تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

آبنائے ہرمز پارکرگیا ہندوستان کا 8واں جہاز

(پی این این)
نئی دہلی: ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کے باوجود بھارت نے اپنی توانائی سپلائی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں کم از کم آٹھ بھارتی یا بھارت سے وابستہ جہاز اس اہم راستے سے گزرنے میں کامیاب رہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ جہاز — جن میں ایل پی جی اور تیل بردار ٹینکرز شامل ہیں — حالیہ کشیدگی کے دوران اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرے، جس سے بھارت کی توانائی سپلائی کا تسلسل برقرار رہا۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران کی جانب سے کنٹرول سخت کیے جانے کے بعد شدید دباؤ میں ہے، اور عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، ان جہازوں میں “شیولک، نندا دیوی، جگ لادکی، پائن گیس، جگ وسنت، بی ڈبلیو ٹائر، بی ڈبلیو ایلم اور گرین سانوی” جیسے نام شامل ہیں، جنہوں نے بحران کے باوجود کامیاب ٹرانزٹ کیا۔ ایران نے بھی بھارت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی توانائی سپلائی محفوظ رہے گی۔ ایران کے سفارتی ذرائع نے کہا کہ “بھارتی دوست محفوظ ہاتھوں میں ہیں”، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری توانائی تعاون کا عندیہ ملتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز میں محدود رسائی صرف “دوست ممالک” جیسے بھارت، چین اور روس کے لیے کھولی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے لیے پابندیاں برقرار ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس اہم سمندری راستے پر سخت کنٹرول قائم کر لیا، جس کے باعث جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے اور عالمی توانائی منڈی متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس صورتحال میں بھارت کی جانب سے اپنی توانائی سپلائی کو جاری رکھنا اس کی سفارتی اور بحری حکمتِ عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے، جس نے ایک بڑے عالمی بحران کے دوران بھی داخلی توانائی ضروریات کو متاثر ہونے سے بچایا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔