دیش
مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر کا مالیگاؤں کی قدیم اردو لائبریری کا دورہ
مالیگاؤں: اردو زبان و ادب کی خدمت، علمی سرگرمیوں کے فروغ اور نئی نسل میں مطالعے کے شوق کو پروان چڑھانے کے جذبے کے تحت مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے مالیگاؤں کی سب سے قدیم اردو لائبریری کا خصوصی دورہ کیا۔ ان کی آمد سے لائبریری کا ماحول علم، ادب اور خوشگوار جذبات سے معمور ہوگیا۔ اس موقع پر انہوں نے لائبریری کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور یہاں موجود علمی و ادبی خدمات کو قریب سے دیکھا۔
سید حسین اختر نے لائبریری میں قائم انفارمیشن سینٹر، کتابوں کے وسیع ذخیرے، نادر و نایاب کتب کے مجموعے، کتابوں کی بہترین ترتیب، ان کے محفوظ رکھنے کے انداز اور قارئین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی زبان اور تہذیب کی بقا کے لیے لائبریریاں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ماضی کی علمی وراثت محفوظ رہتی ہے اور مستقبل کی نسلیں اپنے فکری سفر کا آغاز کرتی ہیں۔
دورے کے دوران چیئرمین موصوف نے خاص طور پر بچوں کے سیکشن کا مشاہدہ کیا اور اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے مطالعے کا الگ ماحول فراہم کرنا ایک نہایت اہم اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر کم عمری میں بچوں کے دلوں میں کتابوں سے محبت پیدا کردی جائے تو یہی بچے مستقبل میں علم و ادب کے چراغ روشن کرنے والے ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بچوں کے شعبے کو نئی نسل کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے ایک مثبت اور مؤثر کوشش قرار دیا۔
لائبریری میں موجود قیمتی، تاریخی اور نایاب کتب کے ذخیرے کو دیکھ کر سید حسین اختر نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو تہذیب، تاریخ، فکر اور ادبی روایت کا ایک قیمتی سرمایہ ہے، جس کی حفاظت اور ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے لائبریری انتظامیہ کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود جس جذبے اور لگن کے ساتھ یہ علمی مرکز اپنی خدمات انجام دے رہا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ چیئرمین مہاراشٹر ساہتیہ اردو اکادمی نے لائبریری کی مزید ترقی، توسیع اور جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں کمپیوٹر کلاسز کے آغاز کی تجویز بھی پیش کی تاکہ طلبہ، نوجوانوں اور اردو سے وابستہ افراد کو جدید ٹیکنالوجی اور عصری علوم سے بھی فائدہ پہنچ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کا فروغ صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ہی اس زبان کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
سید حسین اختر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ممبئی اور دیگر علاقوں کے ریسرچ اسکالرز، محققین اور اردو زبان و ادب سے وابستہ افراد کو اس لائبریری کا دورہ کرنے کی ترغیب دیں گے تاکہ وہ یہاں موجود علمی ذخیرے سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی لائبریریاں تحقیق، مطالعہ اور علمی تبادلے کے لیے نہایت اہم مراکز ثابت ہوسکتی ہیں اور ان کے ذریعے اردو ادب کے نئے گوشے سامنے آسکتے ہیں۔
اس موقع پر لائبریری کے ٹرسٹیان مظہر معاذ شوقی، ڈاکٹر احتشام دانش، عبید الرحمن حکیم، نہال عبداللہ اور جاوید انصاری نے سید حسین اختر کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب میں ممتاز صحافیوں اور ادبی شخصیات وسیم رضا، سلیم شہزاد، خیال اثر، عزیز اعجاز، خالد قریشی اور سہیل قریشی نے بھی شرکت کی اور اس علمی موقع کو یادگار بنایا۔ لائبریرین آصف احمد اور سمید احمد نے ڈاکٹر حسین اختر اور تمام معزز شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دورے اداروں کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور علمی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔یہ دورہ نہ صرف ایک رسمی ملاقات تھی بلکہ اردو زبان، ادب اور تہذیبی ورثے سے محبت کا ایک خوبصورت اظہار بھی تھا۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے علمی و ادبی روابط مستقبل میں بھی جاری رہیں گے اور اردو لائبریریاں نئی نسل کی فکری آبیاری، تحقیق کے فروغ اور زبان و ادب کی خدمت میں اپنا روشن کردار ادا کرتی رہیں گی۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
