Connect with us

دلی این سی آر

مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی زندہ روایت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی ایک اہم اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔
یہ محض شعری کلام سنانے کی محفل نہیں بلکہ ادب، فکر، تخلیق اور اظہارِ احساسات کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ مشاعرے کے ذریعے شعراء اپنے خیالات، جذبات اور مشاہدات کو سامعین تک پہنچاتے ہیں، جبکہ سامعین کو مختلف ادبی و فکری جہات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔اردو اکادمی، دہلی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وقتاً فوقتاً مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک منفرد اور خوش آئند پیش رفت کے طور پر اردو اکادمی، دہلی نے اس بار ایک بالکل نئے اور اچھوتے موضوع ’’صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام‘‘ کا انتخاب کیا۔ دہلی حکومت کے محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ خصوصی ادبی و شعری نشست قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، طلبا اور اردو زبان و ادب کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی جناب شکیل حسن شمسی نے فرمائی۔
جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب معین شاداب نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دیے۔ انھوں نے پوری نشست کو ابتدا سے انتہا تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مربوط اور پُراثر بنائے رکھا۔پروگرام کا آغاز نہایت پُروقار انداز میں ہوا۔ صدرِ مشاعرہ، ناظمِ مشاعرہ اور تمام شعرائے کرام نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے محفل کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس کے بعد اردو اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے صدرِ مشاعرہ کو پودا پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
تقریب کے آغاز میں اردو کے نامور شاعر جناب بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی گراں قدر ادبی خدمات کو ان کی منتخب شاعری کے حوالے سے یاد کیا گیا۔
مشاعرے کی افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے اردو اور ہندی صحافت و ادب کی مشترکہ اور تابناک روایت پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں زبانوں کی ادبی صحافت کے اس حسین امتزاج کو ایک ایسے طلوع ہوتے سورج سے تشبیہ دی جس کی روشنی میں سچائی کو زیادہ واضح انداز میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اردو اکادمی، دہلی کی علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی کی یہ کاوشیں نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ملک کی دیگر ادبی و ثقافتی اکادمیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ناظمِ مشاعرہ معین شاداب نے اپنے خطاب میں صحافت اور شاعری کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے صحافت کو ’’عجلت میں لکھا ہوا ادب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور ادب کا رشتہ ہمیشہ سے مضبوط اور ناگزیر رہا ہے۔ بالخصوص اردو صحافت کی روایت میں صحافی اپنے اخبار یا ادارے کے نظریے اور موقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے شاعری سے بھرپور استفادہ کرتا رہا ہے، جس کے باعث صحافت اور شاعری ایک دوسرے کی معاون اور ہم سفر بن گئی ہیں۔
اس موقع پر دہلی کے ممتاز صحافی شعراء نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں شکیل حسن شمسی، سلیم شیرازی، تحسین منور، معین شاداب، ڈاکٹر شفیع ایوب، خصال مہدی، ارشد ندیم، ضمیر ہاشمی، امیر امروہوی، ڈاکٹر فرمان چودھری، نعیم ہندوستانی، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی، رامش رؤف،،ڈاکٹر منورحسن کمال، انجم جعفری اور مبارک قاسمی وغیرہ نے شرکت کی اور اپنے کلام میں عصری مسائل، انسانی اقدار، سماجی رویّوں اور صحافتی تجربات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے دہلی حکومت کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سرپرستی، تعاون اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کے نتیجے میں ایسے معیاری ادبی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو پا رہا ہے۔ انہوں نے مشاعرے میں شریک تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، دانشوروں، طلبا اور سامعین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی بھرپور شرکت نے اس ادبی نشست کو یادگار اور کامیاب بنا دیا۔

دلی این سی آر

سنجے جھیل کو ملےگی نئی زندگی: ایل جی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:مشرقی دہلی کی پہچان سمجھی جانے والی سنجے جھیل کو ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے مشرقی دہلی میں سنجے جھیل کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں جاری احیاء اور خوبصورتی کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو جھیل کے تحفظ اور بحالی کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ معلوم کریں کہ یہ 165 ایکڑ جنگلاتی علاقہ اپنے نئے اوتار میں کب ابھرے گا۔دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (DDA) نے تقریباً 52 ایکڑ پر پھیلی اس انسانی ساختہ جھیل کے لیے ایک مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا ہے، اور اس کے ارد گرد 165 ایکڑ پر محیط جنگلاتی علاقہ ہے۔ معائنہ کے دوران، ایل جی نے جھیل کو پانی کی فراہمی میں خلل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کو ہدایت دی کہ وہ دلو پورہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) سے ٹریٹ شدہ پانی کی باقاعدگی سے فراہمی کو یقینی بنائے۔
انہوں نے پانی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے پائپ لائن کی مرمت کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔LG نے جھیل پر جاری کاموں کا جائزہ لیا، جس میں جڑی بوٹیوں کو ختم کرنا، طحالب کی صفائی، اور جیو ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈھلوانوں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔اگست 2026 تک مکمل ہونے والے پہلے مرحلے میں جھیل کے ارد گرد جمع ہونے والے پانی کو مرکزی ذخائر کی طرف موڑنا، بائیو سویلز کی تنصیب، واک ویز کی مرمت اور جھیل کے بستر سے جڑی بوٹیوں کو ہٹانا شامل ہے۔ دوسرا مرحلہ، جو مئی 2027 تک مکمل کیا جائے گا، اس میں نکاسی آب کے نظام کو مضبوط بنانا، وسیع پیمانے پر بائیو میڈی ایشن، پانی کے معیار اور تحلیل شدہ آکسیجن کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے ایریٹرز اور فوارے نصب کرنا شامل ہیں۔ماحولیاتی توازن کو مضبوط بنانے کے لیے، LG نے علاقے میں 5,000 مقامی درختوں کے پودے لگانے کی بھی ہدایت کی۔ فی الحال، متعدد انواع موجود ہیں، جن میں یوکلپٹس، نیم، ارجن، پِلخان، اشوکا، چاندنی، ہیبسکس اور اولینڈر شامل ہیں۔ایل جی نے کہا کہ سنجے جھیل کو اس کی سابقہ ​​شان میں بحال کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے محکموں کے درمیان بہتر تال میل، CSR فنڈنگ ​​کے استعمال، اور مقامی RWAs کی شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آنے والی نسلوں کے لیے جھیل ایک صاف، سرسبز اور ماحولیاتی لحاظ سے اچھی عوامی جگہ بنی رہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں 50 آئی اے ایس اور کئی سینئر افسران کا تبادلہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی حکومت نے ایک بڑا انتظامی ردوبدل کیا ہے۔ حکومت نے 50 IAS اور DANICS (دہلی، انڈمان اور نیکوبار جزائر سول سروس) افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ محکمہ صحت میں سیکرٹری سطح کے تقریباً تمام افسران کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
کابینی وزراء پنکج کمار سنگھ (صحت) اور کپل مشرا (سیاحت) کے سکریٹریوں کا بھی تبادلہ کیا گیا ہے۔انڈین ایکسپریس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ محکمہ صحت میں سرکاری اسپتالوں کے لیے دوائیوں کی خریداری سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے درمیان آیا ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی کو حکومت کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے علاوہ خواتین اور بچوں کی ترقی، تجارت اور ٹیکس، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ریونیو، شہری ترقی، جیلوں، بجلی، اور واٹر بورڈ سمیت کئی محکموں میں افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ادویات اور دیگر طبی آلات کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے محکمہ صحت کے دو اعلیٰ افسران کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان دو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے، انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی) نے اس کیس کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی (سی پی اے) کے اس وقت کے انچارج ڈاکٹر ونود کمار رنگا کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر خریداری کے عمل میں زبردست بے ضابطگیوں اور منتخب کمپنیوں کی حمایت کا الزام ہے۔ اس سے مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو کافی نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے سینٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی کے 40 سے زیادہ میڈیکل، پیرا میڈیکل اور انتظامی افسران اور ملازمین کا تبادلہ کیا تھا۔ حکومت نے کہا کہ سنٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی دہلی حکومت کے صحت کے نظام کے لیے کام کرنے والا ایک اہم محکمہ ہے اور اس میں تجربہ کار افسران اور ملازمین کو شامل کیا جا رہا ہے۔فائر ڈیپارٹمنٹ میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ شہر میں آتشزدگی کے حالیہ واقعات کے بعد فائر ڈیپارٹمنٹ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ دہلی فائر سروسز کے پرنسپل ڈائرکٹر نیدنچیزیان کو ہٹا دیا گیا ہے اور اب یہ ذمہ داری سچن رانا (اضافی چارج) کو سونپی گئی ہے۔ وہ محکمہ شہری ترقی اور محکمہ داخلہ میں سکریٹری کے عہدوں پر بھی فائز رہیں گے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کی اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار اختتام

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کی تھیٹر ورکشاپ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مسلسل جاری رہنے والا پروگرام ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اردو تھیٹر ورکشاپ کے دو مراکز قائم کیے گئے تھے کریسنٹ اسکول، موج پور اور اردو اکادمی دہلی کے دفتر کا احاطہ۔ ہندوستان میں شاید ہی کوئی دوسری ادبی و ثقافتی اکادمی ہو جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل بچوں کے لیے باضابطہ ڈراما ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہو۔ اس ورکشاپ کے ذریعے بچوں کو اداکاری، مکالمہ ادائیگی، اسٹیج کے آداب اور اردو تھیٹر کی روایت سے عملی طور پر روشناس کرایا جاتا ہے۔وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ اور چیئرمین اردو اکادمی ،دہلی کپل مشرا کی خصوصی توجہ، تعاون اور سرپرستی کے باعث ہی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں منعقدہ اختتامی پروگرام میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی شریک ہوئے جن کا تعلق غیر اردو پس منظر سے تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں اردو اکادمی کے کسی پروگرام میں شریک ہوئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کی صلاحیتوں پر مبنی اتنا خوبصورت اور معیاری پروگرام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘دیگر حاضرین نے بھی بچوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف بائیس دن کی محنت میں بچوں نے جس اعتماد اور مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ حیرت انگیز اور قابلِ ستائش ہے۔ ان کے مطابق اردو اکادمی، دہلی اس کامیاب کاوش پر مبارک باد کی مستحق ہے۔
دوسرے روز کا پروگرام اپنے مقررہ وقت پر ریشماں فاروق کی دلکش نظامت میں شروع ہوا۔ اردو اکادمی، دہلی کے سینئر اراکین محمد ہارون اور عزیز حسین قدوسی نے فنکاروں کو گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کا پہلا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ داستان گوئی پر مشتمل تھا، جس میں نو بچوں نے جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان کی رہنمائی میں اپنی داستانیں پیش کیں۔ افرا افتخار نے ’’چچا چھکن‘‘، سمرین نے ’’نیکی کا فرشتہ‘‘، محمد عمر نے ’’شیر اور خرگوش‘‘، افرح حریم نے ’’ایمانداری‘‘، زویا نے ’’بڑوں کی عزت‘‘، یاسین نوشاد نے ’’کپڑوں کی دعوت‘‘، انشا محبوب نے ’’دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟‘‘، ایمن فاطمہ نے ’’محنتی کسان اور اس کے آلسی بیٹے‘‘ اور عنایہ عظیم نے ’’میں بچ گئی ماں‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔
پروگرام کا دوسرا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ غزل گائیکی پر مشتمل تھا۔ جویریہ نے ’’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘‘، تسمیہ نے ’’اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں‘‘ اور عامرہ نے ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘‘ پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ ان کے ساتھ ہارمونیم پر ان کے موسیقی استاد جناب ذیشان ضمیر اور طبلے پر غلام صابر نے شاندار سنگت پیش کی۔
بعد ازاں اردو تھیٹر ورکشاپ میں تیار کردہ مزاحیہ ڈراما ’’گدھے کا گدھا‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی جمن میاں اور ان کے محبوب گدھے ’’جنّوں میاں‘‘ کے گرد گھومتی ہے، جسے وہ تعلیم دلا کر انسان بنانا چاہتے ہیں۔ مختلف مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں معاشرتی مسائل کی عکاسی کے ساتھ کئی اہم پیغامات بھی پیش کیے گئے۔تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے میں اٹھائیس ننھے اداکاروں نے اپنی شاندار اداکاری سے حاضرین کو محظوظ کیا اور بھرپور داد حاصل کی۔
دونوں روز کے پروگراموں نے ثابت کر دیا کہ اردو اکادمی، دہلی کا سمر کیمپ اور تھیٹر ورکشاپ ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ان دو دنوں میں 17بچوں نے داستان گوئی،5 بچوں نے غزل گائیکی اور71 بچوں نے ڈراموں میں حصہ لیا۔پروگرام میں ڈراما اور ادب سے وابستہ شخصیات کے علاوہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فرمان چودھری، حبیب سیفی، عرفان راہی، شاکر دہلوی، مختلف اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network