دیش
عیدالاضحٰی کے پیشِ نظر مالیگاؤں پولس چھاؤنی میں تبدیل
مالیگاؤں:عیدالاضحٰی کی آمد کے ساتھ ہی مالیگاؤں شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ شہر کی گلیوں، اہم شاہراہوں، حساس علاقوں اور قربانی کے مقامات پر اب صرف زمینی پولیس ہی نہیں بلکہ آسمان سے بھی کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ مالیگاؤں پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
جس کے بعد پورا شہر عملاً ہائی الرٹ زون میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اسی سلسلے میں آج دلاور ہال کی چھت پر ایک خصوصی عملی مظاہرہ کیا گیا جہاں جدید ڈرون کیمروں کو فضا میں اڑا کر ان کی کارکردگی میڈیا نمائندوں اور پولیس افسران کے سامنے پیش کی گئی۔ اس موقع پر موجود ڈی وائی ایس پی سدھارتھ بھروال نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جدید ڈرون کیمرے تقریباً 15 کلومیٹر تک کے علاقوں کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن کے ذریعے شہر کے حساس مقامات، گنجان آبادی والے علاقوں، بھیڑ بھاڑ والی مارکیٹوں، قربانی کے مراکز، مذہبی اجتماعات اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ عیدالاضحٰی کے دوران امن و امان برقرار رکھنا، افواہوں پر قابو پانا، شرپسند عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ڈرون نگرانی کے ذریعے نہ صرف مشتبہ سرگرمیوں کی فوری شناخت ممکن ہوگی بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں برق رفتاری سے کارروائی بھی انجام دی جا سکے گی۔ ذرائع کے مطابق ڈرون کیمروں سے حاصل ہونے والی لائیو فوٹیج کو کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹر کیا جائے گا، جہاں ماہر ٹیمیں ہر لمحہ صورتحال پر نظر رکھیں گی۔شہر میں بڑھتی ہوئی چوکسی کے تحت اضافی پولیس نفری بھی طلب کر لی گئی ہے جبکہ حساس علاقوں میں خصوصی ناکہ بندی، رات کے گشت، موبائل پیٹرولنگ اور اسٹرائیک فورس کی تعیناتی جیسے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں اور اشتعال انگیز پیغامات پر بھی خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شہر کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔
ڈی وائی ایس پی سدھارتھ بھروال نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام پولیس انتظامیہ کا تعاون کریں، غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی مشتبہ شخص، لاوارث سامان یا مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر مکمل امن و امان کا قیام ممکن نہیں، اس لئے ہر شہری کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا۔قابل ذکر بات یہ رہی کہ اس موقع پر شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کے انچارج افسران، کرائم برانچ کے اہلکار، خصوصی دستے اور پولیس انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جنہوں نے ڈرون نگرانی کے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران عیدالاضحٰی کے موقع پر ٹریفک نظام، ہجوم پر قابو پانے، مذہبی مقامات کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔شہر بھر میں جاری ان سخت حفاظتی انتظامات نے جہاں شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کیا ہے وہیں پولیس کی یہ جدید اور سخت نگرانی اب ہر اس عنصر کیلئے واضح پیغام سمجھی جا رہی ہے جو شہر کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ عیدالاضحٰی جیسے مقدس تہوار کو پُرامن، خوشگوار اور محفوظ ماحول میں منانے کیلئے مالیگاؤں پولیس پوری طرح متحرک نظر آ رہی ہے جبکہ ڈرون کیمروں کی گونج نے شہر میں سیکیورٹی کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
دیش
چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کا معاملہ،بنگال سرکار سے ہائی کورٹ نے طلب کی وضاحت
کولکاتہ:کولکاتہ ہائی کورٹ نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ اس نے مغربی بنگال کی مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹانے کے لئے کوئی حکم دیا ہے۔ کارگزار چیف جسٹس تاپ ورتا چکرورتی اور جسٹس اتروپ بنرجی کی بنچ نے ایک عرضی پر ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بغیر تحریری حکم کے بنگال میں 4000 مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے گئے ہیں، اس عرضی پر عدالت نے بنگال سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ بتائے کہ اس نے ایسی کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔ کورٹ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ غورطلب ہے کہ ایک مفاد عامہ کی عرضی میں وکیل دانش فاروقی نے کہا ہے کہ پولیس افسران بغیر کسی تحریری حکم کے لائوڈاسپیکر ہٹادیئے ہیں۔ وہ صوتی جانچ کے بغیر غیر قانونی فرمانوں کی تابعداری کررہے ہیں۔ فاروقی کا کہنا ہے کہ اذان اسلامی اعتقادات کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ جو آئین کی دفعہ 25 کے تحت محفوظ ہے۔ اور لائوڈاسپیکر پر اس طرح کی پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فاروقی کی نمائندگی کررہے ہیں سینئر وکیل کلیان بندو اپادھیائے نے کہا ہے کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ پر دبائو ڈالا اور بنا کسی نوٹس کے چار ہزار مسجدوں سے لائوڈاسپیکر ہٹا دیئے۔ اس طرح کی غیر قانونی فرمان سے قانون کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔
دیش
بارہ سال بعد مظفر نگر فساد کا مقدمہ واپس
مظفر نگرخصوصی ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے 2013 میں مظفر نگر فسادات سے منسلک ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اترپردیش حکومت نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جس پر عدالت نے مظفر نگر کے نگلہ نگوڑ پنچایت معاملے میں سنجو بالیان، سریش رانا، کپل دیو اگروال، ہریندر ملک سمیت کئی لیڈروں پر درج مقدمات واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔
حکومت کے فیصلے کے بعد مظفر نگر فسادات کے 22بی جے پی رہنمائوں کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں یوپی سرکار کے وزیر کپل دیو اگروال ، سابق مرکزی وزیر سنجو بالیان، سابق ریاستی وزیر سریش رانا سمیت کئی لوگوں کے نام شامل تھے۔ 12 سال کے بعد یوگی سرکار کے ذریعہ مقدمہ واپس لئے جانے پر اقلیتی طبقہ میںتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
غورطلب ہے کہ مظفر نگر ضلع میں 27 اگست 2013 کو سکھیڑا تھانہ کے تحت کوال گائوں میں ممیرے بھائیوں سچن اور گورواور شاہنواز کے قتل سے فرقہ ورانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے، اس کے بعد مظفر نگر میں جگہ جگہ تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ 30 اگست کو خالہ پار میں اقلیتی طبقہ کے تحت پنچایت ہوئی تھی ،اس دوران بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ ننگلا مندوڑ کے میدان میں پنچایت منعقد کی گئی جس میں بی جے پی لیڈروں پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزمات لگے۔ جس کے بعد پورے مظفر نگر میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔
جس کے بعد 22 نامزد لیڈروں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ بہرحال 12 سال بعد یوگی سرکار نے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اور پھر عدالت میں اپیل کی۔جس کے بعد ایم پی ، ایم ایل اے عدالت نے مقدمہ واپسی کے احکامات جاری کردئے ہیں۔ خا ص بات تو یہ ہے کہ مظفر نگر فسادکا اہم مقدمہ تھا،جسے حکومت نے واپس لے لیا ہے۔
ریاستی وزیر کپل دیو اگروال نے کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بی جے پی کارکنان اور عوامی نمائندوں پر فرضی مقدمے دائر کیے تھے۔ جو واپس لے لئے گئے ہیں۔
Bihar
چڑھاوا چوری کے خلاف پپویادو کاانوکھا احتجاج،ایم پی نے سادھو سنتوں کوکیا جمع، وزیر اعظم کی رہائش گاہ جانے سے روکے جانے پر سڑک پر لیٹ گئے پپویادو
(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگی کے معاملے پر بہار کے پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو پیر کو سادھو سنتوں کے احتجاج میں شامل ہوئے۔ ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں سادھو سنت منڈی ہاؤس پہنچے تھے، جن کی حمایت میں پپو یادو بھی وہاں پہنچے۔
سادھو سنت چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔ جب دہلی پولیس نے انہیں ایک مقام پر بھیڑ جمع کرنے سے منع کیا تو وہ سڑک پر لیٹ گئے۔ احتجاج کے دوران ان کے ہاتھوں میں تختیاں بھی نظر آئیں۔پپو یادو نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر کے ساتھ پپو یادو نے لکھا:’’چندہ چور گدی چھوڑ، رام جی کے لٹیرے کرسی چھوڑو!رام مخالف کال نیمیوں کے سرپرست وزیر اعظم کواصلی سادھو سنتوں سے خوف کیوں ستا رہا ہے؟‘‘’’جب جب مودی ڈرتے ہیں، پولیس کو آگے کرتے ہیں‘‘ — اس نعرے کو ایک بار پھر وزیر اعظم صاحب نے سچ ثابت کر دیا۔ سادھو سنتوں کے خلاف بھی پولیس بھیج دی!مودی جی، آگے آئیے، یادداشت وصول کیجیے!
پیر کے روز ایودھیا کے رام مندر میں رام دھن کے مبینہ غبن کے معاملے کی سی بی آئی کی نگرانی میں جانچ کرانے کے مطالبے کو لے کر ملک کے مختلف علاقوں سے تقریباً 500 سادھو سنت دہلی کے منڈی ہاؤس میں جمع ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ہنومان گڑھی سے بھی کچھ سادھو اس احتجاج میں پہنچے تھے۔ کئی مہنت، مہامنڈلیشور اور دیگر سادھو سنت بھی اس میں موجود تھے۔سادھو سنت وزیر اعظم کو یادداشت پیش کرنے کے لیے جلوس کی شکل میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے والے تھے۔
لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس کی ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی۔ سکیورٹی وجوہات کے پیشِ نظر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 نافذ ہونے کی وجہ سے جب پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے منع کیا تو کئی سادھو سنت زمین پر لیٹ گئے۔ پورنیہ کے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو بھی زمین پر لیٹ کر نعرے لگانے لگے۔’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے انہوں نے رام بھکتوں کے چڑھاوے میں مبینہ خرد برد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے انہیں حراست میں لے کر دوسری سمت بھیج دیا۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
