Connect with us

دلی این سی آر

مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی زندہ روایت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی ایک اہم اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔
یہ محض شعری کلام سنانے کی محفل نہیں بلکہ ادب، فکر، تخلیق اور اظہارِ احساسات کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ مشاعرے کے ذریعے شعراء اپنے خیالات، جذبات اور مشاہدات کو سامعین تک پہنچاتے ہیں، جبکہ سامعین کو مختلف ادبی و فکری جہات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔اردو اکادمی، دہلی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وقتاً فوقتاً مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک منفرد اور خوش آئند پیش رفت کے طور پر اردو اکادمی، دہلی نے اس بار ایک بالکل نئے اور اچھوتے موضوع ’’صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام‘‘ کا انتخاب کیا۔ دہلی حکومت کے محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ خصوصی ادبی و شعری نشست قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، طلبا اور اردو زبان و ادب کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی جناب شکیل حسن شمسی نے فرمائی۔
جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب معین شاداب نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دیے۔ انھوں نے پوری نشست کو ابتدا سے انتہا تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مربوط اور پُراثر بنائے رکھا۔پروگرام کا آغاز نہایت پُروقار انداز میں ہوا۔ صدرِ مشاعرہ، ناظمِ مشاعرہ اور تمام شعرائے کرام نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے محفل کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس کے بعد اردو اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے صدرِ مشاعرہ کو پودا پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
تقریب کے آغاز میں اردو کے نامور شاعر جناب بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی گراں قدر ادبی خدمات کو ان کی منتخب شاعری کے حوالے سے یاد کیا گیا۔
مشاعرے کی افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے اردو اور ہندی صحافت و ادب کی مشترکہ اور تابناک روایت پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں زبانوں کی ادبی صحافت کے اس حسین امتزاج کو ایک ایسے طلوع ہوتے سورج سے تشبیہ دی جس کی روشنی میں سچائی کو زیادہ واضح انداز میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اردو اکادمی، دہلی کی علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی کی یہ کاوشیں نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ملک کی دیگر ادبی و ثقافتی اکادمیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ناظمِ مشاعرہ معین شاداب نے اپنے خطاب میں صحافت اور شاعری کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے صحافت کو ’’عجلت میں لکھا ہوا ادب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور ادب کا رشتہ ہمیشہ سے مضبوط اور ناگزیر رہا ہے۔ بالخصوص اردو صحافت کی روایت میں صحافی اپنے اخبار یا ادارے کے نظریے اور موقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے شاعری سے بھرپور استفادہ کرتا رہا ہے، جس کے باعث صحافت اور شاعری ایک دوسرے کی معاون اور ہم سفر بن گئی ہیں۔
اس موقع پر دہلی کے ممتاز صحافی شعراء نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں شکیل حسن شمسی، سلیم شیرازی، تحسین منور، معین شاداب، ڈاکٹر شفیع ایوب، خصال مہدی، ارشد ندیم، ضمیر ہاشمی، امیر امروہوی، ڈاکٹر فرمان چودھری، نعیم ہندوستانی، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی، رامش رؤف،،ڈاکٹر منورحسن کمال، انجم جعفری اور مبارک قاسمی وغیرہ نے شرکت کی اور اپنے کلام میں عصری مسائل، انسانی اقدار، سماجی رویّوں اور صحافتی تجربات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے دہلی حکومت کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سرپرستی، تعاون اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کے نتیجے میں ایسے معیاری ادبی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو پا رہا ہے۔ انہوں نے مشاعرے میں شریک تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، دانشوروں، طلبا اور سامعین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی بھرپور شرکت نے اس ادبی نشست کو یادگار اور کامیاب بنا دیا۔

دلی این سی آر

اوڈیشہ میں قبائلیوں سے زبردستی چھینی گئی950ایکڑ زمین :سنجے سنگھ

Published

on

نئی دہلی، 5 اگست: عام آدمی پارٹی نے اوڈیشہ کے ضلع سندر گڑھ میں قبائلیوں کی 950 ایکڑ زمین حاصل کرکے ڈالمیہ سیمنٹ کو دینے کے معاملے پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پیسا ایکٹ (PESA Act) کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈالمیہ سیمنٹ کی توسیع کے لیے قبائلی برادری سے 950 ایکڑ زمین زبردستی چھین لی ہے۔ پیسا ایکٹ کے مطابق قبائلی زمین کے حصول سے پہلے متعلقہ گرام پنچایتوں کی منظوری لازمی ہے، لیکن حکومت نے کوئی منظوری نہیں لی اور پولیس کے بل بوتے پر پانچ گرام پنچایتوں کے 12 دیہات کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مودی حکومت دلتوں، قبائلیوں اور محروم طبقات سے نفرت کرتی ہے۔ غریبوں اور قبائلیوں سے زمین چھین کر اپنے سرمایہ دار دوستوں کو دینا ہی ان کا واحد مقصد بن چکا ہے۔بدھ کے روز عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پورے ملک میں کسانوں، قبائلیوں، دلتوں اور محروم طبقات کی زمینیں مناسب معاوضے کے بغیر زبردستی حاصل کرنا اور پولیس کے ذریعے انہیں بے دخل کرنا بی جے پی اور مودی حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔ جہاں بھی بی جے پی کی ڈبل انجن یا سنگل انجن حکومت ہے، وہاں اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح سرمایہ داروں کے لیے زمین پر قبضہ کرایا جائے، خواہ اس کے لیے گولی چلانی پڑے یا لاٹھی۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ایک روپے کے عوض دس لاکھ آم اور لیچی کے درختوں سمیت ہزاروں ایکڑ زمین اڈانی گروپ کو دے دی گئی تھی۔ اسی طرح اب اوڈیشہ کے ضلع سندر گڑھ میں ڈالمیہ سیمنٹ کی توسیع کے لیے تقریباً 950 ایکڑ قبائلی زمین زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ قانون اور قواعد کے مطابق پنچایت اور قبائلی برادری کی منظوری کے بغیر ان کی زمین نہ حاصل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سندر گڑھ میں پانچ پنچایتوں اور تقریباً 11 سے 12 دیہات کے لوگوں سے کوئی منظوری نہیں لی گئی اور لاٹھی اور پولیس کے زور پر ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے اور انہوں نے اسے پارلیمنٹ میں اٹھانے کے لیے نوٹس بھی دیا ہے۔ مودی حکومت دلتوں، قبائلیوں اور غریبوں کی مخالف ہے۔ انہوں نے اوڈیشہ کی بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم اور ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس غیر قانونی زمین حصولی کو فوراً روکا جائے۔ اس موقع پر سندر گڑھ کے زمین مالک راکیش روشن نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ، ہمارے ضلع سندر گڑھ سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر برائے قبائلی امور، حتیٰ کہ ملک کی صدر بھی قبائلی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن اس کے باوجود قبائلیوں کی زمینیں چھیننے سے نہیں بچائی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 950 ایکڑ سے زائد زمین ہماری معلومات اور رضامندی کے بغیر کم کر دی گئی۔ جب ہم دھان فروخت کرنے گئے تو معلوم ہوا کہ ہماری زمین کا رقبہ کم ہو چکا ہے۔ ہماری یہ جدوجہد 2018 سے جاری ہے۔ ہم نے احتجاج کیے، پیدل مارچ نکالا اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا، لیکن ہمارے لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ راکیش روشن نے کہا کہ جب پولیس کی موجودگی میں زبردستی زمین حاصل کی گئی تو ہمارے کھیتوں میں مسور اور اُڑد کی فصلیں کھڑی تھیں، جنہیں بلڈوزر چلا کر تباہ کر دیا گیا اور تقریباً 202 فٹ گہرے گڑھے کھود دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 27 ایکڑ زمین پر اب پتھر نکالنے کی کان کنی جاری ہے۔ سی اے جی اور آر ڈی سی کی رپورٹوں میں بھی کہا گیا ہے کہ گرام سبھا کی منظوری نہیں لی گئی۔ گرام سبھا نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ ایک انچ زمین بھی نہیں دے گی، کیونکہ ڈالمیہ سیمنٹ پہلے ہی چار مرتبہ ہماری زمین لے چکا ہے۔ مستقبل کی نسلوں کے لیے ہمارے پاس بمشکل چند ایکڑ زمین باقی رہ گئی ہے۔ قبائلی ہونے کے ناطے زمین ہی ہماری شناخت اور ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اوڈیشہ ریاستی صدر نشی کانت موہاپاترا نے کہا کہ اوڈیشہ میں قبائلی وزیر اعلیٰ، مرکز میں قبائلی وزیر اور بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت ہونے کے باوجود ضلع سندر گڑھ میں قبائلیوں کی زمین ہڑپنے کا کھیل جاری ہے۔ دن میں گرام سبھا منعقد کرنے کے بجائے رات کے اندھیرے میں پولیس بھیج کر کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور لوگوں پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا علاقہ پیسا ایکٹ کے تحت درج فہرست علاقوں میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے زبردستی زمینیں ہتھیائی جا رہی ہیں، جس سے تقریباً دس ہزار افراد کے روزگار پر سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی قبائلیوں کی اس جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے اور مضبوطی کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ عوام کی رضامندی کے بغیر جاری اس زبردستی زمین حصولی کو فوری طور پر بند کیا جائے، لوگوں کی بات سنی جائے اور اس سیاہ حکم نامے کو واپس لیا جائے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

بی جے پی کا ہر انجن بدعنوان:کلدیپ کمار

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی نے ایم سی ڈی کے ٹول ٹیکس ٹینڈر میں 680 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ گھوٹالے کے انکشاف پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی چار انجنوں والی حکومت ہے اور اس کا ہر انجن بدعنوانی میں ملوث ہے۔ ایک انجن نے دواؤں اور سائیکل خریداری میں گھوٹالہ کیا، جبکہ دوسرے انجن نے ایم سی ڈی کے ٹول ٹینڈر میں 680 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ گھوٹالے کو انجام دینے کے لیے بی جے پی کے زیر انتظام ایم سی ڈی نے پہلے اسٹینڈنگ کمیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے 5500 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری کیا، پھر ایک بلیک لسٹڈ کمپنی کو محض 4820 کروڑ روپے میں ٹھیکہ دے دیا، جبکہ 5500 کروڑ روپے کی سب سے زیادہ بولی لگانے والی کمپنی کو ٹیکنیکل بِڈ کا بہانہ بنا کر باہر کر دیا گیا۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔بدھ کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کونڈلی سے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ گزشتہ 19 برسوں میں بی جے پی نے ایم سی ڈی کو ملک کے سب سے بدعنوان اداروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ دواؤں اور طالبات کی سائیکل خریداری میں مبینہ گھوٹالوں کے بعد اب ایم سی ڈی کے ٹول ٹیکس ٹینڈر میں بھی ایک بڑا مالی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم سی ڈی کے پاس نہ کچرا اٹھانے کے لیے رقم ہے اور نہ ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لیے، لیکن بڑے ٹھیکیداروں پر مہربانیاں جاری ہیں۔ دہلی میں ٹول کلیکشن سے حاصل ہونے والی آمدنی ایم سی ڈی کے پاس جاتی ہے۔ 5 جون 2026 کو ایم سی ڈی نے 5500 کروڑ روپے کا ٹول کلیکشن ٹینڈر جاری کیا، لیکن ضابطوں کے برخلاف اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری نہیں لی گئی، حالانکہ پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے کسی بھی معاملے کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ ٹینڈر جاری ہونے کے بعد اس میں ایسی شرائط شامل کی گئیں جن سے بی جے پی کی پسندیدہ کمپنی کو فائدہ پہنچایا جا سکے اور مبینہ طور پر کک بیک حاصل کیا جا سکے۔ شرط رکھی گئی کہ کمپنی کے پاس 122 لین کا سنگل کنٹریکٹ اور 24 ماہ کا تجربہ ہونا چاہیے۔ اس ٹینڈر میں سب سے زیادہ بولی شری سائی انٹرپرائزز نے 5500 کروڑ روپے کی دی تھی، لیکن ایم سی ڈی نے اسے ٹیکنیکل بِڈ کے نام پر باہر کر دیا اور یہ ٹھیکہ سہکار گلوبل لمیٹڈ کو 4820 کروڑ روپے میں دے دیا۔ اس طرح 680 کروڑ روپے کا براہِ راست نقصان ایم سی ڈی کو پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا صرف ایک بدعنوان حکومت ہی کر سکتی ہے۔ کلدیپ کمار نے مزید کہا کہ یہی سہکار گلوبل کمپنی گزشتہ پانچ برسوں سے ایم سی ڈی کا ٹول کلیکشن سنبھال رہی ہے۔ ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے 21 جولائی 2026 کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ پسندیدہ کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایم سی ڈی کے ریونیو کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کمپنی نقد رقم میں ٹول وصول کر کے ایم سی ڈی کو نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ اب یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کمپنی کے خلاف شاہجہاں پور میں ایف آئی آر درج ہوئی، جس کی بنیاد پر 19 جولائی 2026 کو نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے اسے بلیک لسٹ اور ڈی بار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کمیشن خوری ہوتی ہے تو اس کا حصہ نیچے سے اوپر تک، یعنی میئر سے لے کر وزیر اعلیٰ تک تقسیم ہوتا ہے۔ بی جے پی کو جواب دینا چاہیے کہ جس کمپنی کو این ایچ اے آئی نے بلیک لسٹ کر دیا، اسے ایم سی ڈی کا ٹینڈر کیوں دیا گیا؟ ہماری مانگ ہے کہ اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور سی بی آئی کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس بلیک لسٹڈ کمپنی کو ٹینڈر دے کر ایم سی ڈی کے ریونیو کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ایم سی ڈی کے شریک انچارج پروین کمار نے کہا کہ جب ایم سی ڈی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو صحت مند مسابقت کو فروغ دینے کے لیے 122 لین کے سنگل کنٹریکٹ اور دو سالہ شرط کو ختم کر دیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں بولی میں حصہ لیں اور ایم سی ڈی کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن بی جے پی حکومت نے دوبارہ یہی شرط شامل کر دی۔ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ گیا تھا تو خود ایم سی ڈی نے بھی کہا تھا کہ صحت مند مقابلے کے لیے اس شرط کو ہٹایا جانا چاہیے، لیکن بی جے پی کے دباؤ اور مبینہ مالی مفادات کے باعث جان بوجھ کر یہ شرط شامل کی گئی تاکہ گزشتہ پانچ برس سے ٹول پلازہ چلا رہی سہکار گلوبل اور اس کی معاون کمپنی ٹیکسیڈیل کو ہی ٹینڈر مل سکے۔ پروین کمار نے بتایا کہ ٹینڈر میں ساتویں نمبر پر ایک نیگوشی ایشن کلاز بھی موجود تھا، جس کے تحت اگر کوئی زیادہ بولی لگانے والا امیدوار سامنے آئے تو ایم سی ڈی ٹینڈر جیتنے والی کمپنی سے مزید بہتر مالی پیشکش پر بات چیت کر سکتی تھی، لیکن اس شق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا اور سہکار گلوبل سے کسی قسم کی گفت و شنید کیے بغیر اسے ٹینڈر دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹینڈر کو اس قدر عجلت میں منظور کیا گیا کہ جس روز اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخابات ہو رہے تھے اور ستیہ شرما کو چیئرمین منتخب کر کے مبارک باد دی جا رہی تھی، اسی دن اس مبینہ گھوٹالے پر مہر لگا دی گئی۔ اسی روز لیٹر آف انٹینٹ (LOI) جاری کر دیا گیا اور اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کے نوٹس میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا۔ اگلے ہی دن صبح 6 بجے کام حوالے کر دیا گیا، جس سے پوری کارروائی پر سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہجہاں پور میں نقد رقم میں ٹول وصولی کے معاملے پر این ایچ اے آئی پہلے ہی سہکار گلوبل اور ٹیکسیڈیل کو بلیک لسٹ اور ڈی بار کر چکی ہے، اس کے باوجود دہلی میں بی جے پی کی چار انجنوں والی حکومت اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا آخر اسی کمپنی کو بار بار ٹینڈر کیوں دے رہی ہیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم سی ڈی میں ایک بڑا گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کر کے دوبارہ اوپن ٹینڈر جاری کیا جائے اور 5500 کروڑ روپے کے اس معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قصورواروں کو سزا مل سکے۔ ایم سی ڈی کی شریک انچارج پریتی ڈوگرا نے کہا کہ بی جے پی نے 680 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالے سے ثابت کر دیا ہے کہ اس نے ایم سی ڈی میں توڑ پھوڑ اور کونسلروں کی خرید و فروخت کے ذریعے اقتدار کیوں حاصل کیا تھا۔ ان کا مقصد صرف دہلی کو لوٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ آئندہ عوام انہیں اقتدار سے باہر کر دیں گے، اس لیے وہ جانے سے پہلے ایم سی ڈی اور دہلی حکومت کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ستیہ شرما اور بی جے پی وضاحت کریں کہ جس کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج ہے اور جسے این ایچ اے آئی مسترد کر چکی ہے، اسے ٹینڈر دینے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔پریتی ڈوگرا نے کہا کہ آج ایم سی ڈی خود قرض میں ڈوبی ہوئی ہے اور ملازمین کی تنخواہیں دینے تک کے وسائل نہیں ہیں۔ ایسے میں جب بہتر ریونیو حاصل کیا جا سکتا تھا تو ایک بلیک لسٹڈ کمپنی کو ٹینڈر دے کر ادارے کو نقصان کیوں پہنچایا گیا؟ عام آدمی پارٹی اور دہلی کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ بی جے پی اپنی مبینہ بدعنوانیوں کا سلسلہ بند کرے۔ سائیکل گھوٹالہ، دواؤں کا گھوٹالہ اور اب ٹول ٹینڈر گھوٹالہ، یہ سب عوامی مفادات کے خلاف ہیں، اس لیے اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔ ایم سی ڈی کونسلر راجیو چودھری نے کہا کہ ایک کونسلر کو ایک سال میں ایک کروڑ روپے کا ترقیاتی فنڈ ملنا چاہیے، لیکن گزشتہ چار برسوں میں مجموعی طور پر صرف 90 لاکھ روپے ہی فراہم کیے گئے۔ جب فنڈ نہ ملنے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ ایم سی ڈی کے پاس رقم نہیں ہے، جبکہ صرف ایک ٹینڈر میں ہی 680 کروڑ روپے کے مبینہ نقصان کی بات سامنے آ رہی ہے۔ راجیو چودھری نے مزید کہا کہ ایم سی ڈی ہر سال اس طرح کے متعدد ورک آرڈر جاری کرتی ہے۔ حال ہی میں کچرا اٹھانے والی کمپنی بھی تبدیل کی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے میں بھی مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ایک کمپنی 5500 کروڑ روپے کی بولی دے رہی تھی تو اسے چھوڑ کر 4820 کروڑ روپے کی بولی والی کمپنی کو ٹینڈر کیوں دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اس مبینہ بدعنوانی کے روابط بی جے پی کے میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 25 سے 30 برسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کو مسلسل دوسرے سال بھی اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہو، لیکن اس سال ایسا کیا گیا، جو ان کے بقول اسی بدعنوانی کا انعام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی سی بی آئی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام ذمہ دار افراد کے نام منظر عام پر لائے جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عوامی فنڈ میں بدعنوانی کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں کاروبار آسان بنانے کیلئے ریکھا سرکار کا نیا بل

Published

on

نئی دہلی :ریکھا گپتا حکومت نے دہلی میں کاروباریوں کے لیے “Delhi Ease of Doing Business بل، 2026متعارف کرایا ہے۔ اس میں تین سال کے لیے “خود سرٹیفیکیشن” اور “معمولی معائنہ نہیں” جیسی دفعات شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد ایک ایسا نظام نافذ کرنا ہے جہاں تاجروں اور سرمایہ کاروں کو لائسنس اور این او سی کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ اس سے دہلی میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی، ایک جدید، شفاف نظام قائم ہوگا، اور ڈیمڈ منظوریوں اور سنگل ونڈو سسٹم کو نافذ کیا جائے گا۔
ریکھا گپتا کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں “دہلی ایز آف ڈوئنگ بزنس بل، 2026کے مسودے پر غور کیا گیا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد جامع اصلاحات کو نافذ کرنا ہے تاکہ دہلی کو ملک میں ایک انٹرپرائز قائم کرنے اور چلانے کے لیے سب سے آسان جگہ بنایا جا سکے۔ یہ کاروبار کو شروع کرنے اور چلانے سے وابستہ موجودہ پیچیدہ عمل کو آسان، آسان، شفاف طریقے سے اور آسان بنائے گا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد ایک ایسی انتظامیہ قائم کرنا ہے جہاں کاروباری اور سرمایہ کار اپنا وقت سرکاری دفاتر کے ارد گرد نہ بھاگنے کے بجائے اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے پر صرف کریں۔ حکومت ایک ایسا نظام تیار کر رہی ہے جو منظوریوں کو آسان بناتا ہے، واضح عمل فراہم کرتا ہے، بروقت فیصلوں کو یقینی بناتا ہے، اور تعمیل کی غیر ضروری رکاوٹوں کو ختم کرتا ہے۔ اس سے دہلی میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی، صنعتوں کو وسعت ملے گی اور روزگار کے اہم مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ مجوزہ قانون حکومت ہند کے تعمیل میں کمی اور ڈی ریگولیشن انیشی ایٹو (فیز-II) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ یہ پبلک ٹرسٹ بل 2023 کی روح کے مطابق ہے۔ دہلی حکومت بھی صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک جدید، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ نظام تیار کرنے کی سمت یہ اہم قدم اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت کاروبار سے متعلق مختلف منظوریوں، رجسٹریشن، لائسنس، این او سی اور دیگر اجازتوں کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لیے، ایک سنگل ونڈو سسٹم قائم کیا جائے گا، جس سے زیادہ تر کاروباری خدمات ایک ہی آن لائن پورٹل پر دستیاب ہوں گی۔ خدمات بشمول عمارت کی منظوری، فیکٹری لائسنس، فائر کلیئرنس، پانی، گٹر، اور بجلی کے کنکشن، RERA رجسٹریشن، اور کوآپریٹو سوسائٹی رجسٹریشن سبھی اس پورٹل کے ذریعے ایک مقررہ وقت کے اندر فراہم کی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی اسٹیٹ انڈسٹریل اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ڈی ایس آئی آئی ڈی سی) اس پورے نظام کو چلانے کی ذمہ دار ہوگی۔ یہ ایجنسی واحد نوڈل ایجنسی ہوگی جو درخواستوں کی وصولی سے لے کر حتمی منظوری تک پورے عمل کی ذمہ دار ہوگی، اور تمام متعلقہ محکموں اور شہری ایجنسیوں کے ساتھ تال میل قائم کرے گی۔ اس قانون کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک “ڈیمڈ منظوری” کی فراہمی ہوگی۔ اگر کوئی مجاز اتھارٹی مقررہ مدت کے اندر کسی درخواست پر فیصلہ کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو متعلقہ منظوری، رجسٹریشن، یا NOC خود بخود دی گئی سمجھی جائے گی، اور درخواست دہندہ اسے براہ راست آن لائن پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کر سکے گا۔ اس سے فائلوں کے غیر ضروری بیک لاگز اور فیصلہ سازی میں تاخیر ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کم خطرے والی سرگرمیوں کے لیے سیلف سرٹیفیکیشن سسٹم لاگو کیا جائے گا۔ نامزد زمروں کے تحت، طریقہ کار جیسے فائر سیفٹی، بلڈنگ پلان کی منظوری، آلودگی کی منظوری، اور کم تناؤ والے بجلی کے کنکشن خود اعلان کی بنیاد پر مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے چھوٹے، کم خطرہ اور کم خطرہ والے کاروباری اداروں کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر کام شروع کرنے میں مدد ملے گی۔ GST، FSSAI، MSMED ایکٹ، یا لیبر کوڈ کے تحت پہلے سے رجسٹرڈ انٹرپرائزز کو علیحدہ تجارتی لائسنس، ہیلتھ ٹریڈ لائسنس، کھانے کے گھر کے لائسنس، یا دکانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے رجسٹریشن حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے ایک ہی مقصد کے لیے متعدد لائسنس حاصل کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور کاروباری اداروں پر تعمیل کا بوجھ کم ہو جائے گا۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ عام حالات میں نئی ​​رجسٹریشن کے بعد تین سال تک باقاعدہ معائنہ نہیں کیا جائے گا۔ معائنہ صرف اس صورت میں کیا جائے گا جب سنگین نوعیت کی شکایت موصول ہوگی۔ اس سے صنعتوں میں غیر ضروری رکاوٹوں سے بچا جا سکے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network