تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دلی این سی آر

بنگالی مسلمانوں کے معاملے میں سپریم کورٹ کاحکم انصاف کی جیت:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں کہا کہ 29 صفر کو ماہ ربیع الاول کے چاند کی رویت ہو گئی اس لیے 12 ربیع الاول عید میلاد النبیؐ 5 ستمبر بروز جمعہ ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ 12 ربیع الاول کو جلوس کا اہتمام کریں وہ ادب و احترام کی پابندی کریں جلوس میں ڈی جے باجے وغیرہ نہ بجائیں اور دوسرے لوگوں کی نقل نہ کریں۔
انہوں نے اتر پردیش حکومت سے پرزور اپیل کی کہ وارانسی کے دال منڈی بازار کے توسیع کے منصوبے پر نظر ثانی کی جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ جو منصوبہ بنایا جا رہا ہے اس سے 184 مکانات اور بہت ساری دکانیں اس کی زد میں آ رہی ہیں جن سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس بازار میں چھ قدیم مساجد بھی ہیں جہاں باقاعدگی کے ساتھ پانچ وقت جماعت کا اہتمام ہوتا ہے۔ سڑک چوڑی کرنے اور ٹریفک جام کے مسئلے کو دوسری طرح بھی حل کیا جا سکتا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کسی بھی مسجد کو نقصان نہ پہنچے اس کا دھیان رکھا جائے اور اس گلزار علاقے کو برباد نہ کیا جائے۔
مفتی مکرم نے آسام میں ریاستی حکومت کی طرف سے بنگالی مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کیے جانے کی مذمت کی، راحت کے بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 70 سال سے آباد افراد کو بے گھر کرنے کے ریاستی حکومت کے منصوبے پر پانی پھیرتے ہوئے صورتحال کو جوں کی تو رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گولا گھاٹ کے مسلمانوں کو جولائی میں صرف سات دن کے نوٹس پر علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے کاروائی کو روک دیا ہے یہ حکم قابل تعریف ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔
مفتی مکرم نے مسئلہ فلسطین کے حل اور غزہ کی صورتحال کے حوالے سے وزرائے خارجہ کونسل کے 21یسویں خصوصی اجلاس کے فیصلے کی تعریف کی جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ہرگز قبول نہیں ۔ او آئی سی کو سختی کے ساتھ اسرائیل سے معاملہ کرنا چاہیے۔ مفتی مکرم نے اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کی بھی شدید مذمت کی جس میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو براہ راست شہید کرنے کی دھمکی دی گئی ہے ایسا ہوا تو خطہ میں بدامنی پھیل جائے گی۔مفتی مکرم نے او ائی سی سے اپیل کی کہ غزہ کی نسل کشی کو بند کرایا جائے اور راحتی امداد کو یقینی بنایا جائے او آئی سی اس کے لیے موثر اقدامات کرے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔