Connect with us

Bihar

صاحب استطاعت حضرات حج کی ادائیگی میں نہ کریںتاخیر :مفتی سعید الرحمن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانامفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ حج جہاں اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ، وہیں اجتماعیت ، زہد و تقویٰ ، پرہیزگاری تکثیر حسنات اور تقرب الی اللہ کا عظیم ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود مسلمانوں کو اپنے مقدس گھر کی زیارت کی ہدایت دی ہے اور حج کرنے کا حکم دیا ہے،بہت ساری حدیثوں میں اس عمل کی بڑی فضیلت آئی ہے ، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے بیت اللہ کا حج اس طرح کیا کہ ا س میں اس سے کوئی گناہ سر زد نہ ہوا ہو تو وہ حج کے سفر سے ایسا واپس ہوگا کہ جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔
حج فرض ہو نے کے بعد اس کی ادائیگی میںتاخیرنہیںکرنی چاہئے ،جتنی جلد ممکن ہواس کی ادائیگی کرلی جائے ،اس لئے کہ اگر کسی کی موت اس حالت میں آجائے کہ جس نے حج کے فرض ہو نے کے باوجود اس فریضہ کو ادا نہیں کیا تو حدیث میں ایسی موت کو جاہلیت کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔عام طور پر برصغیر کا ماحول یہ ہے کہ حج فرض ہو جانے کے باوجود لوگ سستی کرتے ہیں اور اس کو اخیر عمر تک ٹالتے رہتے ہیں ۔ جبکہ عزیمت یہ ہے کہ جوں ہی آدمی صاحب استطاعت ہو اور آمد و رفت کے اخراجات کے ساتھ اہل و عیال کا نفقہ ادا کرنے کا اہل ہو جا ئے تو فوراً حج کی ادائیگی کے لیے رخت سفر باندھ لے۔دوسری بات یہ ہے کہ تاخیر کرنے اور بڑھاپے میں حج کرنے کی صورت میں ضعف اور پیری کے باعث عبادت میں اورارکان و واجبات حج کی ادائیگی میں نشاط و لطف مکمل درجہ کا نہیں رہ پا تا ہے اور ارکان کی صحیح طور پر ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے۔اس لیے صاحب ثروت لوگوں کو اس جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ حج کے فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کریں۔
الحمد للہ۲۰۲۷ء؁ کے لیے حج کا فارم بھرنے کا اعلان آچکا ہے جس کی آخری تاریخ ۲۰؍ جولائی۲۰۲۶ء؁ رات ۵۹:۱۱ منٹ تک ہی ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے اور وقت رہتے فارم پر کر لیا جائے۔حج کا فارم بھرنے کے لیے انٹرنیشنل پاسپورٹ ہونا لازمی ہے ، اس لیے جن لوگوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے یا پاسپورٹ اکسپائر ہو چکا ہے وہ جلد از جلد اپنا پاسپورٹ بنوا لیں یا رینیول کروا لیں ۔
حج کا فارم حج کمیٹی آف انڈیا کے ویب سائٹ www.hajcommittee.gov.inپر دستیاب ہے ، یا موبائل ایپ (Haj Suvidha))آن لائن فارم بھرنے کی سہولت ہے ، اگرآن لائن حج فارم بھر نے میں دشواری ہوتوحج بھون پٹنہ میں آکر بھی حج فارم بھرا یاجاسکتاہے ۔
ائمہ مساجد، اساتذہ مدارس، تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داران،علماء کرام ،دانشوران ملت اور سیاسی و سماجی خدمتگاروں سے ا پیل ہے کہ وہ حج کی فضیلت و اہمیت کو اپنی تقاریر، خطبات اور خصوصی مجلسوں میں لوگوں کے سامنے اجاگر کریں تا کہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی طرف لو گ متوجہ ہوں۔نیز عازمین حج کے پاسپورٹ بنوانے کی سعی کے ساتھ حج فارم بھرنے میں مدد کریں۔
ایسے لوگ جنہیں اللہ نے دولت و ثروت کی نعمت سے نوازا ہے انہیں خصوصی ملاقاتوں کے ذریعہ حج کی ادائیگی کی طرف رغبت دلانے سے اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ناظم صاحب نے حج کمیٹی کے ذمہ داروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ بہار سے عازمین حج کی تعداد میں اضافہ ہو اس کے لیے بڑے پیمانے پر ترغیب حج کی مہم چلانے کی ضرورت ہے ،حج کمیٹی کو چاہئے کہ ملی تنظیموں، علماء اور ائمہ حضرات کی مدد سے ہر ضلع میں بلاک اور پنچایت کی سطح پر ترغیب حج کے پروگرام منعقد کیے جائیں ، سماجی کارکنان اور رضاکاروں سے بھی اس کام میں مدد لی جائے ، ان شاء اللہ اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوگا اورانشاء اللہ عازمین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ائمہ کرام سے بھی درخواست ہے کہ مسجد کے منبر ومحراب سے لوگوں کو حج کی ترغیب پر خصوصی توجہ دیں۔

Bihar

المنصور ٹرسٹ کی ادبی نشست میں ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی رسمِ اجراء

Published

on

دربھنگہ: المنصور ٹرسٹ، دربھنگہ کے زیرِ اہتمام ادبی و فکری نشست ’’گفتگو‘‘ کا کامیاب انعقاد حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں عمل میں آیا۔ نشست کا موضوع ’’ادیبوں کے عصری تقاضے‘‘ تھا، جبکہ معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی باوقار رسمِ اجراء بھی انجام دی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی تھے، جبکہ صدارت پروفیسر محمد آفتاب اشرف، سابق صدر شعبۂ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف ادیب انور آفاقی نے انجام دیے۔
ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر احسان عالم نے مصنف ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، تنقید اور تبصرہ نگاری کے ساتھ ساتھ سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں سفرناموں کو قارئین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی، جو ان کی گہری مشاہداتی بصیرت کا مظہر ہیں۔ڈاکٹر ایوب راعین نے مصنف سے اپنی دیرینہ رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد ہمیشہ سفر اور مشاہدے کے شوقین رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے سفرناموں میں حقیقت نگاری اور دلکشی نمایاں نظر آتی ہے۔
صدرِ مجلس پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت اور اس کی ادبی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ ایک دلچسپ اور معیاری تصنیف ہے، جو قاری کو اپنے ساتھ سفر پر لے جاتی ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کو زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں، جبکہ نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز کی اشاعتی خدمات کو سراہتے ہوئے دو سو سے زائد کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ معیاری کتابوں کی اشاعت خوش آئند ہے، تاہم قارئین کی کم ہوتی تعداد اہلِ قلم اور معاشرے دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے دربھنگہ کو بہار کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی ادبی روایت ہمیشہ زندہ اور فعال رہی ہے۔

تقریب کے دوران ڈاکٹر منصور خوشتر، سکریٹری المنصور ٹرسٹ نے کتاب کی اشاعت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے سفرنامے محض سیاحتی روداد نہیں بلکہ معلومات، مشاہدات اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنف کا پہلا سفرنامہ ’’دارجلنگ کی سیر‘‘ قارئین میں بے حد مقبول ہوا، جبکہ تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر (سری نگر اور پہلگام کی سیر)‘‘ بھی اسی روایت کی کامیاب کڑی ہے، جسے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڑتالیس صفحات پر مشتمل یہ مختصر مگر معلوماتی سفرنامہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات، سماجی مشاہدات اور ذاتی تاثرات کو نہایت سادہ، رواں اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، جس سے قاری خود کو اس سفر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منصور خوشتر نے مہمانان، مقررین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ المنصور ٹرسٹ آئندہ بھی ایسی ادبی، فکری اور علمی نشستوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ ادب و ثقافت کے فروغ کے ساتھ نئی نسل میں مطالعے کا رجحان مضبوط ہو۔

Continue Reading

Bihar

منوج کمار ٹھاکر قتل کیس کا 6 گھنٹے میں انکشاف، ملزم گرفتار

Published

on

دربھنگہ : دربھنگہ پولیس نے قتل کے ایک سنسنی خیز مقدمے کا صرف چھ گھنٹے کے اندر کامیاب انکشاف کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ساکشی کماری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قتل کی واردات رقم کے لین دین کے تنازع کے باعث انجام دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 14 جولائی کی صبح تقریباً 7:35 بجے اطلاع ملی کہ سکت پور تھانہ علاقے کے اُجیان کنک پور باشندہ منوج کمار ٹھاکر عرف لادین (38) کی اُجیان کالی مندر کے قریب رات کے وقت نامعلوم شخص نے قتل کر دیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ڈی ایم سی ایچ) روانہ کیا، جبکہ فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوع سے اہم شواہد اکٹھا کیے۔
متوفی کے بھائی سنتوش کمار کی تحریری شکایت پر سکت پور تھانہ کاند نمبر 93/26 درج کرتے ہوئے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103(1) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور فوری طور پر تفتیش شروع کر دی گئی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے جائے وقوع اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ 13 جولائی کی رات تقریباً 10:45 بجے منوج کمار ٹھاکر اور کشن کامتی (50) کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جسے وہاں موجود لوگوں نے وقتی طور پر ختم کرا دیا تھا۔
بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں کشن کامتی رات تقریباً 11:51 بجے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا لیے جائے وقوع کی طرف جاتا اور رات 12:15 بجے خالی ہاتھ واپس آتا دکھائی دیا۔ اس بنیاد پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی، جس کے دوران اس نے قتل میں اپنی ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ رقم کے لین دین کو لے کر ہونے والے تنازع کے بعد اس نے منوج کمار ٹھاکر کے سر پر لکڑی کے ڈنڈے سے وار کیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔
گرفتار ملزم کی شناخت کشن کامتی (50)، ولد کُئیرا کامتی، ساکن اُجیان گڑھ ٹولہ، تھانہ سکت پور، ضلع دربھنگہ کے طور پر ہوئی ہے۔
اسے عدالتی تحویل میں بھیجنے کی کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ مقدمے کے دیگر پہلوؤں کی بھی تفتیش جاری ہے۔
اس کامیاب کارروائی میں تھانہ صدر اروِند کمار، سب انسپکٹر چارلی کماری، سپاہی ہری شنکر کمار، خاتون سپاہی شیوانی کماری، چوکیدار شبھم کمار اور چوکیدار پرتوش کمار نے اہم کردار ادا کیا۔

دیہی ایس پی ساکشی کماری نے کہا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات کا فوری انکشاف اور ملزمان کی گرفتاری دربھنگہ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی شواہد، جدید تفتیشی طریقوں اور فوری کارروائی کی بدولت پولیس نے مختصر وقت میں اس مقدمے کو کامیابی سے حل کیا، جبکہ دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

Bihar

بڑی واردات کی سازش ناکام، ہوائی فائرنگ کرنے والے 4 مشتبہ افراد گرفتار

Published

on

دربھنگہ:ضلع کے بہیڑی تھانہ علاقے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک ممکنہ بڑی مجرمانہ واردات کو ناکام بنا دیا۔
منگل کی دیر رات مبینہ ہوائی فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے چھاپہ ماری کر 4 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ ان کے قبضے سے ایک تھار گاڑی اور فائرنگ کے چار کھوکھے برآمد کیے گئے۔ واقعے کے دوران چند دیگر مشتبہ افراد اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے پولیس مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق مقامی دیہاتیوں نے اطلاع دی تھی کہ لوآجان پل کے قریب چور کی جانب جانے والے راستے پر چند افراد ایک تھار گاڑی کھڑی کر کے مشکوک حالت میں موجود ہیں اور ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔ اطلاع کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بہیڑی تھانہ صدر سورج کمار گپتا پولیس ٹیم کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے کارروائی شروع کی۔
پولیس کی اچانک کارروائی سے موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ان کے چند ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوع سے ایک کالے رنگ کی تھار گاڑی اور فائرنگ میں استعمال ہونے والے چار کھوکھے ضبط کر لیے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بینی پور کے سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) باسوکی ناتھ جھا بھی موقع پر پہنچے اور پوری کارروائی کا جائزہ لیا۔ پولیس نے گرفتار افراد کا طبی معائنہ بھی کرایا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ شراب کے نشے میں تھے یا نہیں۔ اس سلسلے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
گرفتار افراد کی شناخت اروند یادو، پرنس کمار، دلخوش کمار اور اشوک کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ان میں دو ملزمان سمستی پور ضلع کے وارث نگر تھانہ علاقے، ایک روسڑا تھانہ علاقے اور ایک دربھنگہ ضلع کے سلحا گاؤں، تھانہ بہیڑی، کا رہائشی ہے۔
بہیڑی تھانہ صدر سورج کمار گپتا نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے شبہ ہے کہ گرفتار افراد بہیڑی-بہیڑا اسٹیٹ ہائی وے (ایس ایچ-88) کے کنارے کسی سنگین مجرمانہ واردات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس تمام پہلوؤں سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے، ملزمان کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے اور فرار ہونے والے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر مسلسل چھاپہ ماری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہوائی فائرنگ کا اصل مقصد کیا تھا اور آیا اس کے پیچھے کسی بڑی مجرمانہ سازش کا منصوبہ موجود تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید اہم انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network