دیش
ادبی نشست اپنے منفرد انداز کے سبب بن گئی توجہ کا مرکز
(پی این این)
مالیگاؤں: اردو شہر مالیگاؤں ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ’’کافی ہاؤس و شعور سرائے‘‘ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ’’ادبی بیٹھک‘‘ نے اس روایت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اپنی انفرادیت، فکری گہرائی اور تخلیقی فضا کے باعث یہ نشستیں نہ صرف مالیگاؤں بلکہ پورے ہندوستان کے ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔
ادبی بیٹھک نمبر 03 گرما کی ایک خاموش مگر ستاروں سے سجی رات میں رفیع احمد قدوائی روڈ، اسکول نمبر 1 کے احاطے میں منعقد ہوئی۔ رات دس بجے سے شروع ہونے والی یہ محفل ڈیڑھ بجے تک جاری رہی، مگر حاضرین کو وقت کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں بھی ادب کے سحر میں گم ہو گئی ہیں۔ نشست کی صدارت ادب، فلسفہ، آرٹ اور انسانی نفسیات کے گہرے شناسا عمران سر چوپڑا نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض احمد نعیم (موت ڈاٹ کام، مالیگاؤں بھارت) نے اپنے مخصوص دلکش اور بے ساختہ انداز میں انجام دیے۔ محفل میں جدید اردو شاعری کے عظیم شاعر بشیر بدر کو بھی بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس نشست کا آغاز ہی اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔ کافی ہاؤس و شعور سرائے کی روایت کے مطابق احمد نعیم نے تمام شرکاء میں ماچس تقسیم کی۔ یہ محض ایک ماچس نہیں تھی بلکہ تاریکی سے روشنی، جمود سے شعور اور بے حسی سے آگہی کی جانب سفر کی علامت تھی۔ جب تمام حاضرین نے اپنی اپنی تیلی روشن کی اور گوتم بدھ کے معروف قول ’’اپّو دیپو بھو‘‘ (اپنا چراغ خود بنو) کی صدا فضا میں گونجی تو یوں محسوس ہوا جیسے لفظوں، خیالوں اور خوابوں کا ایک عظیم کارواں روشنی کی سمت روانہ ہو چکا ہو۔ ڈاکٹر مختار انصاری نے اپنا افسانہ ’’پسِ دیوار‘‘ پیش کیا۔ افسانے پر ہونے والی سنجیدہ تنقیدی گفتگو نے محفل کے فکری معیار کو مزید بلند کر دیا۔ نعیم صدیقی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افسانے میں دیوار کے اُس پار کے اندھیرے کی شدت پوری طرح سامنے نہیں آسکی اور عنوان کے بعض تقاضے تشنہ رہ گئے۔ معروف شاعر متین شہزاد نے اپنی دو دلنشیں غزلیں سنائیں۔ رومان اختر نے ان کی شاعری کو تازگی اور انفرادیت کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت کم کہتے ہیں۔ حاضرین کی متفقہ رائے تھی کہ متین شہزاد کے اشعار محض سنے نہیں جاتے بلکہ آنکھوں کے سامنے تصویروں کی طرح ابھر آتے ہیں۔اسکیچ آرٹسٹ علی عمران نے مختصر کہانی ’’بچہ چور‘‘ پیش کی۔ کہانی پر ہونے والی گفتگو نے معاشرتی نفسیات، خوف اور اجتماعی بداعتمادی کے پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
مختلف ناقدین نے کہانی کے فنی اور فکری پہلوؤں پر مفصل اظہارِ خیال کیا۔ابھرتے ہوئے شاعر صدیق اکبر نے نئی لفظیات اور تازہ استعاروں سے مزین دو غزلیں پیش کیں۔ نوجوان شاعر کی تخلیقی جستجو اور فکری تازگی نے سامعین کو متاثر کیا۔ حاضرین نے ان کے روشن ادبی مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور بھرپور داد سے نوازا۔افسانوی مجموعہ ’’ادھوری تخلیق‘‘ کے مصنف عظمت اقبال نے اپنا افسانہ ’’کمینے کہیں کے‘‘ پیش کیا۔ افسانے میں انسانی نفسیات کے حیران کن اور بعض اوقات تاریک گوشوں کو بے نقاب کیا گیا۔ شرکاء نے اسے جدید معاشرتی رویوں کی ایک مؤثر عکاسی قرار دیا۔ممبئی سے تشریف لائے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجتبیٰ زید نے اپنا وجودی افسانہ ’’سستی موت‘‘ سنایا۔ افسانے کی فنی ساخت اور بیانیہ اس قدر مضبوط تھا کہ سامعین مکمل انہماک کے ساتھ اس کے سحر میں ڈوبے رہے۔ احمد نعیم نے بجا طور پر کہا کہ مجتبیٰ زید اپنے فکشن کے اجزاء کو اس مہارت سے ترتیب دیتے ہیں کہ پوری تخلیق ایک مکمل فن پارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے اپنی طویل غزل اور نظم پیش کی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی روایت کی گونج، قومی شعور کی حرارت اور شعری وقار نمایاں تھا۔ اسی طرح شہروز خاور اور اسرار انصاری نے بھی اپنی غزلوں کے ذریعے محفل کو شعری رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ممبئی سے آئے محقق اور افسانہ نگار ڈاکٹر عمران امین نے اپنا علامتی افسانہ ’’فطرت‘‘ پیش کیا۔ ایک بھکارن کے کردار کے ذریعے انسانی حرص اور لالچ کی نفسیات کو جس فنی مہارت سے پیش کیا گیا، اس نے حاضرین کو دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا۔رات جب اپنے تیسرے پہر میں داخل ہو چکی تھی، ہوا میں خنکی گھلنے لگی تھی اور الاؤ کی لپٹیں خاموشی سے رقص کر رہی تھیں، تب رومان اختر نے اپنی مسحور کن غزل سنائی۔ ان کے اشعار میں فکر، جمال اور تخلیقی جرات کا ایسا امتزاج تھا کہ محفل دیر تک ان کے سحر میں گرفتار رہی۔ حاضرین کا کہنا تھا کہ ان کا اسلوب اپنی نوعیت میں منفرد ہے اور موجودہ ہندوستانی شعری منظرنامے میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔اس ادبی الاؤ کے گرد منتظم عاصی (اردو ولا)، عباس عرش، علیم طاہر، خالد قریشی، عاکف نبیل، مدثر نذر، ابرار احمد اور رضوان ربانی سمیت متعدد اہلِ ذوق پوری دلجمعی اور محبت کے ساتھ شریک رہے۔ ان کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ مالیگاؤں میں ادب ابھی زندہ ہے، سانس لے رہا ہے اور نئی نسل کے دلوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔اختتامی خطاب میں صدرِ نشست عمران سر چوپڑا نے ادب، فلسفہ، آرٹ اور وجودیت پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس محفل نے انہیں اپنے عہد کی ان یادگار ادبی نشستوں کی یاد دلا دی جہاں ادب محض تفریح نہیں بلکہ شعور، فکر اور انسان دوستی کا وسیلہ ہوتا تھا۔ بعض تخلیقات میں انہیں اپنے زمانے کے ممتاز ادیبوں کی جھلک دکھائی دی اور یوں سلطان سبحانی اور بلراج مینرا جیسے ناموں کی یاد تازہ ہوگئی۔بالآخر رات ڈیڑھ بجے یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اس کے چراغ بجھے نہیں۔ الاؤ کی راکھ میں ابھی بھی حرارت باقی تھی اور حاضرین کے دلوں میں لفظوں کی روشنی دیر تک جلتی رہی۔ اختتام پر کتھا کے یہ معنی خیز الفاظ فضا میں گونجے “بیتال گیا بن میں، کہانی گئی من میں۔‘‘سامعین نے کافی ہاؤس و شعور سرائے اور تمام منتظمین خصوصاً خالد قریشی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس ادبی روایت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ محفل محض ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ اندھیروں کے عہد میں روشنی کا اعلان تھی؛ ایک ایسا چراغ جو یہ پیغام دے رہا تھا کہ جب تک لفظ زندہ ہیں، خواب زندہ ہیں، اور جب تک خواب زندہ ہیں، معاشرہ بھی زندہ ہے۔
دیش
اتراکھنڈ میں کتوں کی دہشت سے 10اسکول بند،600سے زائد بچوں کی ہورہی ہے آن لائن پڑھائی،ڈنڈے لیکر گھر سے نکلتے ہیں لوگ
دہرادون:اتراکھنڈ کے چمولی ضلع کے نارائن باگڈ علاقے میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کے پیش نظر طلباء کی حفاظت کو لے کر ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ علاقے میں کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر نارائن باگڈ کے 10 اسکولوں کو چار دنوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ چمولی کے چیف ایجوکیشن آفیسر آکاش سرسوت نے اس سلسلے میں حکم جاری کیا۔ حکم نامے کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں میں 20 اگست 2026 سے 23 اگست 2026 تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ طلبہ کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ آوارہ اور متشدد کتوں کی بڑھتی ہوئی لعنت کے باعث بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔ اس کی روشنی میں چار روز تک باقاعدہ کلاسز نہیں ہوں گی۔ حکم کے مطابق نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے، یعنی بچوں کو چار دن تک اسکول جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔کتوں کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ لوگ کہیں جانے سے پہلے لاٹھی ڈنڈے لے کرگھروں سے باہر نکلتے ہیں۔
نارائن باگڈ علاقہ میں کتوں کی لعنت کو دیکھتے ہوئے علاقہ پنچایت کے سربراہ نے اس سلسلے میں ایک خط بھیجا تھا۔ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات کے بعد چیف ایجوکیشن آفیسر نے اسکولوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسکول جانے والے طلباء کو آوارہ اور پرتشدد کتوں کے ممکنہ خطرات سے بچانا ہے۔ چار روزہ بندش کے دوران بچوں کی تعلیم آن لائن جاری رہے گی۔
یہ حکم نارائن باگڈ علاقے کے 10 اسکولوں پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ سکول 20 اگست سے 23 اگست تک بند رہیں گے۔ اس مدت کے دوران طلباء کو اسکول نہیں بلایا جائے گا۔ آن لائن لرننگ کے ذریعے ان کی تعلیم جاری رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسکول بند ہونے کے باوجود طلباء کی تعلیم مکمل طور پر متاثر نہیں ہوگی۔
نارائن باگڈ علاقے میں کتوں کی لعنت کی وجہ سے اسکولوں کو بند کرنے کے اس فیصلے کا براہ راست تعلق طلباء کی حفاظت سے ہے۔ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے جاری کردہ حکم نامے کے بعد اب 10 اسکولوں میں طلباء چار دن تک آن لائن تعلیم حاصل کریں گے۔
فی الحال، 20 اگست سے 23 اگست، 2026 تک اسکول میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ چیف ایجوکیشن آفیسر، چمولی، آکاش سرسوت نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مدت کے دوران کلاسیں آن لائن کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ ضلع مجسٹریٹ چمولی کی ہدایات اور علاقہ پنچایت کے سربراہ نارائن باگڈ کے ایک خط کے جواب میں کیا گیا ہے۔ نارائن باگڈ کے علاقے میں آوارہ اور پرتشدد کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کو دیکھتے ہوئے طلباء کی حفاظت کو ترجیح دی گئی ہے۔
دیش
جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے سیلاب متاثرین کے لیے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کیےمختص
نئی دہلی/گوہاٹی: بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد اور خاندانوں کی فوری امداد اور مستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے بڑے پیمانے پر امدادی و بازآبادکاری مہم جاری ہے۔ یہ مہم صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی اور صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں سیلاب کے ابتدائی دنوں ہی سے جاری ہے۔
اس جامع مہم کے تحت غذائی اور گھریلو امداد کی فراہمی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا گھر گھر سروے، نقصانات کی درجہ بندی، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی تعاون، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی خصوصی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کا کام کیا جارہا ہے۔بالائی آسام کے سیلاب نے بڑی تعداد میں خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ متعدد مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش تباہ ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرین کے سامنے فوری ریلیف کے ساتھ مستقبل کی بازآبادکاری کا بھی سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بالائی آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مالکِ کائنات کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، کیونکہ بندگی کا تقاضا یہی ہے۔ وہی ہر پریشانی کا حقیقی مداوا کرنے والا ہے، تاہم اسباب کے درجے میں جمعیۃ علماء ہند، اس کے خدام اور اس کی شاخیں اپنی استطاعت بھر مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ کوئی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ جب قدرتی آفت آتی ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ بالائی آسام کے متاثرین میں بھی مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کے لوگ شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت سب کی مدد کررہی ہے۔ یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہی ہمیں ہمارا مذہب اسلام بھی سکھاتا ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی ایک طویل تاریخ ہے کہ اس نے قدرتی آفات، فسادات اور انسانی بحرانوں میں بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد کی ہے۔
بالائی آسام میں بھی ہمارا مقصد محض چند دن کا راشن تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے جن کے گھر، سامان اور زندگی کے وسائل سیلاب نے تباہ کردیے ہیں۔
صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی کام کو محض فوری راشن اور ضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے طے کیا گیا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا باقاعدہ سروے کرکے ان کی مستقل بازآبادکاری میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء آسام کی ٹیمیں مسلسل گھر گھر پہنچ رہی ہیں، تاکہ حقیقی مستحقین کی صحیح نشاندہی، نقصان کا درست تخمینہ اور ضرورت کے مطابق امداد کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔ سیلاب نے بہت سے خاندانوں سے صرف راشن اور گھریلو سامان ہی نہیں چھینا بلکہ ان کے مکانات، ذرائع معاش اور زندگی بھر کی جمع پونجی بھی تباہ کردی ہے، اس لیے فوری امداد کے بعد انہیں تنہا چھوڑ دینا کافی نہیں ہے۔
بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے جاری امدادی و بازآبادکاری مہم میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ روپے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے، جبکہ ایک کروڑ 25 لاکھ روپے عنفر فاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے توسط سے متاثرین کی فوری امداد اور مرحلہ وار بازآبادکاری پر خرچ کی جائے گی۔
سیلاب کے ابتدائی دنوں میں جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر چاول، دال، پیاز، آلو، سرسوں کا تیل، نمک اور دیگر اشیائے خوردونوش بڑی مقدار میں تقسیم کیں۔ خواتین کے مختلف ملبوسات، فینائل اور روزمرہ استعمال کا ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا گیا۔
ابتدائی مرحلے کی امدادی سرگرمیوں پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً چار لاکھ روپے مالیت کی ٹین کی چادریں، ایک لاکھ روپے کا فینائل اور ڈھائی لاکھ روپے کی ادویات بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔
جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے بالائی آسام کے متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ گھر گھر سروے کیا ہے اور اب تک شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائی دیو اضلاع کے متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے۔
اس کام کے لیے تقریباً 30 سے 35 افراد پر مشتمل خصوصی سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کے مطابق خاندانوں کی درجہ بندی کررہی ہے۔ متاثرین کے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی تصدیق بھی کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد حتی الامکان براہِ راست حقیقی مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امداد میں مکمل شفافیت اور مستحق تک براہِ راست تعاون پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
گھر گھر سروے اور نقصانات کی درجہ بندی کی بنیاد پر تقریباً 2,400 سے 2,500 متاثرہ خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
شدید نقصان اٹھانے والے مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے، درمیانی درجے کے نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزار روپے اور نسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک مالی امداد دی جائے گی۔ یہ رقم مستحق خاندانوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تعاون
سیلاب اور اس سے متعلق حادثات میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے بعض خاندانوں کو 50 ہزار روپے فی خاندان اور انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک خصوصی امداد فراہم کی گئی ہے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ کسی انسانی جان کا کوئی مالی نعم البدل نہیں ہوسکتا، تاہم مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے دکھ میں شریک ہونا اور اسے فوری مالی سہارا فراہم کرنا ہماری انسانی ذمہ داری ہے۔
سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچے بھی سامنے آئے ہیں جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو حالات کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ابتدائی طور پر دو بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے اور انہیں فی بچہ دو ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔
اس کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں تاکہ سیلاب سے متاثر ہونے والے طلبہ کی تعلیم کو دوبارہ معمول پر لانے میں مدد مل سکے۔
جمعیۃ علماء آسام نے امدادی سرگرمیوں میں مقامی سماجی تنظیموں کو بھی شریک کیا ہے۔ بیر لاچت سینا کے سربراہ شرتکھر چالیہا، آسام جاتیہ سنگرامی سینا کے صدر چنتو بروا، آسامی یوا منچ کے جنرل سیکریٹری آکاش شیکیا اور پولاس دتو کے توسط سے بھی تقریباً 400 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو اشیائے خوردونوش اور ضروری رہائشی و گھریلو سامان فراہم کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء آسام کی یہ مہم چند دن راشن یا امدادی سامان تقسیم کرکے ختم کردینے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اسی مقصد سے پورے کام کو تین بنیادی مراحل ۔۔ ریلیف، گھر گھر جامع سروے، اور براہِ راست مالی امداد و مستقل بازآبادکاری—میں منظم کیا گیا ہے۔
مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ حقیقی مستحقین کی مکمل بازآبادکاری تک یہ کام جاری رہے گا اور ہر مرحلے پر شفافیت، بلا امتیاز خدمت اور ضرورت مند تک براہِ راست امداد پہنچانے کے اصول کو مقدم رکھا جائے گا۔
دیش
چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کا معاملہ،بنگال سرکار سے ہائی کورٹ نے طلب کی وضاحت
کولکاتہ:کولکاتہ ہائی کورٹ نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ اس نے مغربی بنگال کی مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کے لئے کوئی حکم دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس تاپ ورتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی بنچ نے ایک عرضی پر ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر تحریری حکم کے بنگال میں 4000 مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، اس عرضی پر عدالت نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔ کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ غورطلب ہے کہ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں وکیل دانش فاروقی نے کہا ہے کہ پولیس افسران بغیر کسی تحریری حکم کے لائوڈاسپیکر ہٹادیئے ہیں۔ وہ صوتی جانچ کے بغیر غیر قانونی فرمانوں کی تابعداری کررہے ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی اعتقادات کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 25 کے تحت محفوظ ہے۔ اور لائوڈاسپیکر پر اس طرح کی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاروقی کی نمائندگی کررہے ہیں سینئر وکیل کلیان بندو اپادھیائے نے کہا ہے کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور بنا کسی نوٹس کے چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے۔ اس طرح کی غیر قانونی فرمان سے قانون کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
