Bihar
’ایک نامور عالم دین اور بے مثال خطیب تھےحضرت مولانا سید سلمان حسینی ’،امار ت شرعیہ میں منعقد تعزیتی نشست سے ناظم امارت شرعیہ ودیگر ذمہ دارن کا اظہار تعزیت
(پی این این)
پھلواری شریف:افسوس کہ ملک کےایک عظیم اسلامی اسکالر اردو و عربی کے بے مثال خطیب ومقرر ادیب وانشاء پرداز اور درجنون کتابوں کے مصنف و محقق حضرت مولانا سید سلمان الحسینی ندوی صاحب ۲۹؍جون کی شب اس دار فانی سے رخصت ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جاملے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ‘‘ ۔
ان کے سانحہ ارتحال پر امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت شریعت حضرت مولانا سید احمدولی فیصل رحمانی مدظلہ نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ اس قحط الرجال میں مولانا جیسے صاحب فہم وفراست عالم دین کا اٹھ جانا ایک بڑا علمی سانحہ ہے ،انہیں خانقاہ رحمانی مونگیر سے بے پناہ محبت وعقیدت تھی اور اس نسبت سے وہ یہاں برابر تشریف بھی لاتے تھے ،بلاشبہ ان کے وصال سے ایک بڑا خلا ء پید اہو ا ہے ۔
حضرت مولانا کے وصا ل پر امارت شرعیہ میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس میں ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کا تعلق سادات حسینی کے ایک معزز علمی خانوادے سے تھا،یہ وہ خاندان ہے جس نے صدیوں علم دین کی شمع روشن کی ،اسی خانوادے کے آ پ چشم وچراغ تھے ،آپ کے اندر ملت کا درد تھا ،اسی لئے مسلمانوں کے دلوں پر دستک دیکر ان کے ایمانی جذبہ کو ابھارتے تھے ، آ پ کا امارت شرعیہ اور یہاں کے اکابر سے قلبی لگاؤ تھا ،اس تعلق کی بنیاد پر بھی یہاں اکثر تشریف لاتے تھے ،افسوس کے ایسے صاحب کردار عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھا جانا ایک بڑا حادثہ ہے۔
امارت شرعیہ کے صدر قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا کی شخصیت میں بڑی جامعیت تھی ،خاندانی شرافت وجاہت اور علم وفضل میں اپنی مثال آپ تھے ،اس شخصیت اور جامعیت کے لوگ جلد پید انہیں ہوتے۔
امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ مولانا حق وصداقت کے علمبردار اور صاف گوئی وبیباکی میں عدیم المثال تھے ،مجھے ان کے ساتھ عرصہ تک کام کرنے کا موقع ملا ،اس درمیان میں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر خرد نوازی تھی ،ان کے اندر کاموں کوانجام دینےاور دوسروںسےکا م لینے کا ملکہ تھا ،بہارمیں انجمن شباب الاسلام کے پلیٹ فارم سے متعدد اصلاحی پروگرام ہوئے اوراس حقیر سے یہ خدمت لیا کرتے تھے ،مولانا میر ے بڑے محسن بھی تھے جس کی بہت سی یادیں سینے میں محفوظ ہیں۔
امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہر اب ندوی نے کہا کہ مولانا میرے شفیق استاذ تھے میں نے ان سے متعدد کتابیں پڑھیں ،ان کے پڑھانے کا انداز نہایت ہی عمدہ تھا،اللہ تعالیٰ نے مولانا کو زبان وبیان میں بے پناہ ملکہ عطاء فرمایا تھا جس سے امت کو فائدہ پہونچتا تھا،مولانا مفتی احتکام الحق صاحب قائم مقام مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا کی اردو و عربی تقریروں میں روانی بھی ہوتی اور برجستگی بھی ،قرآنی آیات سے باتوں کو مدلل فرماتے جس سے سامعین پرخوشگوار اثرات پڑتے ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا اردو اور عربی دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے جس سے ان کی زبان دانی کا اندازہ ہوتا ہے ،مولانا احمدحسین صاحب مدنی نے کہا کہ مولانا سے چند ملاقاتیں رہی ہیں جس سے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل کے اندر ملت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ا تھا ،مولانا رضوان احمد ندوی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا میر ے ایک شفیق مربی اور رہنماتھے ،وہ بہت ہی اچھوتے انداز میں درس دیا کرتے تھے ،جس سے طلبہ طمانینت محسوس کرتے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا دراصل تحریکی مزاج رکھنے والے عالم دین تھے ،انجمن شباب الاسلام اور مدرسہ سید احمد شہید ملیح آباد کے قیام کا مقصد مسلمانوں کی اسلامی انداز میں تربیت دیانا تھا ، مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مولانا ایک بڑے عالم دین ایک بڑے خطیب اورنا مور محقق تھے ،نششت کا آغاز مولانا اسعداللہ قاسمی صاحب کی تلا وت کلام پاک سے ہوا ،مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب صدر قاضی شریعت کی دعاپر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی،اس نششت میں جناب احسان الحق صاحب ،جناب عرفان الحسن صاحب ،مولانا مجیب الرحمن قاسمی صاحب ،جناب محمد امتیاز صاحب ،مولانا محمد صابر حسین قاسمی صاحب ،مولانا مفتی محمد عقیل اختر قاسمی صاحب ،مولانا ارشد رحمانی صاحب ،مولانا منت اللہ حید ری صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحب ،مولانا محمد شارق رحمانی صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام مظاہری صاحب ،ایڈووکیٹ ہارون رشید صاحب ،جناب خبیب احمد صاحب ،مولانا محمد شہنواز عالم مظاہری صاحب ،مولانا خالد سیف اللہ قاسمی صاحب وغیرھم نے شرکت کی ۔
Bihar
خانقاہی فکر کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر مشائخ کا اہم مشاورتی اجلاس
پٹنہ:خانقاہی فکر کے بینر تلے بہار کی مختلف خانقاہوں کے سجادہ نشینان، ولی عہدان، علماء، مشائخ اور خانقاہی نمائندگان کا ایک اہم آن لائن مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خانقاہی نظام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، نئی نسل کی دینی و روحانی تربیت، خانقاہوں کے باہمی رابطے، علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق کے دائرے کو وسیع کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کا آغاز سید شاہ حامد رضا مدثر قادری، امجھر شریف کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض ٹی ایم ضیاء الحق نے انجام دیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ خانقاہوں کا مقصد اختلافات کو ہوا دینا یا فتویٰ بازی نہیں، بلکہ انسان کی اصلاح، کردار سازی اور خدمتِ خلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان خانقاہوں سے رہنمائی کا منتظر ہے، اس لیے نئی نسل کی فکری، دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔
سید شاہ صباح الدین چشتی نے مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ روحانی و اخلاقی تربیت کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ سید شاہ سلمان مودودی چشتی نے فکری انتشار اور انتہاپسندی کے مقابلے میں خانقاہی فکر کے اعتدال پسند کردار کو اجاگر کیا۔شاہ نورین علی حق نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو خانقاہی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ تمام خانقاہوں کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان اور خانقاہ سے وابستہ تمام نوجوانوں کی بلاامتیاز تربیت کا اہتمام کریں۔ خانقاہی خانوادوں سے تعلق رکھنے والے وہ علماء جو مختلف اداروں سے عالمیت و فضیلت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، انہیں تصوف کے مراجع و مصادر کی حیثیت رکھنے والی بنیادی کتب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ خانقاہوں کو ان کی عملی تربیت اور فکری رہنمائی کی جانب بھی مؤثر پیش رفت کرنی چاہیے۔
سید شاہ مجیب الحق عمادی ازہری نے نئی نسل کو تعلیماتِ تصوف سے جوڑنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال کی ضرورت بیان کی، جبکہ سید شاہ ابوالمحاسن قادری نے خانقاہی انتظامات کو منظم کرنے اور نوجوانوں کو دینی، علمی، سماجی و انتظامی ذمہ داریاں دینے کی تجویز پیش کی۔ سید شاہ ارباب اشرف نے خانقاہوں کے وسیع النظر اور انسان دوست کردار پر روشنی ڈالی، جبکہ شاہ نورین علی حق نے نوجوانوں کی تربیت اور کلیۃ البنات کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
نشست کی صدارت سید شاہ احمد فضیل نے کی، جبکہ سید شاہ عطا فیصل نے خانقاہی فکر کا تعارف پیش کیا۔ سید شاہ خرم حسین منوری نے خانقاہی خانوادوں کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔اجلاس میں سید شاہ حیات ابوالعلائی، شاہ مشاہد اصدق، سید شاہ کاشف سہروردی، سید شاہ طالب الحق عمادی، سید شاہ طالب منوری، سید شاہ منظر قادری اور سید شاہ ارشد افضلی سمیت متعدد علماء، مشائخ، سجادہ نشینان اور ولی عہدان نے شرکت کی۔شرکائے اجلاس نے خانقاہی نظام کو اعتدال، روحانیت، اخلاق، محبت اور خدمتِ خلق کی جامع روایت قرار دیتے ہوئے نئی نسل کی تربیت، باہمی رابطے اور علمی و سماجی سرگرمیوں کو مزید منظم اور وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کا اختتام سید شاہ صباح الدین چشتی کی دعا پر ہوا۔
Bihar
ایک قدآور سیاست داں اور عوامی لیڈرہیں لالوپرساد یادو،ٹی ایم سی رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہانےپٹنہ میں آرجے ڈی سربراہ اور رسابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی سے کی ملاقات
(پی این این)
پٹنہ:سابق مرکزی وزیر اور ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس سے قبل بانکی پور ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی جیت کے بعد شتروگھن سنہا نے پی کے کی جم کر تعریف کی تھی اور انہیں ایک باصلاحیت نوجوان رہنما قرار دیا تھا۔اب شتروگھن سنہا نے پٹنہ میں سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر رابڑی دیوی بھی موجود تھیں اور ’بہاری بابو‘ نے دونوں کی بھی کھل کر تعریف کی۔ شتروگھن سنہا نے ہفتہ کے روز راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً آدھے گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ اس دوران شتروگھن سنہا نے لالو پرساد یادو کی خیریت دریافت کی۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی بھی اس موقع پر موجود تھیں، جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ملاقات کے بعد شتروگھن سنہا نے کہا کہ لالو خاندان کے ساتھ ان کے بہت پرانے اور گہرے خاندانی تعلقات رہے ہیں۔ وہ لالو پرساد کی صحت کو لے کر فکرمند تھے، اسی لیے ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایشور سے دعا کرتے ہیں کہ لالو پرساد ہمیشہ صحت مند اور خوش رہیں اور انہیں طویل عمر عطا ہو۔
اداکار اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے لالو پرساد سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران ان کی جم کر تعریف کی اور انہیں عوامی رہنما اور ایک نہایت اچھا انسان قرار دیا۔شتروگھن سنہا نے کہا کہ انہوں نے لالو پرساد اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی کے ساتھ کافی دیر تک گفتگو کی۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’’میں یہاں صرف لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔ لالو جی میرے پرانے خاندانی دوست ہیں۔ وہ ایک قدآور سیاست دان اور عوامی رہنما ہیں۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے انسان ہیں۔ جب بھی میں پٹنہ آتا ہوں، ان سے ضرور ملاقات کرتا ہوں۔‘‘
ٹی ایم سی رکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ وہ لالو پرساد کے بیٹوں تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو سے ملاقات نہیں کر سکے، کیونکہ دونوں کسی ضروری کام سے شہر سے باہر تھے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ لالو جی اور رابڑی جی کے ساتھ ان کی کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔شتروگھن سنہا نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بی جے پی سے کیا تھا۔ کچھ عرصہ کانگریس میں رہنے کے بعد وہ ٹی ایم سی میں شامل ہو گئے۔ جمعہ کے روز انہوں نے قومی اہلیتی داخلہ امتحان (نیٹ) کے پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر مرکز کی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جبکہ طلبہ کی حمایت میں آگے آنے پر راہل گاندھی کی جم کر تعریف کی تھی۔
ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی جیت پر کہا تھا کہ بہار کی سیاست کے سیاہ بادلوں کے درمیان یہ امید کی ایک کرن ہے۔شتروگھن سنہا نے اپنے آبائی شہر پٹنہ کے دورے کے دوران ’پی ٹی آئی ویڈیو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی۔
انہوں نے ’جین زی‘ کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے مرکز کی حکمراں این ڈی اے حکومت کے طریقۂ کار پر تنقید کی تھی، جبکہ طلبہ کی حمایت میں مضبوطی سے کھڑے ہونے پر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی بھی تعریف کی تھی۔شتروگھن سنہا نے کہا تھا کہ یہ ایک قابلِ ذکر جیت تھی۔ حکمراں اتحاد کی جانب سے سیاسی، مالی اور طاقت کے بھرپور استعمال اور تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پرشانت کشور نے کامیابی حاصل کی۔ بہار کی سیاست کے چھائے ہوئے سیاہ بادلوں کے درمیان ان کی یہ جیت امید کی ایک کرن بن کر سامنے آئی ہے۔
Bihar
سیامڑھی:جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید ہوگا پولیس کا شکنجہ سخت
سیتامڑھی:پولیس سپرنٹنڈنٹ سیتامڑھی کی صدارت میں ماہانہ کرائم اجلاس منعقد ہوئی۔ اجلاس میں ڈی ایس پی ٹریفک، سائبر اور ریزرو، تمام سب ڈویژنل پولیس افسران، سرکل انسپکٹر، تھانہ انچارج اور مختلف شاخوں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و قانون کی صورتحال، جرائم پر قابو پانے، زیرِ التوا مقدمات کی تفتیش و نمٹارے، معیاری تفتیش اور عوام مرکز پولیسنگ کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے تمام تھانہ انچارج کو ہدایت دی کہ اپنے اپنے علاقوں میں کم از کم پانچ مطلوب مجرموں کی شناخت کرکے ان کے خلاف انعام مقرر کرنے کے لیے ضابطے کے مطابق تجویز پیش کریں۔ زیرِ التوا مقدمات کے جلد اور معیاری نمٹارے کے لیے سائنسی تفتیش، تکنیکی اور مادی شواہد کے مناسب استعمال پر خصوصی زور دیا گیا۔ گھس پیٹ کرنے والوں کی شناخت کرکے ضروری جانچ اور قانونی کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی۔ تھانوں میں آنے والے عام شہریوں کے ساتھ شائستگی، نرمی اور حساسیت سے پیش آنے اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کو کہا گیا۔ نشہ سے نجات، منشیات کے مضر اثرات، سائبر جرائم اور ٹریفک قوانین کے حوالے سے پنچایت اور اسکول کی سطح پر باقاعدہ بیداری مہم چلانے کی ہدایت دی گئی۔ ’’سب کا احترام، زندگی آسان‘‘ پروگرام کے تحت ہر پیر اور جمعہ کو سب ڈویژن، سرکل اور تھانہ کی سطح پر عوامی دربار اور عوامی مکالمہ منعقد کرکے لوگوں کے مسائل حل کرنے کو کہا گیا۔ e-Dossier، e-Summon، e-Sakshya، Criminal Verification اور CCTNS کے مؤثر اور مقررہ وقت میں استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ گشت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور Dial-112 کی چوکسی و فوری رسپانس بہتر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پاسپورٹ اور کردار کی تصدیق سے متعلق معاملات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کا حکم دیا گیا۔ شراب بندی مہم کے تحت مسلسل چھاپہ ماری اور ضبط شدہ شراب کو جلد تلف کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
U.D.، SC/ST، POCSO، عصمت دری اور جہیز ہراسانی جیسے سنگین اور حساس مقدمات کو ترجیحی بنیاد پر نمٹانے کا حکم دیا گیا۔ زیرِ التوا وارنٹ، اشتہار اور قرقی کے نفاذ کے لیے خصوصی مہم چلانے اور سیکٹر وار ذمہ داری مقرر کرکے فوری کارروائی کرنے کو کہا گیا۔ گنڈا اور CCA کی تجاویز بھی جلد بھیجنے کی ہدایت دی گئی۔ہر اتوار دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک گنڈا پریڈ اور چوکیداری پریڈ باقاعدگی سے منعقد کرنے کا حکم دیا گیا۔ تھانہ احاطے میں ڈائری رائٹنگ کیمپ منعقد کرکے زیرِ التوا مقدمات کے تیز رفتار نمٹارے کی ہدایت دی گئی۔ مقدمات کی تفتیش 60/90 دن کے اندر مکمل کرنے اور اس کی تفصیلات CCTNS پورٹل پر درج کرنے کو کہا گیا۔ ہر تفتیش کار کو ماہانہ کم از کم 10 مقدمات جبکہ تھانہ انچارج اور سرکل انسپکٹر کو کم از کم 4 مقدمات حل کا ہدف دیا گیا ہے ۔ تمام سب ڈویژنل پولیس افسران کو ہر تھانے سے کم از کم پانچ مقدمات کو اسپیڈی ٹرائل کے لیے منتخب کرکے آگے بھیجنے کی ہدایت دی گئی۔ سخت گاڑی چیکنگ مہم چلا کر مشتبہ افراد، ٹرپلنگ، بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کو کہا گیا۔ فعال مجرموں اور جیل سے رہا ہونے والے مجرموں کی تازہ فہرست تیار کرنے، ان کے خلاف ضروری کارروائی کرنے اور اطلاعاتی نظام کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی گئی۔ غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور منشیات کی اسمگلنگ پر خصوصی نظر رکھنے کے ساتھ خواتین ہیلپ ڈیسک کو مؤثر اور حساس انداز میں چلانے پر بھی زور دیا گیا۔ ڈیوٹی پر تعینات تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو وردی میں بہتر ٹرن آؤٹ اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس کے اختتام پر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے افسران اور اہلکاروں سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے فرائض، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے حوالے سے رہنمائی کی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں کے مسائل بھی سنے گئے اور ان کے فوری حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
