تازہ ترین
ضمانت کی درخواست پر 2 ماہ کے اندر کریں فیصلہ، نہیں تو ججوں کوبتانی ہوگی وجہ، پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کی تمام سول عدالتوں کیلئے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) سے متعلق جاری کی رہنما ہدایاتگیاجی:داروغہ کے بیٹوں پر فائرنگ کیس:پولیس کا ہاف انکاؤنٹر، 2 ملزمین زخمی، قتل کی سازش پر شکنجہسیکٹر لیول لیڈ انٹیلی جنس ایجنسی کا 52 ویں ایس ایس بی کیمپ ارریہ میں منعقدسعودی عرب میں چار ہزارعمرہ زائرین کے پھنسنے پر تشویش کااظہار ، شاہ اسلامک اکیڈمی مظفرنگر میںزائرین حج وعمرہ کی تربیت کی اہمیت وضرورت پر کتابچہ کا اجراءطلبا میں نئے افسانہ نگاروں کو پڑھنے اور جاننے کا ہونا چاہئےشوق :پروفیسر صغیر افراہیم،شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی میں ”اکیسویں صدی میں اردو افسانہ“موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمیت کے گھر یتیموں کی سسکیوں کے درمیان لذیذ کھانے! کیا ہمارا ضمیر مر چکا ہے؟، آگرہ کی مسجد نہر والی میں خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب محمد اقبال کا میت کے گھر کھانے کی دعوت، یتیموں کے حقوق اور تیجہ، دسواں، چالیسواں جیسی رسومات پر اظہارِ خیال؛ اہلِ محلہ سے غم زدہ خاندانوں کی مدد کرنے کی اپیلڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی دہلی آمد پر پُروقار شعری نشستریس کورس کی قدیم مسجد کو تحفظ کے ساتھ بنیادی سہولیات کو کرایا جائےبحال،’ملا فری اِنڈیا‘ کہہ کر تشدد پھیلانے والے پر سخت کارروائی کا مفتی مکرم کا مطالبہ
بہار

ملی قیادتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ،’’وقف بچاؤ ، دستور بچاؤ‘‘کانفرنس کو کامیاب بنانے کا عزم

(پی این این)
پٹنہ : 29 جون کو گاندھی میدان پٹنہ میں منعقد ہونے والی “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کی تیاریاں بڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام ہونے والی اس تاریخی کانفرنس کی مجلس استقبالیہ کی جانب سے پٹنہ میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی ،جس میں ملی تنظیموں کے ذمہ داران خانقاہوں کے سجادگان، ائمہ کرام، استقبالیہ کمیٹی کے اہم ذمہ داران اور متعدد مسالک و مکاتب فکر کے قائدین نے شرکت کی اور متفقہ طور پر “وقف بچاؤ دستور بچاؤ” کانفرنس کوہرطرح کامیاب بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس اجلاس کی کامیابی کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ساتھ ہی پٹنہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ائمہ کمیٹی، خواص کمیٹی، مجلس استقبالیہ کمیٹی، میڈیا کمیٹی، نشر و اشاعت کمیٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان تمام کمیٹیوں نے یک زبان ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ “پٹنہ کی سرزمین وقف بچاؤ تحریک کی امین بنے گی”۔ ماضی میں دین بچاؤ دیش بچاؤ تحریک کے دوران جس طرح پٹنہ نے خدمت، ضیافت اور نظم و ضبط اور اہتمام کی مثال پیش کی تھی، اس بار بھی وہی نقش دہرانے کا اعلان کیا گیا۔
اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف آئینی خلاف ورزی ہے بلکہ وقف املاک پر منظم قبضے اور لوٹ کھسوٹ کی راہ ہموار کرتا ہے۔اس قانون کے نفاذ کے بعد وقف کا بنیادی اسلامی تصورِ اور اس کی اصل اسلامی تعریفات ختم کر دی جائیں گی۔ وقف بورڈ کو ایک حکومتی ایجنسی میں تبدیل کرنے، لوگوں کے وقف کرنے کے اختیارات کو محدود تر کر دیا جائےگا۔ ہمارے خیر کی 1400 سالہ تاریخ کو مٹا دیا جائے گا اور ہمارے مدارس، مساجد، مقابر و قبرستان سب کو برباد کر دیا جائے گا۔
یہ تمام تبدیلیاں دراصل ایک منصوبہ بند سازش ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کے مذہبی، تعلیمی، سماجی و تاریخی ورثے کو مٹانے کی راہ بنائی جا رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد ان تمام سازشوں کو ناکام بنانا اور ایک متحد آواز میں حکومت ہند کو یہ پیغام دینا ہے کہ “ہم دستور کے ساتھ ہیں، اور اپنے وقفی اداروں پر کسی قسم کی سیاسی یا قانونی شب خون کو برداشت نہیں کریں گے۔”پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام جماعتوں کے قائدین اور امارت شرعیہ کے نمائندگان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 29 جون کو اپنے گھروں سے نکلیں، اور گاندھی میدان کو تاریخ کے سب سے بڑے پرامن، باوقار اور دستور پرست اجتماع میں بدل دیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔