تازہ ترین
جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,این سی آر میں نمو بھارت ٹرین پروجیکٹ کو منظوری ملنے کا امکاناحتجاج کے درمیان پولیس کی سخت کارروائی،20پر ایف آئی درجنریندر مودی نے ہٹلر کو بھی چھوڑ دیاہے پیچھے:کجریوال
انٹر نیشنل

ٹرمپ کی دھمکی سے ایران ناراض،دبائو میں نہیں کریں گے بات،مذاکرات بند

تہران:سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کو بڑا دھکا لگا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات اور دھمکی سے ایران ناراض ہوگیا ہے۔ مذاکرات ختم ہوگئی ہے۔ ناراضگی اس حد تک تھی کہ امریکی نائب صدر ودیگر سینئر امریکی اہلکاروں سے ہاتھ ملائے بغیر ایرانی وفد اجلاس چھوڑ کر چلا گیا۔
ایرانی وفد میں شامل سینئر لیڈر محمد باگھیر گولیباف نے کہا کہ 80 منٹ کی گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ٹرمپ مسلسل ہمارے صدر ، ہماری مذاکرات ٹیم اور ہمارے علاقے کولیکر دھمکی بھرے بیان دے رہے ہیں۔ ایسے میں اب بات چیت نہیں کی جاسکتی۔ گولیباف نے کہا کہ اس کے بعد ایرانی ڈیلیگیشن نے مٹنگ ختم کردی ہے اور وہاں سے چلا آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے ثالثی کے ذریعہ ایک اور مٹنگ کرنے کی خواہش جتائی لیکن ایران نے اسے نامنظور کردیا۔ خاص بات تو یہ بھی ہے ایرانی ٹیم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ہاتھ ملانے اور مشترکہ فوٹو سیشن میں شامل ہونے سے بھی انکارکردیا۔ اس بات کولیکر امریکی نائب صدر سے صحافیوں نے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ حالانکہ سوچتے ہیں کہ نتن یاہو کے گفتگو کولیکر بات چیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن کئی بار ٹرمپ کے اچانک اور سخت بیانات سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ تنائو پیدا ہوتا ہے۔ بہرحال ہم لوگ اب دوسرے سیشن کی تیاری کررہے ہیں۔
غورطلب ہے کہ جس وقت ایران اور امریکہ کا ڈیلیگیشن مذاکرات کررہا تھا تبھی ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران فوری طور پر لبنان میں حذب اللہ کو پریشانی پیدا کرنے سے روکے۔ اگر ایسا نہیں کیا تو ہم ایران پر سخت حملہ کریں گے۔ حالانکہ دوسرے مذاکرات کی تیاری ہورہی ہے امریکہ نے ایران کو 60دنوں تک تیل بیچنے کی سہولت دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لئے ایران کی منظوری کے بعد لیا گیا۔ بہرحال ایران کا کہنا ہے کہ تمام تر گفتگو کے باوجود ایرانی افواج پوری طرح الرٹ ہیں۔ ہم امریکہ پر زیادہ بھروسہ نہیں کرسکتے۔حالانکہ اس معاملے میں پاکستان ثالثی کررہا ہے مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ بات چیت کو بگاڑنے میں ٹرمپ کے بے تکے بیانات رخنہ اندازی پیدا کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔