Connect with us

Bihar

وفاق المدارس امارت شرعیہ کا اختتامی و انتخابی اجلاس آج، ملک بھر کے اکابر علماء کی شرکت متوقع ،جامعہ رحمانی کے زیر انتظام تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
مونگیر: امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشین جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کی صدارت میں وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیرِ اہتمام منعقد سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا دوسرا دن علمی، فکری اور تربیتی سرگرمیوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ 9 تا 11 جون 2026ء جاری اس تربیتی ورکشاپ میں وفاق المدارس سے ملحق مدارس کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام اور ماہرینِ تعلیم شریک ہیں، جہاں تعلیمی نظام کے استحکام، نصابی ارتقاء اور تدریسی مہارتوں کے فروغ سے متعلق اہم موضوعات پر گفتگو کی جا رہی ہے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں و خلیفہ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ نے تربیت اور اخلاق سازی کے موضوع پر اپنے محاضرہ میں فرمایا کہ مدارس کے اساتذہ صرف علم منتقل کرنے والے نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کرنے والے معمار ہیں۔ آپ نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ طلبہ کے دلوں میں اخلاص، ذمہ داری، حسنِ اخلاق اور خدمتِ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہی کامیاب تربیت کی اصل علامت ہے۔ابتدائی درجات میں طلباء میں قرآن فہمی کی ضرورت” کے عنوان پر محاضرہ پیش کرتے ہوئے نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند نے فرمایا کہ بچوں میں ابتدائی مرحلے ہی سے قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام پر زور دیا کہ وہ طلبہ کو محض ناظرہ اور حفظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ قرآن کے معانی، پیغام اور عملی تعلیمات سے بھی جوڑیں، تاکہ نئی نسل فکری استحکام اور دینی شعور سے آراستہ ہو سکے۔
ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ نے فرمایا کہ پڑے پرسکون علمی ماحول میں یہ تربیتی ورکشاپ جاری ہے جس کا اختتام آج اگلی سہ سالہ میقات کے لیے ذمہ داروں کے انتخاب کے بعد ہوگا۔اس انتخابی اجلاس میں وفاق کی مجلس عمومی کے نمائندگان، مجلس عاملہ کے ارکان اور ذمہ داران کو شریک ہونا ہے۔ یہ اجلاس صبح 8:30 سے شروع ہوگا اس لیے ارکان کی بروقت حاضری انتخابی اجلاس کو کامیاب کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری جوہر نیازی صاحب رحمانی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جامعہ رحمانی کے فاضل ور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔ پروگرام کی پہلی نشست میں نظامت کے فرائض جامعہ رحمانی کے استاذِ حدیث اور طلبہ امور کے ناظم تعلیمات جناب مولانا خالد صاحب رحمانی نے جبکہ دوسری نشست میں جامعہ رحمانی کے استاذ جناب مونا انظر حسین قاسمی صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے اور اپنے مختصر مگر مؤثر کلمات میں اساتذۂ کرام کو نصاب کی تکمیل کے ساتھ طلبہ میں خود مطالعہ اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی تلقین کی۔
واضح رہے کہ اس سہ روزہ ورک شاپ میں مختلف علمی، فکری اور تربیتی موضوعات پر ماہرینِ تعلیم کے خطابات اور مذاکرے منعقد ہوئے، جبکہ شرکائے ورکشاپ نے اس تربیتی اجتماع کو مدارس کے تعلیمی نظام میں بہتری، اساتذۂ کرام کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کے فروغ اور دینی تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم اور مؤثر پیش رفت قرار دیا۔

Bihar

اکیس مرحوم نیٹ امیدواروں کو رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کے ذریعے خراجِ عقیدت

Published

on

گیا: ہیومن ہُڈ آرگنائزیشن (ٹیم ایچ 20) کی جانب سے جذبۂ انسانیت اور خدمتِ خلق کو فروغ دینے کے مقصد سے شردھانجلی ہیتو سوئیچھک رکت دان شِور کا انعقاد کیا گیا۔ یہ خصوصی خونِ عطیہ کیمپ نیٹ  امتحان سے جڑے حالات میں جان گنوانے والے 21 مرحوم طلبہ کی پاکیزہ یاد کے نام منسوب تھا۔
اس موقع پر 21 نوجوانوں نے اپنی رضامندی سے خون کا عطیہ دے کر مرحوم طلبہ کو پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ مرحومین کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف الفاظ یا پھول پیش کرنے سے نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت اور کسی کی جان بچانے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ خون کی ہر بوند کسی ضرورت مند مریض کے لیے نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور یہی اس مہم کا بنیادی مقصد ہے۔
کیمپ میں جمع کیا گیا خون ریڈ کراس بلڈ بینک کے حوالے کر دیا گیا تاکہ ضرورت کے وقت مریضوں کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ ٹیم H2O کے ذمہ داران نے کہا کہ خراجِ عقیدت کا اصل مفہوم ایسا عمل انجام دینا ہے جس سے کسی انسان کی جان بچ سکے۔ ان کے مطابق خون کا عطیہ جذبۂ ہمدردی، ایثار اور سماجی ذمہ داری کی بہترین علامت ہے۔
کیمپ کو کامیاب بنانے میں تنظیم کے اراکین ثاقب الاسلام، شہنواز ملک، محمد زوہیب، کاشف سراج اور اکرام قریشی نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس بلڈ بینک کی طبی ٹیم، موجود شہریوں اور سرپرستوں نے بھی بھرپور تعاون پیش کیا۔ تنظیم نے تمام خون عطیہ کرنے والوں، ڈاکٹروں اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اجتماعی شراکت ہی انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
خون عطیہ کرنے والوں میں میرا ورما، محمد ریحان، انجلی کماری سنگھ، نیرو یادیو، سید ابوزر، محمد دانش، سید فیضان، شاکب خان، محمد عرفان، شیام پٹیل، محمد انس، راجن برنوال، فیضان علی، اکرام قریشی، محمد شمشاد، محمد اعظم، محمد چاند، محمد ماز، محمد سیف، محمد دانش اور محمد سونو شامل تھے۔ ان تمام افراد نے رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرکے یہ پیغام دیا کہ خدمتِ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب اور سب سے عظیم فریضہ ہے۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء نے باقاعدگی سے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے اور معاشرے میں اس کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا عہد کیا۔ ٹیم ایچ 20 نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی فلاحی مہمات نوجوانوں میں خدمت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو مزید فروغ دیں گی اور خون کی کمی کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی زندگی کا سبب بنیں گی۔

اس موقع پر تنظیم کا یہ پیغام نہایت مؤثر ثابت ہوا: خراجِ عقیدت اُس وقت سب سے زیادہ بامعنی بن جاتا ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کی دھڑکنوں میں نئی زندگی بن کر دھڑکنے لگے۔ اسی پیغام کے ساتھ ٹیم ایچ 20 کی یہ مہم محض ایک خونِ عطیہ کیمپ نہیں، بلکہ انسانیت، ایثار، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی۔

Continue Reading

Bihar

تاریخی صوفی مزار کو کٹاؤ، تجاوزات اور سرکاری بے توجہی سے خطرہ

Published

on

بھاگلپور: چمپا ندی کے کنارے، بھاگلپور شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر مغرب میں، چالیس فٹ بلند ٹیلے پر واقع صوفی بزرگ حضرت خواجہ مخدوم شاہ (شیخ احمد سمرقندی) کا صدیوں پرانا مزار دریا کے کٹاؤ، زمین پر تجاوزات اور طویل عرصے سے جاری سرکاری بے توجہی کے باعث غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہے۔
جو مقام کبھی روحانیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صوفی ورثے کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ تاریخی عمارت کے صرف داخلی دروازے کے کچھ حصے اور اس سے متصل چند دیواریں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق مخدوم شاہ دراصل شیخ احمد تھے، جو ایک صوفی عالم تھے اور جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بارہویں صدی میں موجودہ ازبکستان کے شہر سمرقند سے ہندوستان آئے اور بعد میں بھگلپور میں قیام پذیر ہوئے۔ اپنے آبائی شہر کی نسبت سے وہ مقامی طور پرسمرقندی باباکے نام سے معروف ہوئے۔ انسانی خدمت اور صوفی تعلیمات کے فروغ کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے باعث بعد ازاں انہیںخواجہ مخدوم شاہکا خطاب ملا۔ بعض تاریخی ماخذ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مغلیہ دور میں ایک اہم انتظامی عہدہ بھی سنبھالا، جس کے باعث انہیں انتظامی اور سماجی دونوں شعبوں میں اثر و رسوخ حاصل تھا۔
روایت کے مطابق، اپنے روحانی مرشد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی پوری زندگی ذات، مذہب، نسل اور برادری کی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت، محبت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ مانا جاتا ہے کہ ان کا وصال 1205ء میں ہوا اور انہیں چمپا ندی کے کنارے سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج ان کا مزار قائم ہے۔
مقامی لوک روایات میں اس مزار سے متعدد کرامات بھی منسوب کی جاتی ہیں، جن میں یہ عقیدہ بھی شامل ہے کہ مزار کے عین اوپر سے گزرنے والے پرندے بحفاظت آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ تاہم مؤرخین ایسی روایات کو خطے کی زبانی روایت (اورل ٹریڈیشن) کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
جہانگیر کا خواب اور مزار کی تعمیرکتابEminent Muslims of Bhagalpur کے مطابق اس مزار کی عمر تقریباً 803 سال بتائی جاتی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق، بزرگ کے وصال کے تقریباً چار صدی بعد مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر دریائی راستے سے بنگال جا رہے تھے کہ ان کی شاہی کشتی اس مقام کے قریب دو دن تک رکی رہی۔ انہی دنوں شہنشاہ نے خواب میں بزرگ کو دیکھا، جنہوں نے اپنی قبر پر مزار تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد روایت کے مطابق جہانگیر نے اپنے فرزند شہزادہ پرویز، جو اس وقت مونگیر کے گورنر تھے، کو مزار کی تعمیر کی نگرانی کا حکم دیا اور پھر اپنا سفر جاری رکھا۔
مزار سے منسلک وقف جائیداد تقریباً دس بیگھہ پر مشتمل بتائی جاتی ہے، لیکن مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران اس کی بڑی مقدار پر تجاوزات ہو چکی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ نے نہ تو اس تاریخی یادگار کے تحفظ کے لیے اور نہ ہی اس کی اراضی کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
وارڈ نمبر 6 کے کونسلر نجاحت انصاری نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار حلقہ افسر (سرکل آفیسر) سے مطالبہ کیا ہے کہ مزار اور اس کی باقی ماندہ زمین کے تحفظ کے لیے چہار دیواری تعمیر کرائی جائے۔ ان کے مطابق اصل وقف جائیداد کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی اب باقی رہ گیا ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ بھی ختم ہو سکتا ہے۔

تاریخی عمارت کا بڑا حصہ دریا کے کٹاؤ اور دہائیوں کی بے توجہی کے باعث پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ مزار کے اطراف گھنی جھاڑیاں اور خودرو پودے پھیل چکے ہیں، جبکہ مرمت اور بحالی کے کام نہ ہونے سے اس کی خستہ حالی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

مؤرخین اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ مزار نہ صرف ایک اہم مذہبی مقام ہے بلکہ بھگلپور کے قرونِ وسطیٰ کے ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کی بھی ایک قیمتی علامت ہے۔ ان کے مطابق اس کی تاریخی اہمیت کے باوجود محکمہ آثارِ قدیمہ، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ یا مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس کے تحفظ یا بحالی کے لیے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

تحفظِ آثار کے ماہرین اور مقامی باشندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تاریخی یادگار کے تحفظ، تجاوزات کے خاتمے اور باقی ماندہ زمین کے گرد چہار دیواری کی تعمیر کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صوفی ورثے کی یہ اہم ترین علامت ہمیشہ کے لیے معدوم ہو سکتی ہے اور صرف تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جائے گی۔

Continue Reading

Bihar

بانکی پور میں تیجسوی یادو کا شاندار روڈ شو،برسوں تک اس سیٹ پر ایک ہی خاندان کا رہاہے قبضہ، بی جے پی نے علاقہ کی ترقی کے لیے نہیں کیا کوئی قابلِ بھروسہ کام:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں مہاگٹھ بندھن (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی حمایت میں پوری طاقت جھونک دی۔ تیجسوی یادو نے پیر کے روز میٹھاپور واقع مرکزی انتخابی دفتر سے بانکی پور اسمبلی حلقہ کی پارٹی امیدوار ریکھا کماری گپتا کے حق میں روڈ شو کا آغاز کیا۔اس موقع پر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ اس بار آر جے ڈی امیدوار کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کا بانکی پور میں کوئی چرچا نہیں ہے۔
روڈ شو پر روانہ ہونے سے قبل تیجسوی یادو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانکی پور میں آر جے ڈی کا براہِ راست مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں تک اس نشست پر ایک ہی خاندان کا قبضہ رہا، لیکن علاقے کی ترقی کے لیے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کیا گیا۔ عوام نے اس بار آر جے ڈی امیدوار کو کامیاب بنانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نتن نوین کی نشست سے نیرج کمار سنہا کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جبکہ آر جے ڈی نے ریکھا کماری گپتا کو مسلسل دوسری بار میدان میں اتارا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بھی ریکھا گپتا نے نتن نوین کے خلاف انتخاب لڑا تھا اور 45 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔
تیجسوی یادو کا روڈ شو چاندپور بیلا، سپارا، وِگرہ پور پوسٹل پارک، چڑیاٹاڑ پل، گوریا ٹولی، لال جی ٹولہ سے ہوتا ہوا سبزی باغ تک جائے گا۔ روڈ شو کے دوران تیجسوی یادو کا قافلہ کافی طویل تھا، جبکہ بڑی تعداد میں آر جے ڈی کے کارکنان اور حامی اس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر کارکنان نے آر جے ڈی امیدوار ریکھا کماری گپتا کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ تیجسوی یادو اتوار کے روز اپنے غیر ملکی دورے سے واپس پٹنہ پہنچے تھے۔ واپسی کے فوراً بعد انہوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
بانکی پور ضمنی انتخاب میں مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ نتن نوین کے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس حلقے سے بوتھ سطح کے کارکن نیرج سنہا کو امیدوار بنایا ہے، جبکہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی جانب سے ریکھا کماری گپتا انتخابی میدان میں ہیں۔ دوسری طرف جن سوراج کے کنوینر پرشانت کشور کی انتخابی میدان میں آمد کے بعد یہ مقابلہ مزید دلچسپ اور سنسنی خیز ہو گیا ہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network