی ہے۔ اکھلیش یادو نے یہ بات اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہی۔
وہیں دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسی کوئی قابلِ ذکر بات سامنے نہیں آئی ہے۔
شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر، ایودھیا کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ ٹرسٹ کے مالی معاملات کا وقتاً فوقتاً اندرونی آڈٹ کیا جاتا ہے، جس میں ٹرسٹ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کا یہ عمل کئی دنوں تک جاری رہتا ہے اور اس وقت بھی اسی نوعیت کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ چمپت رائے کے مطابق، اب تک جانچ کے دوران کسی قسم کی قابلِ ذکر بے ضابطگی یا گڑبڑی سامنے نہیں آئی ہے۔
اس پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے طنزیہ ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیش کی گئی وضاحت خود واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے لیے ہر ہفتے پیش آنے والی ایک معمولی بات بن چکا ہے اور اتنی معمولی کہ اب وہ اسے ’’قابلِ ذکر‘‘ بھی نہیں سمجھتے۔
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ محض 40 سیکنڈ کی وضاحت جاری کرنے میں اتنے گھنٹے کیوں لگ گئے؟ اور وضاحت کے نام پر ایک منٹ تک بولنا بھی کیوں دشوار محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ریاستی حکومت کی خاموشی مشتبہ معلوم ہوتی ہے، اسی طرح یہ صفائی بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وضاحت کے نام پر محض رسمی الفاظ کی ادائیگی کی جا رہی ہو۔ اکھلیش یادو کے مطابق، اس نہایت کمزور وضاحت نے دنیا بھر کے سناتن سماج کے شکوک میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انہیں مزید رنجیدہ و مضطرب کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مندر میں آنے والے نذرانے کی رقم کی گنتی اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ایودھیا شاخ کے مقرر کردہ عملے کے ذریعے کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔