تازہ ترین
چھوٹی صنعتوںکو فروغ دینے کیلئے حکومت کی نئی پالیسی،بہار کے اگلے بجٹ میں سرمایہ کاری پر ہوگی دولت کی بارش، نتیش کمار کی تشکیل کردہ کمیٹی نے سمراٹ حکومت کوسونپی رپورٹمدارس کی تعلیمی صورتحال اور ملحقہ کنونشن کیلئے میٹنگ منعقد، مدرسہ ایجوکیشن بورڈکا قیام اور ملحقہ مدارس، مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی مرہون منتافسران سے ملی بھگت کے ذریعہ فرضی رجسٹری کراکر زمین پر قبضہ کر رہے ہیں ’زمین مافیا‘چھپرا : 6 ماہ پرانے تنازع پر ہوا خونی تصادم، چاقو زنی سے 3 افراد ہلاکیوپی میںچیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایس پی کا احتجاج،غازی آباد،میرٹھ،رائے بریلی، باغپت اور مظفر نگرمیں سڑکوں پر اترےسماجوادی پارٹی کے کارکنان ،نکالاپیدل مارچ،ای سی آئی کا پتلا نذر آتشپارٹی کی توقعات پوری کرنے کی کروں گاکوشش ،صوبہ کا ر گزار صد منتخب ہونے کے بعد عمران مسعود کی میڈیا سے گفتگوجمعیۃ علماء کی میٹنگ میں اصلاح معاشرہ، مردم شماری اور ہندو- مسلم اتحاد کی حکمت عملی طےرام لیلا بھگوان شری رام کی اقدار کی زندہ روایت :ریکھا
Bihar

پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی، شعبۂ اردو ایک عہد ساز معلم سے محروم

دربھنگہ:للت نارائن متھلا یونیورسٹی (ایل این ایم یو) دربھنگہ کے شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر ریاض اختر شفیق نے پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی پر انہیں ایک عہد ساز معلم، ممتاز محقق اور بہترین مربی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی چار دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کا ایک مقدس فریضہ ہے، اور پروفیسر آفتاب اشرف نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت داری، اخلاص اور وقار کے ساتھ نبھایا۔ ان کی سبکدوشی محض ملازمت کے اختتام کا مرحلہ نہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔
ریاض اختر شفیق نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف نے اپنی 42 سالہ تدریسی زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی اور اپنی تحقیقی بصیرت، ادبی ذوق اور فکری گہرائی سے شعبۂ اردو کو نئی جہتیں عطا کیں۔ شعبے کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف اعلیٰ اخلاق، سادگی، انکساری اور خوش مزاجی کا حسین امتزاج تھے۔ وہ طلبہ کے لیے صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک شفیق رہنما اور بہترین مربی ثابت ہوئے، جنہوں نے تعلیمی تربیت کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دی۔
ریاض اختر شفیق نے مزید کہا کہ اردو ادب کے مختلف شعبوں میں پروفیسر آفتاب اشرف کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات ہمیشہ علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ ان کی تحریریں اور علمی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی سے شعبۂ اردو میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگا، تاہم ان کے شاگرد، ان کی علمی روایت اور ان کی تعلیمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔