تازہ ترین
بہار کےبرطرف امینوں نے حکومت کیخلاف کھولا مورچہ، ملازمت سے ہٹائے جانے پر امین مشتعل، احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی، ہڑتالی امینوں کو ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کرنے اور ای-ماپی پورٹل پر ان کی شناختی آئی ڈی غیر فعال کرنے کے آمرانہ حکم پر نہیں رہیں گے خاموش: یونینانسانیت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آج سے شروع ہوگا3 روزہ تبلیغی اجتماع، ملک بھر کے نامور علمائے دین کریں گے شرکت،ڈی ایم اور ایس ایس پی نے تیاریوں کا لیا جائزہپولیس پر لگے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری، مدھوبنی گولی باری معاملے پر جن سوراج کا شدید ردعمل،ریاستی سطح کی ٹیم نے گاؤں پہنچ کر متاثرہ خاندانوں سے کی ملاقات، یتیم بچوں کے مستقبل اور خاندان کی کفالت کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ11 نومبر کو منعقد ہونے والے ’’مدارس اسلامیہ کنونشن‘‘ کی تیاریوں کے جائزہ کے بعد اطمینان کا اظہاراتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالےدیوبند: مولانا اعجاز اور کارڈرائیور کی سڑک حادثہ میں دردناک موتجامعہ عائشہ للبنات چھٹمل پور میں’’ایک شام اولیاء اللہ کے ساتھ‘کے عنوان سے پروقار اور روحانی مجلس کا انعقاد’نفرت کے بڑے سے بڑے اندھیروں کو مٹا سکتا ہےمحبت کا ایک چھوٹا سا چراغ ‘، میرٹھ میںچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جشن دیوالی اور رنگو لی کا شاندار انعقاد
uttar pradesh

اتر پردیش انتخابات کے پیش نظر پرینکا گاندھی سرگرم، سیٹوں کی تقسیم کے معاملے میں کانگریس کی قیادت بھی انہی کے حوالے

(پی این این)
لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس سے متعلق انتخابی حکمت عملی اور تمام اہم فیصلے اب کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی منظوری سے ہی طے ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی کے بعد سے ہی وہ اتر پردیش سے متعلق ہر معاملے کی تفصیلات حاصل کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم سے لے کر انتخابی مہم تک کی تمام حکمت عملی پر ان کی نظر رہے گی۔ اس کے علاوہ، کتنی سیٹوں پر دعویٰ کیا جائے، اس سلسلے میں کانگریس رہنماؤں کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کو بھی اب پرینکا گاندھی کی منظوری کا انتظار ہوگا۔ اس طرح پس پردہ سیٹوں کی تقسیم کی پوری کمان پرینکا گاندھی کے ہاتھوں میں ہوگی۔پرینکا گاندھی نے اتر پردیش ہی کے راستے باضابطہ طور پر سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ابتدا میں انہیں مشرقی اتر پردیش اور بعد ازاں پورے اتر پردیش کا انچارج بنایا گیا تھا۔ اگرچہ اب وہ کیرالہ کی وایناڈ پارلیمانی نشست سے رکن پارلیمنٹ ہیں، لیکن حالیہ سیاسی سرگرمیوں سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ ان کی دلچسپی اب بھی اتر پردیش کی سیاست میں برقرار ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں کانگریس کا ہر فیصلہ اب ان کی رضامندی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
تاہم یہ الگ بات ہے کہ اتر پردیش میں تنظیمی ردوبدل سے لے کر ہر طرح کی انتخابی حکمت عملی میں ان کا کردار کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ البتہ اس بار انتخابات میں ان کی سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ منگل کو بھی انہوں نے اتر پردیش کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم کے علاوہ انتخابی نقطۂ نظر سے تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں کے سلسلے میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کمیٹیوں کے ناموں کو پرینکا گاندھی کی منظوری کے بعد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔
دوسری جانب کانگریس ووٹ چوری کے معاملے کو ہی اتر پردیش میں انتخابی فضا ہموار کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ 20 نومبر کے بعد ریاست میں ریلیوں کے انعقاد کا امکان ہے۔ کانگریس کی اتر پردیش قیادت نے ریلیوں کے مقامات کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جلد ہی ریلیوں کے مقامات کے نام طے کرکے اس کی اطلاع کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو دی جائے گی، جس کے بعد ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔
اگلے سال مجوزہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرکے میدان میں اترنے سے پہلے کانگریس ووٹ چوری کے معاملے پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن، دونوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر ملنے والی عوامی حمایت سے انڈیا اتحاد انتخابی فضا کو اپنے حق میں ہموار کر سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کے بعد اب اتر پردیش میں بھی پارٹی اسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کی ہدایت کے بعد ہی اتر پردیش میں یہ سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں