Connect with us

دیش

ادبی نشست اپنے منفرد انداز کے سبب بن گئی توجہ کا مرکز

Published

on

(پی این این)
مالیگاؤں: اردو شہر مالیگاؤں ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ’’کافی ہاؤس و شعور سرائے‘‘ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ’’ادبی بیٹھک‘‘ نے اس روایت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اپنی انفرادیت، فکری گہرائی اور تخلیقی فضا کے باعث یہ نشستیں نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پورے ہندوستان کے ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔
ادبی بیٹھک نمبر 03 گرما کی ایک خاموش مگر ستاروں سے سجی رات میں رفیع احمد قدوائی روڈ، اسکول نمبر 1 کے احاطے میں منعقد ہوئی۔ رات دس بجے سے شروع ہونے والی یہ محفل ڈیڑھ بجے تک جاری رہی، مگر حاضرین کو وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں بھی ادب کے سحر میں گم ہو گئی ہیں۔ نشست کی صدارت ادب، فلسفہ، آرٹ اور انسانی نفسیات کے گہرے شناسا عمران سر چوپڑا نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض احمد نعیم (موت ڈاٹ کام، مالیگاؤں بھارت) نے اپنے مخصوص دلکش اور بے ساختہ انداز میں انجام دیے۔ محفل میں جدید اردو شاعری کے عظیم شاعر بشیر بدر کو بھی بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس نشست کا آغاز ہی اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ کافی ہاؤس و شعور سرائے کی روایت کے مطابق احمد نعیم نے تمام شرکاء میں ماچس تقسیم کی۔ یہ محض ایک ماچس نہیں تھی بلکہ تاریکی سے روشنی، جمود سے شعور اور بے حسی سے آگہی کی جانب سفر کی علامت تھی۔ جب تمام حاضرین نے اپنی اپنی تیلی روشن کی اور گوتم بدھ کے معروف قول ’’اپّو دیپو بھو‘‘ (اپنا چراغ خود بنو) کی صدا فضا میں گونجی تو یوں محسوس ہوا جیسے لفظوں، خیالوں اور خوابوں کا ایک عظیم کارواں روشنی کی سمت روانہ ہو چکا ہو۔ ڈاکٹر مختار انصاری نے اپنا افسانہ ’’پسِ دیوار‘‘ پیش کیا۔ افسانے پر ہونے والی سنجیدہ تنقیدی گفتگو نے محفل کے فکری معیار کو مزید بلند کر دیا۔ نعیم صدیقی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افسانے میں دیوار کے اُس پار کے اندھیرے کی شدت پوری طرح سامنے نہیں آسکی اور عنوان کے بعض تقاضے تشنہ رہ گئے۔ معروف شاعر متین شہزاد نے اپنی دو دلنشیں غزلیں سنائیں۔ رومان اختر نے ان کی شاعری کو تازگی اور انفرادیت کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت کم کہتے ہیں۔ حاضرین کی متفقہ رائے تھی کہ متین شہزاد کے اشعار محض سنے نہیں جاتے بلکہ آنکھوں کے سامنے تصویروں کی طرح ابھر آتے ہیں۔اسکیچ آرٹسٹ علی عمران نے مختصر کہانی ’’بچہ چور‘‘ پیش کی۔ کہانی پر ہونے والی گفتگو نے معاشرتی نفسیات، خوف اور اجتماعی بداعتمادی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
مختلف ناقدین نے کہانی کے فنی اور فکری پہلوؤں پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔ابھرتے ہوئے شاعر صدیق اکبر نے نئی لفظیات اور تازہ استعاروں سے مزین دو غزلیں پیش کیں۔ نوجوان شاعر کی تخلیقی جستجو اور فکری تازگی نے سامعین کو متاثر کیا۔ حاضرین نے ان کے روشن ادبی مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔افسانوی مجموعہ ’’ادھوری تخلیق‘‘ کے مصنف عظمت اقبال نے اپنا افسانہ ’’کمینے کہیں کے‘‘ پیش کیا۔ افسانے میں انسانی نفسیات کے حیران کن اور بعض اوقات تاریک گوشوں کو بے نقاب کیا گیا۔ شرکاء نے اسے جدید معاشرتی رویوں کی ایک مؤثر عکاسی قرار دیا۔ممبئی سے تشریف لائے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجتبیٰ زید نے اپنا وجودی افسانہ ’’سستی موت‘‘ سنایا۔ افسانے کی فنی ساخت اور بیانیہ اس قدر مضبوط تھا کہ سامعین مکمل انہماک کے ساتھ اس کے سحر میں ڈوبے رہے۔ احمد نعیم نے بجا طور پر کہا کہ مجتبیٰ زید اپنے فکشن کے اجزاء کو اس مہارت سے ترتیب دیتے ہیں کہ پوری تخلیق ایک مکمل فن پارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے اپنی طویل غزل اور نظم پیش کی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی گونج، قومی شعور کی حرارت اور شعری وقار نمایاں تھا۔ اسی طرح شہروز خاور اور اسرار انصاری نے بھی اپنی غزلوں کے ذریعے محفل کو شعری رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ممبئی سے آئے محقق اور افسانہ نگار ڈاکٹر عمران امین نے اپنا علامتی افسانہ ’’فطرت‘‘ پیش کیا۔ ایک بھکارن کے کردار کے ذریعے انسانی حرص اور لالچ کی نفسیات کو جس فنی مہارت سے پیش کیا گیا، اس نے حاضرین کو دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا۔رات جب اپنے تیسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی، ہوا میں خنکی گھلنے لگی تھی اور الاؤ کی لپٹیں خاموشی سے رقص کر رہی تھیں، تب رومان اختر نے اپنی مسحور کن غزل سنائی۔ ان کے اشعار میں فکر، جمال اور تخلیقی جرات کا ایسا امتزاج تھا کہ محفل دیر تک ان کے سحر میں گرفتار رہی۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ ان کا اسلوب اپنی نوعیت میں منفرد ہے اور موجودہ ہندوستانی شعری منظرنامے میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔اس ادبی الاؤ کے گرد منتظم عاصی (اردو ولا)، عباس عرش، علیم طاہر، خالد قریشی، عاکف نبیل، مدثر نذر، ابرار احمد اور رضوان ربانی سمیت متعدد اہلِ ذوق پوری دلجمعی اور محبت کے ساتھ شریک رہے۔ ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ مالیگاؤں میں ادب ابھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور نئی نسل کے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔اختتامی خطاب میں صدرِ نشست عمران سر چوپڑا نے ادب، فلسفہ، آرٹ اور وجودیت پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس محفل نے انہیں اپنے عہد کی ان یادگار ادبی نشستوں کی یاد دلا دی جہاں ادب محض تفریح نہیں بلکہ شعور، فکر اور انسان دوستی کا وسیلہ ہوتا تھا۔ بعض تخلیقات میں انہیں اپنے زمانے کے ممتاز ادیبوں کی جھلک دکھائی دی اور یوں سلطان سبحانی اور بلراج مینرا جیسے ناموں کی یاد تازہ ہوگئی۔بالآخر رات ڈیڑھ بجے یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اس کے چراغ بجھے نہیں۔ الاؤ کی راکھ میں ابھی بھی حرارت باقی تھی اور حاضرین کے دلوں میں لفظوں کی روشنی دیر تک جلتی رہی۔ اختتام پر کتھا کے یہ معنی خیز الفاظ فضا میں گونجے “بیتال گیا بن میں، کہانی گئی من میں۔‘‘سامعین نے کافی ہاؤس و شعور سرائے اور تمام منتظمین خصوصاً خالد قریشی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس ادبی روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ محفل محض ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ اندھیروں کے عہد میں روشنی کا اعلان تھی؛ ایک ایسا چراغ جو یہ پیغام دے رہا تھا کہ جب تک لفظ زندہ ہیں، خواب زندہ ہیں، اور جب تک خواب زندہ ہیں، معاشرہ بھی زندہ ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

مدھیہ پردیش ،گجرات، یوپی ،بہار سمیت 16ریاستوں میں بھاری بارش

Published

on

بھوپال/جے پور/پٹنہ:ملک بھر میں زبردست بارش کا دور جاری ہے۔ مدھیہ پردیش گجرات، اترپردیش، بہار سمیت 16 ریاستوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ بستی مہاراشٹر، مراٹھاواڑہ، بیدر اور تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹے میں حد سے زیادہ بارش۔
دریں اثنا اتراکھنڈ میں ردپریا کے گوری کنڈ کے پاس لینڈ سلائڈنگ سے کیدار ناتھ یاترا تیسرے دن بھی بند رہی ۔ اس دوران کئی گھروں میں پتھروں کا ملبہ گھس گیا۔ اور نصف درجن گاڑیوں کے بہنے کی خبریں ہیں۔ کانوڑیوں کو بچانے کے لئے ایس ڈی آر ایف ٹیم لگی ہوئی ہے۔ آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب سو سے پار کرگئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے زیر آب ہیں۔ وہاں کے لوگ دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اگست تک آسام اور دوسری ریاستوں میں بھاری بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔آسام میں تنسکویا، بھیما جی ، لکھیم پور، شیو ساگر، جورہارٹ اور گولہ گھاٹ جیسے سرحدی اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گجرات میں دو دنوں کی بارش نے عام زندگی مفلوج کردی ہے یہاں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ وہاں کے 17 اضلع متاثر ہیں۔ یوپی ، بہار کے کئی اضلاع میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔

Continue Reading

دیش

سپریم کورٹ نے بھوج شالہ درگاہ میں نماز کی دی اجازت

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو متنازعہ بھوج شالہ احاطہ سے منسلک درگاہ کی زمین پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ مذہبی حقوق کی ادائیگی ہمارا فرض ہے۔ اسے سلب نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کل کی جمعہ کی نماز کے لئے بھوج شالہ احاطہ کے بغل میں زمین فراہم کی جائے۔کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فریق نے خسرہ نمبر596جسے درگاہ کی زمین بتایا گیا ہے وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔یہ جگہ متنازعہ احاطہ سے بالکل نزدیک ہے ۔
عدالتِ عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان مسلمانوں کو مذکورہ مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت یقینی بنائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم سے ریاستی حکومت اور مسلم فریق باہمی رضامندی سے جمعہ کی نماز کے لیے کسی متبادل مقام پر غور کرنے سے محروم نہیں ہوں گے۔ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کے لیے متنازع مقام سے متصل ایک علیحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔بعد ازاں حاجی منیر احمد کی قیادت میں مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا، کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے جو متبادل جگہ فراہم کی ہے وہ متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے۔مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ نماز کے لیے ایسی جگہ دی جانی چاہیے جہاں سے مسجد نظر آتی ہو، تاکہ نماز کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ دھار ضلع میں واقع متنازع بھوج شالا-کمال مولہ مسجد کمپلیکس دراصل دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کئی دہائیوں پرانے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔

Continue Reading

دیش

آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند

Published

on

گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس  گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network