تازہ ترین
ضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایاتگیاجی:داروغہ کے بیٹوں پر فائرنگ کیس:پولیس کا ہاف انکاؤنٹر، 2 ملزمین زخمی، قتل کی سازش پر شکنجہسیکٹر لیول لیڈ انٹیلی جنس ایجنسی کا 52 ویں ایس ایس بی کیمپ ارریہ میں منعقدسعودی عرب میں چار ہزارعمرہ زائرین کے پھنسنے پر تشویش کااظہار ، شاہ اسلامک اکیڈمی مظفرنگر میںزائرین حج وعمرہ کی تربیت کی اہمیت وضرورت پر کتابچہ کا اجراءطلبا میں نئے افسانہ نگاروں کو پڑھنے اور جاننے کا ہونا چاہئےشوق :پروفیسر صغیر افراہیم،شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی میں ”اکیسویں صدی میں اردو افسانہ“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمیت کے گھر یتیموں کی سسکیوں کے درمیان لذیذ کھانے! کیا ہمارا ضمیر مر چکا ہے؟، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب محمد اقبال کا میت کے گھر کھانے کی دعوت، یتیموں کے حقوق اور تیجہ، دسواں، چالیسواں جیسی رسومات پر اظہارِ خیال؛ اہلِ محلہ سے غم زدہ خاندانوں کی مدد کرنے کی اپیلڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشستریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہ
دلی این سی آر

وزیر اعلیٰ نے شالیمار باغ میں ترقیاتی کاموں کا کیا افتتاح

ئی دہلی:دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو شالیمار باغ اسمبلی حلقہ کے اے ڈی بلاک اور پتم پورہ کے اے پی بلاک میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر میونسپل کونسلر انیتا جین سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شالیمار باغ میں شہری سہولیات کا ایک نیا انفراسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی کی ضروریات اور آنے والے سالوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید سڑکیں، نکاسی آب کا بہتر نظام، صاف نالوں، منظم پارکنگ، واک ویز، پبلک ٹوائلٹس اور خوبصورت پارکس بنائے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت نے عام شہریوں، رہائشی خاندانوں، اداروں اور صنعتوں کو بڑی راحت دی ہے جس سے ایف زمرے کی کالونیوں میں انفراسٹرکچر چارجز (آئی ایف سی) پر 50 فیصد نیز جی اور ایچ زمرے کی کالونیوں میں 70 فیصد تک کی چھوٹ ملے گی۔گپتا نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایف سی صرف نئے تعمیری منصوبوں یا کسی جائیداد میں اضافی تعمیر پر ہی لاگو ہوگا۔ جن ری ڈیولپمنٹ منصوبوں میں پانی کی مانگ نہیں بڑھتی ہے، ان پر آئی ایف سی نہیں لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، غیر-ایف اے آر اور کھلے و بنا ڈھکے ہوئے علاقوں کو پانی کی مانگ اور آئی ایف سی کے حساب کتاب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد شہریوں کو راحت فراہم کرنا، بنیادی سہولیات کو مضبوط کرنا اور پانی کے انتظام، سیویج ٹریٹمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں دہلی کو ایک مثالی ماڈل کے طور پر قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے الگ الگ زمرے کی کالونیوں اور ضرورت مند طبقات کو خصوصی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای اور ایف زمرے کی کالونیوں میں آئی ایف سی پر 50 فیصد اور جی اور ایچ زمرے کی کالونیوں میں 70 فیصد تک کی چھوٹ ملے گی۔ اس کے علاوہ، 200 مربع میٹر سے بڑے پلاٹ پر بنی 50 مربع میٹر یا اس سے چھوٹی رہائشی اکائیوں کو اضافی 50 فیصد رعایت دی جائے گی، جس سے چھوٹے خاندانوں اور متوسط طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ مذہبی مقامات اور دفعہ 12 اے بی کے تحت رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو بھی پانی اور سیور آئی ایف سی پر اضافی 50 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ وہیں، ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے زیرو لیکویڈ ڈسچارج نظام اپنانے والے اداروں اور کاروباری اداروں کو سیور آئی ایف سی میں 50 فیصد تک کی رعایت فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ رعایت صرف انہی اداروں اور کاروباری اداروں کو ملے گی، جہاں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے مقررہ معیارات کے مطابق زیرو لیکویڈ ڈسچارج (زیڈ ایل ڈی) پر مبنی سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم اور پوری طرح فعال ہو۔ اگر جانچ کے دوران ایس ٹی پی بند یا کام نہ کرتا پایا گیا تو دی گئی چھوٹ واپس لے لی جائے گی اور چھوٹ کی رقم پر روزانہ 0.05 فیصد کی شرح سے جرمانہ بھی لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے انفراسٹرکچر چارج کی وجہ سے لوگوں پر اضافی معاشی بوجھ پڑ رہا تھا۔
گھر بنانے یا اپنے مکان میں نئی تعمیر کرانے پر خاندانوں کو لاکھوں روپے تک فیس دینی پڑتی تھی، جس سے انہیں کافی پریشانی ہوتی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے پورے نظام کا جائزہ لیا اور اسے مزید سادہ، شفاف اور عام لوگوں کے مفاد میں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی نافذ ہونے کے بعد دہلی میں گھر بنانا اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا آسان ہوگا اور شہریوں کو لاکھوں روپے کی براہ راست راحت حاصل ہوگی۔ حکومت ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے، نہ کہ شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا۔
اس موقع پر دہلی کے وزیر پرویش صاحب سنگھ نے بتایا کہ برسوں تک پچھلی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے آئی ایف سی نظام کو دہلی والوں کے لیے راحت کا ذریعہ بنانے کے بجائے ہراساں کرنے کا ایک اوزار بنا دیا تھا۔ جو فیس پہلے مناسب اور عملی تھی، اسے استعمال پر مبنی حساب کتاب سے ہٹا کر پیچیدہ رقبہ پر مبنی حساب کتاب کا نظام نافذ کر کے چھ سے سات گنا تک بڑھا دیا گیا۔ گھر بنانے کی کوشش کر رہے عام خاندانوں کو 15-20 لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ کا مطالبہ تھما دیا جاتا تھا۔ لوگ بلٹ-اپ ایریا، ایف اے آر، بالکونی، سیڑھیوں اور مختلف پیرامیٹرز سے جڑے الجھاؤ والے قوانین میں پھنس جاتے تھے۔ اس سے بدعنوانی، ہراسانی اور سرکاری دفاتر کے ان گنت چکر لگانے کی مجبوری پیدا ہوئی۔ شہریوں کی مدد کرنے کے بجائے پورا نظام ایسا بنا دیا گیا تھا، جو انہیں مشکلات میں دھکیلتا تھا۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہماری حکومت نے اب اس نظام کو پوری طرح بدل دیا ہے۔ آئی ایف سی کے عمل کو سادہ، شفاف اور منصفانہ بنایا ہے۔ 200 مربع میٹر تک کے پلاٹ پہلے کی طرح فیس سے مستثنیٰ رہیں گے اور حکام کے ذریعے غیر ضروری ناپ تول یا ہراسانی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔