Connect with us

Bihar

ارریہ:چائلڈ میرج فری گرام پنچایت کے قیام کیلئے ضلعی سطح کی کوآرڈینیشن میٹنگ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:کمسنی کی شادی جیسی سماجی برائیوں کو ختم کرنے اور بچوں کے محفوظ، تعلیم یافتہ اور مضبوط مستقبل کی تعمیر کے مقصد سے آج ارریہ میں “چائلڈ میرج فری گرام پنچایت (سی ایم ایف جی پی)” کے قیام کے لیے رضاکار تنظیموں کے ساتھ ایک ضلعی سطح کی رابطہ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ارریہ کی قیادت میں پرتھم اور یونیسیف کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔ سیکرٹری ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ، محکمہ پولیس، چیئرمین چائلڈ ویلفیئر کمیٹی، جیویکا، رضاکار تنظیموں کے نمائندوں اور مختلف سماجی تنظیموں نے میٹنگ میں شرکت کی۔
پروگرام کے دوران، بچپن کی شادی کی موجودہ صورتحال، اس کے سماجی، تعلیمی، اور صحت سے متعلق اثرات، اور چائلڈ میرج فری گرام پنچایت اقدام کے مقاصد اور نفاذ کے عمل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کم عمری کی شادی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ میٹنگ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق، بہار میں بچپن کی شادی کی شرح قومی اوسط سے زیادہ ہے اور ارریہ ضلع ان اضلاع میں شامل ہے جو بچپن کی شادی کے چیلنج سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر پنچایت سطح پر مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔ مختلف محکموں اور اداروں کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بچوں کی شادی کو روکنے، نوعمروں کو تعلیم دینے، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور کمیونٹی میں شعور بیدار کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ میٹنگ کے دوران چائلڈ میرج فری گرام پنچایت (سی ایم ایف جی پی) کے تصور، گرام پنچایتوں کے کردار، چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کو فعال کرنا، خطرے سے دوچار خاندانوں کی شناخت، تعلیم سے محروم بچوں کے دوبارہ اندراج، کمیونٹی کی نگرانی کے طریقہ کار، اور محکمانہ ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رضاکارانہ تنظیموں اور مختلف سماجی تنظیموں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کم از کم ایک گرام پنچایت کا انتخاب کریں اور اسے سی ایم ایف جی پی کے رہنما خطوط کے مطابق ترقی دینے کے لیے کام کریں اور ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے ساتھ تال میل قائم کرکے اس مہم کو ایک عوامی تحریک کی شکل دیں۔ میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے ارریہ ضلع میں بچپن کی شادی سے پاک گرام پنچایتوں کے قیام اور بچوں اور نوعمر لڑکیوں کے حقوق، تعلیم، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کا عہد کیا۔ تمام تنظیموں نے CMFGP کے قیام کے لیے ایک ایک گرام پنچایت کو اپنایا، اس طرح تقریباً 15 پنچایتوں کا انتخاب رضاکارانہ طور پر کیا گیا۔

Bihar

حکومت کی کوچنگ سینٹروںپرشکنجہ کسنے کی تیاری،کوچنگ کے تمام طلبہ کا ڈیٹا حاصل کرے گی سرکار، سمراٹ چودھری نے نئی ضابطہ بندی تیار کرنے کی جاری کیں ہدایت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں کوچنگ سینٹروں کے لیے نئی ضابطہ بندی جلد نافذ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کوچنگ سینٹروںکے نظم و نسق پر سختی برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ریاست کے تمام اضلاع میں کوچنگ مراکز میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کا مکمل ڈیٹا حکومت حاصل کرے گی۔نئی ہدایات کے مطابق کوچنگ سینٹروںکے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ اپنے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ کی تفصیلات ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) یا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں۔
وزیر اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوچنگ سینٹروںکے لیے نئے قواعد و ضوابط پر مشتمل ضابطہ بندی بھی متعارف کرائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس کی معلومات دی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسکولوں اور کالجوں کے لیے مقررہ تدریسی اوقات کے دوران کسی بھی کوچنگ ادارے کو چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم یہ ضابطہ اُن طلبہ پر لاگو نہیں ہوگا، جو اپنی باقاعدہ اسکولی یا کالجی تعلیم مکمل کر چکے ہوں۔سمراٹ چودھری نے کہا کہ تعلیمی نظام میں نظم و ضبط، شفافیت اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہماری پختہ وابستگی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پٹنہ کے دو معروف کوچنگ اداروں کے درمیان سخت مسابقت جاری ہے۔ خان سر کے خان گلوبل اسٹڈیز سینٹر اور روشن آنند سر کی گیان بِندو اکیڈمی کے درمیان حال ہی میں بہار پولیس سپاہی بھرتی امتحان کے نتائج کا کریڈٹ لینے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔2 جون کی رات خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر کچھ افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ اس دوران کوچنگ سینٹرمیں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا گیا، جبکہ ایک سکیورٹی گارڈ کی بھی پٹائی کر دی گئی۔ واقعے کے دوران خان سر کے 2 گارڈوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی، جس کی ویڈیو2 دن بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس معاملے میں پولیس نے دونوں فریقوں کے خلاف الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر میں گیان بِندو اکیڈمی کے ڈائریکٹر روشن آنند سمیت دیگر افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ ان پر خان سر کے کوچنگ ادارے میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے 3 جون کو روشن سر سمیت تین افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ منگل کے روز عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی، جس کے بعد وہ فی الحال جیل میں ہیں۔

Continue Reading

Bihar

عمر حجازین اور آفاق اطہرکی گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات،تعلیم، صحت اور ریاستی مفاد کے امور پرکیاگیا مثبت تبادلۂ خیال

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:بہار کے موجودہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین سے مدینہ ایجوکیشن ویلفیئر کے ٹرسٹی آفاق اطہر اور بہار فاؤنڈیشن یو اے ای چیپٹر کے چیئرمین عمر حجازین نے ملاقات کی۔ اس دوران ریاستی مفاد، تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور مختلف عصری موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کے دوران بہار کی مجموعی ترقی، تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے، صحت کے شعبے میں بہتری اور عوامی فلاح سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے لیے باہمی تعاون، رابطے اور مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔آفاق اطہر نے ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مسلسل کوششیں بہار کے روشن مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ ایسے رابطے ریاست کی ترقی کے سفر کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
عمر حجازین نے بھی بہار کی ترقی کے لیے تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم بہاری برادری بھی ریاست کی فلاح اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ملاقات کو بہار کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مثبت رابطے اور مشترکہ کوششوں کی ایک اہم کڑی قرار دیا گیا۔

Continue Reading

Bihar

پاٹلی پتر یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے سلسلے میں اہم میٹنگ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پاٹلی پترا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اپیندر پرساد سنگھ کی پہل پر طلبہ کی مہارتوں کی ترقی اور روزگار پر مبنی تربیت کو فروغ دینے کے مقصد سے بدھ کے روز ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔
میٹنگ میں یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (YEP) کے نفاذ اور اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) طے کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار ڈاکٹر ابو بکر رضوی نے نے کہا کہ اس نوعیت کے تربیتی اور پلیسمنٹ پر مبنی پروگرام طلبہ کو معیاری تعلیم، عملی مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کے مقاصد کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔میٹنگ میں یونیورسٹی اور ٹی سی ایس کے درمیان جلد ہی باضابطہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے اور پاٹلی پترا یونیورسٹی کے تمام جزوی اور الحاق شدہ کالجوں میں مرحلہ وار یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
میٹنگ میں ٹی سی ایس کی جانب سے یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام کے گلوبل ہیڈ مسٹر چندرشیکھر، بہار میں پروگرام کے نگران مسٹر گورو مشرا اور لکھنؤ و دہلی سے آئے ہوئے ٹی سی ایس کے دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر ڈاکٹر راجیو رنجن، سی سی ڈی سی پروفیسر شیو کمار یادو، شعبۂ تاریخ کے ڈاکٹر مکیش کمار، ٹی۔پی۔ایس کالج کے ڈاکٹر ہنس کمار اور کالج آف کامرس کے ڈاکٹر رجنیش کمار سمیت مختلف کالجوں کے نمائندگان موجود تھے۔میٹنگ کی نظامت اور موضوعی پیشکش یونیورسٹی کے ٹریننگ و پلیسمنٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد علی نے کی۔
میٹنگ میں ٹی سی ایس کی جانب سے چلائے جا رہے مختلف پروگراموں کی معلومات دی گئیں اور خاص طور پر یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام (YEP) پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس پروگرام کے تحت یونیورسٹی کے آخری سال کے طلبہ کو روزگار سے متعلق مہارتیں فروغ دینے کے لیے 100 گھنٹے کی آف لائن تربیت فراہم کی جائے گی۔ ہر کالج سے تقریباً 100 طلبہ کا انتخاب کرکے انہیں یہ تربیت دی جائے گی۔ٹی سی ایس کے نمائندوں نے بتایا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو صنعتوں کی موجودہ ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی پروگرام کا اولین مقصد ہے، جبکہ روزگار اس کا فطری نتیجہ ہوگا۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد طلبہ کو ٹی سی ایس، ٹاٹا گروپ کی مختلف کمپنیوں اور دیگر ممتاز اداروں میں روزگار اور پلیسمنٹ کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network