Bihar
ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات
ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔
Bihar
ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار
(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Bihar
گیاجی: شبھ کامنا اسپتال پر علاج میں غفلت کا الزام
(پی این این)
گیا جی: شہر کے شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں مریض کی موت کے بعد مبینہ طبی غفلت کو لے کر اہل خانہ کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اہل خانہ نے ہاسپٹل کے ڈاکٹر پر علاج میں لاپروائی، غلط دوا دینے اور مبینہ طور پر اوور ڈوز کے باعث مریض کی حالت بگاڑنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ موت کے بعد اہل خانہ نے ہاسپٹل کے باہر زبردست ہنگامہ کیا۔ اطلاع ملنے پر رام پور تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور کافی مشقت کے بعد حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مانپور بلاک کے نارائن نگر کے رہنے والے سابق پنچایت سکریٹری سدھیشور پرساد کی طبیعت تقریباً 20 روز قبل اچانک خراب ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے وپن کمار نے انہیں شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں داخل کرایا۔ اہل خانہ کے مطابق جانچ کے دوران دل میں بلاکیج کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے دو اسٹنٹ لگائے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسٹنٹ لگانے کے بعد ڈاکٹر امن سنہا نے اسٹنٹ صحیح طریقے سے لگ جانے کی بات کہتے ہوئے مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ مشورے کے لئے بلایا۔ اس کے بعد مریض کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ہاسپٹل پہنچے اور مریض کی حالت کے بارے میں معلومات لینے کے ساتھ بہتر علاج کے لئے دوسرے ہاسپٹل لے جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن انہیں مسلسل یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اسٹنٹ لگ چکا ہے اور اب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
متوفی کے بیٹے وپن کمار نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کے بجائے دوسری دوائیں دی گئیں اور مبینہ اوور ڈوز کی وجہ سے مریض کی حالت مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق علاج کے نام پر اب تک تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
وپن کمار کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی وہ اپنے والد کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے اور ان کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے داخل کرنے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ اس وقت بھی مریض کو داخل نہیں کیا گیا۔ اگلے ہی روز مریض کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ مشتعل ہوگئے اور ہاسپٹل کے باہر ہنگامہ شروع کردیا۔
اہل خانہ نے محکمہ صحت سے پورے معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل جانچ کرانے، علاج کے دوران دی گئی دواؤں اور ان کی مقدار کی جانچ کرنے اور اگر طبی غفلت ثابت ہو تو ہاسپٹل اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈاکٹر امن سنہا کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون نہیں لگا۔ ان کی بہن ڈاکٹر میگھا سنہا نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ہاسپٹل ہے اور یہاں مریضوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب پُرسکون ہوچکا ہے اور اہل خانہ لاش لے کر چلے گئے ہیں۔رام پور تھانہ کے تھانیدار دنیش بہادر سنگھ نے بتایا کہ مریض کی موت کے بعد ہاسپٹل کے باہر اہل خانہ کے ہنگامے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو پُرسکون کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
Bihar
تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندوی،تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی
(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت بدلتے ہوئے حالات نے ملت کے سامنے جتنے مسائل و مشکلات کھڑے کر دئیے ہیں قریب کی تاریخوں میں اس کی نظیر کم ملتی ہے ،بات صرف شہریت کے تحفظ و بقاء کی نہیں ؛بلکہ ایمان اور ایمان کے بنیادی تقاضوں پر عمل اور ایمانی شناخت کی حفاظت بھی سنگین خطرات کے گھیرے میں ہے ، دن کے اجالے میں جس طرح دستور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے وہ ہر حساس صاحب ایمان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔
حالات کی تفصیلات آپ حضرات سے مخفی نہی ہیں ،کیا ایسی صورت حال میں باعزت ،باضمیر اور مومنانہ شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے فکرمند ہونا ہم سب کی ذمہ داری نہیں ہے ؟مشکلات سے گھبرانا اور حالات کے سامنے بلا سوچے سمجھے سرنگوں ہو جانا نہ ایمان کا تقاضہ ہے اور نہ انصاف کا ،ضرورت ہے کہ ملک کے دستور و آئین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم کو آگے بڑھایا جائے اور حوصلہ مندی کے ساتھ حسن تدبیر کو کام میں لایا جائے ،حالات سے مایوسی اگر کفر ہے تو خوف و ہراس میں مبتلا ہونا بھی ایمان کے منافی ہے ،امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف ،پٹنہ نے ہمیشہ ایسے مواقع پر مختلف پہلوؤں سے ملت کو بیدار رکھنے اور ملی وجود کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کے سلسلہ میں عملی کردار نبھایا ہے ،آج بھی مختلف تدبیروں کو رو بہ عمل لانے کے ساتھ امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ کلمہ گو افراد نظم و اتحاد کی ایسی راہ اختیار کریں جس سے نہ صرف اندرونی استحکام حاصل ہو ؛بلکہ اس کے ذریعہ مسائل و مشکلات حل ہو سکیں ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمی قوت سے ہی مسائل ومشکلات حل ہوئے ہیں اور آج بھی اسی راہ سے مشکلات کے حل کی امید کی جا سکتی ہے ،امارت شرعیہ کے تحت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال چاروں صوبوں کی اکثر مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت قائم ہے ،ضرورت تھی کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کو ان چاروں صوبوں میں گاؤں سے لے کر پنچایت ،پنچایت سے لے کر بلاک اور بلاک سے لے کر ضلع کی سطح پر تنظیمی کڑی کے ذریعہ منظم کیا جائے،چنانچہ اس تنظیمی کڑی کو مکمل کرنے کا کام جاری ہے ،ضلع شیوہر میں ضلع کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی کے لئے منعقد یہ میٹنگ در اصل اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر کے وسیع جامع مسجد میں منعقد تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیو ہر کے عہدہ داران و ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی گفتگو میں کیا۔
واضح رہے مورخہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۶ ء کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے تقسیم اسناد اور تفویض اختیارات کے عنوان سے تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کی باوقار تقریب اور شاندار میٹنگ منعقد ہوئی ،ضلع تنظیم شیوہر میں مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) افراد کو شامل کیا گیا ہے ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ دران و ذمہ داران کو محترم نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ،مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم اور قاضی شریعت شیوہر مولانا فخرالدین قاسمی کے ہاتھوں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری عہدے کی سند دی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر سپرد کی گئی ۔جناب ماسٹر فخرالحسن صاحب ڈومری شیوہر کو بحیثیت صدر اور جناب مولانا مفتی اعجاز احمد قاسمی صاحب سوگیا کو بحیثیت سکریٹری سند سے نوازا گیا۔ایسے تمام اضلاع جہاں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل یا تجدید کی ضرورت ہے اسے پورا کیا جا رہا ہے اور ان اضلاع میں بھی اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد کی تیاری جاری ہے ،حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ بھی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور ان کی منشاء ہے کہ ہر ضلع میں ایسے متحرک افراد کی ٹیم تیار ہو جو ہر وقت ملی خدمت کے لئے مستعد و تیار رہے ،اس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولاناقمر انیس قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی سو سالہ روشن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے فکری اور عملی رہنمائی ملت کو حاصل رہی ہے ،انہوں نے امارت شرعیہ کی فکر اور اس کی تحریکی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ،قاضی شریعت جناب مولانا فخرالدین قاسمی صاحب نے میٹنگ کی نظامت کی اور افتتاحی خطاب کیا،میٹنگ کا آغاز مفتی فیاض قاسمی کی تلاوت سے ہوا ،نعت پاک مولانا جلال الدین ندوی نے پیش کی ،نومنتخب صدر ماسٹر فخرالحسن صاحب نے اپنے تأثرات کے اظہار کے ساتھ شکریہ کے کلمات کہے ، مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری اور مولانا احمد حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ نے قاضی صاحب کے تعاون سے میٹنگ کو کامیاب بنایا ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ داران و ارکان نے حضرت امیر شریعت کی ہدایات اور مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے سلسلے میں مضبوط عزم کا اظہار کیا ۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
