Bihar
نتیش کمار کے اشارے پر ہورہا ہے سب کچھ، سیکورٹی واپس لینے اور رابڑی دیوی کے بنگلہ تنازعہ پر آرجے ڈی سپریمو کا سخت ردعمل
پٹنہ:تقریباً ایک ماہ سے بہار میں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی 10 سرکلر روڈ، پٹنہ میں واقع رہائش گاہ کو خالی کرنے پر سیاست چل رہی ہے۔ یہ مسئلہ ابھی جاری ہی تھا،کہ اسی دوران ریاستی حکومت نے لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو فراہم کردہ زیڈ پلس سیکورٹی واپس لے لی۔ بنگلہ تنازعہ اور سیکورٹی واپس لینے کا معاملہ اتنا گرم ہوا کہ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سمیت آر جے ڈی کے کئی لیڈروں نے اپنی سیکورٹی بھی واپس کردی۔ اب لالو پرساد یادو نے رابڑی کی رہائش گاہ خالی کرنے اور سیکورٹی واپس کرنے کے معاملے پر ردعمل دیا ہے۔
اپنے بیان میں لالو پرساد یادو نے براہ راست سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر الزام لگایا۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کے لیے سیکورٹی واپس لینے اور رہائش گاہ خالی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پٹنہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ نتیش کمار یہ سب کچھ کرا رہے ہیں۔ جب پٹنہ میں نامہ نگاروں نے لالو پرساد یادو سے پوچھا کہ کیا ان کی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے، تو انہوں نے جواب دیا، “ہاں، سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اورنتیش کمار نے ہی یہ سب کروایا ہے۔
لالو یادو کے اس بیان نے اس معاملے پر ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے لالو پرساد یادو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رابڑی دیوی نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں اپنی رہائش گاہ خالی کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت درکار ہے۔ تاہم لالو پرساد یادو بیمار نہیں ہیں، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ نتیش کمار ایسا کیوں کریں گے؟ نتیش کمار وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ اگر آپ نتیش کمار کے کہنے پر بول رہے ہیں تو آپ نتیش کمار کی مثال پر کیوں نہیں چلتے؟ نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ خالی کر دی ہے، آپ کیوں نہیں کرتے؟ نتیش کمار آپ جو الزامات لگا رہے ہیں وہ سیاسی طور پر اہم ہیں کیونکہ ان کا ووٹ بینک ختم ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ یہ بیان دے رہے ہیں، اور کوئی اور وجہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بہار میں سمراٹ چودھری حکومت نے راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کو دی گئی زیڈ پلس کیٹیگری کی سیکورٹی واپس لے لی تھی۔ ریاستی حکومت نے دلیل دی کہ سیکورٹی کم کرنے کا فیصلہ ریاستی سیکورٹی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے، جس کا اجلاس 4 جون کو ہوا تھا۔ حکومت نے کہا کہ یہ کمیٹی وقتاً فوقتاً سیکورٹی کیٹیگریز کا جائزہ لیتی ہے اور اپنی سفارشات پیش کرتی ہے۔
تاہم سیکورٹی ہٹانے سے ناراض لالو اور رابڑی نے اپنی رہائش گاہ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں کو وہاں سے جانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد کئی آر جے ڈی لیڈران اور کارکنان کو رابڑی کی رہائش گاہ کے باہر دن اور رات شدید گرمی میں پہرہ دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ آر جے ڈی لیڈروں نے بھی حکومت پر بدنیتی سے کام لینے کا الزام لگایا۔ اس تنازعہ کے درمیان حکومت نے رابڑی کی رہائش گاہ کے باہر تقریباً 42 سیکورٹی اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کر دیا۔
Bihar
محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر روک کیلئے منوج کمار جھا کا وزیر اعظم کو خط
مظفرپور:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے رام پور، اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کو فوری ہدایت دیں کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کو معطل کیا جائے اور معاملے کا قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق حل نکالا جائے۔پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک فعال تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعمیراتی یا انتظامی بے ضابطگی کو ریگولرائزیشن، جرمانے، نظرِ ثانی شدہ منظوری یا دیگر قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر ایک پوری یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا نہ تو معقول اقدام ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر من مانی اور انتقامی انہدامی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور مناسب قانونی عمل، تناسب اور ریاستی احتساب کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تعلیمی ادارے کی تقریباً تمام عمارتوں کو منہدم کرنا انصاف اور آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اپنے خط میں پروفیسر جھا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ کارروائی سیاسی انتقام اور فرقہ وارانہ امتیاز کا تاثر پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کے خلاف کی جا رہی ہے جسے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما(اعظم خان)نے قائم کیا تھا اور جو بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس انہدامی کارروائی کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر ملک کی جمہوری، آئینی اور تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو ملبے میں تبدیل کرنے کی تصاویر پوری دنیا میں جائیں گی، جو ہندوستان کے تعلیم، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کریں گی۔
پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو انہدامی کارروائی روکنے، یونیورسٹی کو محفوظ رکھنے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی تعلیمی ادارے اور اس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو اس کے بانی کی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
Bihar
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف آئیسا کا احتجاجی مارچ
چھپرہ :طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے دہلی کے جنتر منتر پر سونم وانگچنگ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا کے خلاف مبینہ پولیس بدسلوکی اور کارروائی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔یہ مارچ نگر پالیکا چوک سے شروع ہو کر تھانہ چوک پر ختم ہوا۔جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ پرامن اور جمہوری طریقے سے طلبہ کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ،نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کی طلبہ برادری جمہوری طریقے سے مخالفت کرے گی۔مارچ کے دوران مظاہرین نے پولیس کے جبر کے خلاف نعرے لگائے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مقررین نے کہا کہ جابرانہ پالیسیوں کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی۔احتجاجی مارچ میں رانی،ریا،راج لکشمی،سنجنا،کالی داس،اکھلیش،روشن، بٹو ،نیرج،پریانشو،شیوم،پردیپ سمیت متعدد کارکن و طلبا نے شرکت کی۔
Bihar
نالندہ کالج میںگریجویٹ طلبہ کے لیے’دیکشا آرمبھ سماروہ ‘ کا انعقاد
بہار شریف:نالندہ کالج، بہار شریف کے کیمپس میں آج گریجویٹ کے نئے سیشن کے نومرتبہ شدہ طالبعلموں کے لیے ایک شاندار دیکشا آرمبھ سماروہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا اور سینئر اساتذہ پروفیسر کچوے، ڈاکٹر شیام سندر پرساد اور ڈاکٹر منجو کماری کے ذریعے مشترکہ طور پر روایتی دیپ پرجولن کر کے کیا گیا۔ اس پورے سماروہ کی نظامت معاشیات شعبے کے شعبہ صدر ڈاکٹر سَروَدامن کشیپ نے نہایت مہارت، توانائی اور دلچسپ انداز میں کی، جنہوں نے درمیان میں تحریکی خیالات سے طلبہ میں نیا جوش بھرا۔
سماروہ کی صدارت کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا نے نئے طلبہ کا کالج خاندان میں خیرمقدم کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ نالندہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی علم اور علم والوں کی سرزمین رہی ہے۔ آج کے نوجوان اس شاندار ورثے کے امیدار ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو باقاعدگی سے کلاسوں میں حاضر رہنے، نظم و ضبط پر عمل کرنے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے متاثر کیا۔
پروگرام کے دوران طلبہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کئی سینئر ماہرینِ تعلیم نے بطور موٹیویشنل اسپیکر اپنے خیالات پیش کیے۔ پروفیسر آر. پی. کچوے نے طلبہ کو وقت کا انتظام اور سخت محنت کی اہمیت سمجھائی۔ ڈاکٹر شیام سندر پرساد نے زندگی میں مثبت نقطہ نظر اور اونچے اہداف طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ ڈاکٹر منجو کماری نے طالبات کو خود کفیل بننے اور زندگی کی ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے متاثر کیا۔
نئے طلبہ کو کالج کے نظام سے آشنا کرانے کے لیے ڈاکٹر سمیت کمار اور جتیندر سنہا کے ذریعے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ انہوں نے طلبہ کو کالج کے سخت قواعد، چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم نصاب، امتحانی نظام، لائبریری کی سہولیات کے ساتھ ساتھ، این ایس ایس اور کھیل کود جیسی نصابی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں ڈاکٹر شاہد الرحمان نے شکریہ کا کلمہ پیش کیا، جس میں انہوں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پرنسپل، مہمانوں، انعقاد کمیٹی اور طلبہ کا احسان مندی کا اظہار کیا۔
اس دیکشا آرمبھ سماروہ میں کالج کے تمام شعبوں کے شعبہ صدر، تمام تعلیمی عملہ اور غیر تعلیمی عملہ موجود رہے۔ پروگرام کے اختتام کے بعد تمام نومرتبہ شدہ طلبہ کو ان کے متعلقہ شعبوں میں بھیجا گیا، جہاں اساتذہ نے ان سے براہ راست مکالمہ کیا۔
ڈاکٹر کماری چمپا، ڈاکٹر بھاونا، ڈاکٹر اوپین منڈل، ڈاکٹر شردھا کماری، ڈاکٹر وجے کمار، ڈاکٹر مرتیونجے، ڈاکٹر ششاک شیکھر جھا، ڈاکٹر علی، ڈاکٹر راج دیو، ڈاکٹر ششی بھوشن، ڈاکٹر سنتوش، ڈاکٹر غازی، ڈاکٹر سندھو کماری سمیت دیگر اساتذہ اور عملہ موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
